ریاض کے ایک خصوصی بچوں کے اسپتال میں فلپائن سے تعلق رکھنے والی دھڑ سے جڑی دو بچیوں کی پیچیدہ سرجری کامیابی سے مکمل کر لی گئی، جسے طبی میدان کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس نازک آپریشن نے نہ صرف ڈاکٹروں کی مہارت کا امتحان لیا بلکہ دونوں ننھی جانوں کے لیے نئی امید بھی پیدا کی۔
سرجری کے دوران ماہر ڈاکٹروں، سرجنز، نرسز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل 22 رکنی ٹیم مسلسل مصروف رہی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس مرحلہ تھا کیونکہ معمولی سی پیچیدگی بھی بچیوں کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ جدید طبی سہولیات اور محتاط منصوبہ بندی کی بدولت ٹیم آپریشن کو کامیابی سے مکمل کرنے میں کامیاب رہی۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ دونوں بچیاں سینے اور پیٹ کے حصے سے آپس میں منسلک تھیں۔ ان کا جگر مشترکہ تھا جبکہ نظامِ ہاضمہ کا ایک حصہ بھی ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھا، جس کی وجہ سے سرجری غیر معمولی حد تک پیچیدہ بن گئی تھی۔ کئی طبی معائنے، تفصیلی جائزوں اور ماہرین کی مشاورت کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔
سرجری کی نگرانی سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کی۔ ان کے مطابق جڑی ہوئی دونوں بچیوں میں سے ایک پیدائشی دل کی بیماری کا شکار تھی، جس کے باعث آپریشن کے دوران خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ تاہم طبی ٹیم نے ہر مرحلے پر انتہائی احتیاط سے کام لیا اور بچیوں کو کامیابی سے الگ کر دیا۔
کامیاب آپریشن کے بعد جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ بچیوں کی والدہ اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ انہوں نے پوری طبی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹیوں کو نئی زندگی دینے پر وہ ہمیشہ سعودی ڈاکٹروں کی احسان مند رہیں گی۔