وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا تب تک کوئی ڈرافٹ سائن نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی گرانٹ فائل ہوگی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا بہترین اسپتال میں علاج کروایا جائے اور ان سے ملاقاتیں بحال کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے مسلسل تیسری بار تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے، مزمل اسلم نے فنانس کو بہترین انداز میں چلایا ہے اور وہ بجٹ پر دن رات کام کرنے والے تمام پارلیمنٹرینز کے مشکور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 92 ایم پی ایز نے مل کر بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بجٹ 48 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ پیش ہوگا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا جس پر سہیل آفریدی نے انہیں حوصلہ رکھنے کا جواب دیا اور تقریر کے دوران ہدایت کی کہ اپوزیشن ارکان کو پانی پلایا جائے۔