وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری انداز یہی ہے کہ معاملات بات چیت سے حل ہوں، اس لیے وزیراعظم کی 'میثاقِ استحکامِ پاکستان' کی پیشکش کو مانا جائے کیونکہ حکومت ہر طرح کی بات کرنے کو تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سیاسی ڈائیلاگ کے لیے پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں مشاورت جاری ہونے کا کہا ہے اور اپوزیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ باہمی مشاورت کے بعد حکومت کو آگاہ کرے گی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ فاٹا اور پاٹا سے متعلق اپوزیشن نے وزیراعظم سے جو بات کی تھی، اس پر وزیراعظم کی ہدایت کے بعد آج وفد نے بیٹھ کر بات چیت کی ہے، جس میں وزیر خزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے بات کر کے ٹیکس معاملات حل کرائیں گے اور ختم ہونے والی ٹیکس چھوٹ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر انہیں کوئی خدشات ہیں تو ان کا گلہ دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے اور اس پر عدالت ہی فیصلہ کرے گی، جبکہ بانی کی صحت کی بہتری کے لیے اچھے اور اعلیٰ ماہرین موجود ہیں۔