انڈیا کے میڈیکل داخلہ امتحان نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں پیپر لیک کے الزامات سامنے آنے کے بعد آج دوبارہ امتحان منعقد کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کے میڈیکل داخلہ امتحان نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میںپیپر لیک کے الزامات سامنے آنے کے بعد آج دوبارہ امتحان منعقد کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بار پیپر لیک کو روکنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
سوالات پر مبنی پرچوں کو امتحانی مراکز تک پہنچانے کے لیے انڈین فضائیہ کے طیاروں کا استعمال کیا گیا، جبکہ میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام کو 22 جون تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ٹیلی گرام پر پابندی کیوں لگائی گئی، اور اس کا طلبہ پر کیا اثر پڑا؟ اور یہ بھی نیٹ امتحان اتنا اہم کیوں ہے؟
نیٹ انڈیا میں میڈیکل داخلے کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے اسی امتحان کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اس سال اس امتحان میں 20 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے شرکت کی، اس لیے پیپر لیک کے الزامات نے ملک بھر میں تشویش پیدا کی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض افراد اور گروہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مبینہ طور پر لیک شدہ سوالیہ پرچے فروخت کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ تاہم حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر دعوے جھوٹے تھے اور ان کا مقصد طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ سے رقم بٹورنا تھا۔

ٹیلی گرام پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
دوبارہ امتحان سے قبل حکومت نے ٹیلی گرام کو 22 جون تک عارضی طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ پیغامات میں ترمیم (ایڈٹ) کی سہولت 30 جون تک معطل کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی سفارش پر کیا۔
حکام کے مطابق بعض ٹیلی گرام چینلز پیپر لیک کے نام پر طلبہ کو نشانہ بنا رہے تھے اور امتحان سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلا رہے تھے۔
کچھ چینلز کے نام ہی ایسے تھے جن میں ’پیپر لیک نیٹ‘، ’ری نیٹ 2026‘، ’پرائیویٹ مافیا‘ اور ’ری نیٹ مافیا‘ جیسے الفاظ شامل تھے۔
این ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ تمام دعوے جھوٹے تھے اور ان کا مقصد طلبہ اور ان کے خاندانوں کو دھوکے میں ڈالنا تھا۔
حکام کے مطابق پیغامات میں بعد میں ترمیم کرنے کی سہولت بھی اس لیے معطل کی گئی تاکہ کوئی شخص امتحان کے بعد پیغام میں تبدیلی کر کے یہ تاثر نہ دے سکے کہ اس نے سوالات پہلے ہی شیئر کر دیے تھے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک پلیٹ فارم پر پابندی لگا دینے سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا، کیونکہ دھوکہ دہی کرنے والے عناصر دوسرے پلیٹ فارمز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
ٹیلی گرام کے بانی نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس پابندی سے کروڑوں عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ مسئلہ چند مخصوص گروپس سے متعلق ہے۔

جعلی پیپر فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی
اس سلسلے میں انڈین شہر احمد آباد میں پولیس کے سائبر کرائم سیل نے حال ہی میں راجستھان سے دو افراد کو گرفتار کیا، جن پر الزام ہے کہ وہ ٹیلی گرام کے ذریعے جعلی سوالیہ پرچوں کے نام پر طلبہ سے رقم وصول کر رہے تھے۔
سائبر کرائم سیل کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر ہاردک مکادیہ کے مطابق ’ملزمان کے پاس سے نیٹ یا کسی دوسرے امتحان کا اصل سوالیہ پرچہ یا مواد برآمد نہیں ہوا۔ بنیادی طور پر یہ افراد ٹیلی گرام گروپس کے ذریعے مالی دھوکہ دہی میں ملوث تھے۔‘
این ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کی وجہ سے ٹیلی گرام پر عارضی پابندی ضروری ہو گئی تھی۔
نیٹ گذشتہ چند برسوں سے پیپر لیک کے تنازعات کا شکار رہا ہے، جس کے باعث اس امتحان کے نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ امتحان کی منسوخی اور دوبارہ انعقاد کا سب سے بڑا اثر طلبہ پر پڑا۔

