پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے صوبائی بجٹ پر بحث کے دوران حکومت کی معاشی اور زرعی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی مشکلات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ بعض والدین بچوں کی تعلیمی فیسیں ادا نہ کرسکنے کے باعث انتہائی اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معین ریاض قریشی نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی تعلیم کے فروغ کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے اور کسان معاشی مشکلات کے باعث بدحالی کا سامنا کررہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، جس سے مقامی کاشتکاروں کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں گندم برآمد کرنے کی پالیسی اپنائی جائے گی جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ پیدا ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بیرون ملک سے درآمد کی گئی گندم نے مقامی کسانوں کے مفادات کو متاثر کیا، جبکہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شوگر ملوں کے قیام سے کپاس کی کاشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے انتخابی عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انتخابی نتائج کے عمل پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