طلبہ پر اس کے کیا اثرات پڑے؟
ہزاروں طلبہ کو دوبارہ تیاری کرنی پڑی، جبکہ امتحان کے نتائج سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا۔ کئی طلبہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے مہینوں کی محنت کے بعد امتحان دیا تھا، لیکن پیپر لیک تنازع کے باعث انھیں دوبارہ اسی مرحلے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
اس سلسلے میں محمد فیضان نامی ایک طالب علم نے بی بی سی اردو کے ادیب انور کو بتایا کہ انھوں نے 2024 میں نیٹ کا امتحان دیا تھا اور تب بھی پیر لیک ہو گیا تھا۔ اس بار بھی انھوں نے امتحان دیا اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے وہ خاصے پریشان اور غم زدہ ہیں۔
ایک دوسرے طالب علم محمد سمیر مانتے ہیں کہ بار بار پیپر لیک نے طلبہ کمیونٹی کو بری طرح پریشان کر دیا ہے اور جب تک اس کا کوئی حتمی حل نہیں نکلتا طلبہ اور ان کے اہل خانہ یونہی پریشان ہوتے رہیں گے۔
طلبہ کی ان پریشانیوں نے اسے سیاسی بحث کا موضوع بھی بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی ایک نیا گروپ، جو خاص طور پر نوجوان نسل میں مقبول ہو رہا ہے، مختلف شہروں میں احتجاج کر رہا ہے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تنظیم کے بانی ابھجیت دیپکے کے مطابق: ’طلبہ کے لیے انصاف اور ذمہ دار افراد کا تعین ضروری ہے۔ پیپر لیک کے واقعات بار بار نہیں ہونے چاہیے اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘
سی جے پی کے مظاہروں کے دوران مرکزی وزیر برائے تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی لگاتار کیا جا رہا ہے۔
'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) نامی ایک نیا گروپ، جو خاص طور پر نوجوان نسل میں مقبول ہو رہا ہے، مختلف شہروں میں احتجاج کر رہا ہے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہا ہے پیپر لیککے باعث بی جے پی اور کانگریس میں بحث
ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس نے بھی اپنی تحریک تیز کر دی ہے۔ تاہم پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی نے بُدھ کے روز انڈین شہر کوٹہ (جہاں ہزاروں نوجوان میڈکل کی تیاری کرتے ہیں) میں طلبہ کے ساتھ ایک مباحثہ منعقد کیا۔
اس موقعے پر لوک سبھا میں حزب مخالف کے رہنما اور سینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے طلبا سے بات چیت کی۔ اس بات چیت کو ’طالب علموں کی گونج‘ کا نام دیا گیا، جس میں راہل گاندھی نے ملک کے موجودہ تعلیمی نظام پر سوال اُٹھائے۔
انھوں نے کہا کہ کانگریس ’طالب علموں کی گونج‘ پروگرام کو کوٹہ کے بعد لکھنئو، پٹنہ اور دہلی میں منعقد کرے گی اور ’تعلیمی نظام‘ اور ’پیپر لیک‘ کے مسائل اُٹھائے گی۔
انھوں نے مزید کہا، ’یہ پروگرام سیاسی نہیں ہے۔ یہ نوجوانوں، طلبا کی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ آج صرف طالب علموں اور نوجوانوں کی بات ہو گی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’پانچ امتحانات کی تیاری میں خاندانوں کی جیب سے پانچ لاکھ کروڑ روپے نکل جاتے ہیں۔ یہ پانچ وزارتوں کا بجٹ ہے۔‘
راہل گاندھی نے یہ الزام لگایا کہ، ’یہ بس پیسہ وصولنے کا نظام بن چکا ہے۔ ایک ہزار لوگوں میں سے صرف بارہ کو ہی روزگار ملتا ہے۔ انڈیا میں سو میں سے اسی انجینئر بیروزگار ہیں۔‘
انھوں نے سٹوڈنٹس کو کیریئر کے اختیارات منتخب کرنے اور پسندیدہ سٹریم چننے پر زور دینے کی بات کی۔
پروگرام میں پہنچنے والی مہک یادو نے بی بی سی سے کہا، ’نیٹ میں 685 نمبر بن رہے تھے، لیکن پیپر لیک ہو گیا۔ اب دوبارہ امتحان دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے پیپر لیک کا مسئلہ اٹھایا ہے تو امید جاگی ہے۔‘
دوسری جانب حکمراں جماعت بی جے پی نے راہل گاندھی کے اس پروگرام کو نیٹ پر ’نوٹنکی‘ اور ’کامیڈی سرکس‘ قرار دیا ہے۔
بی جے پی رہنما ارون چترویدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، ’کوٹہ میں راہل گاندھی نیٹ کے نام پر نوٹنکی کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی سٹوڈنٹس کے مستقبل کے ساتھ کھیل کر ملک کو پیچھے لے جانے کا کام کر رہے ہیں۔‘