نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ پاکستان 47 سال میں پہلی بار ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر ایک جگہ لانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس سفارتی عمل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے عالمی معیشت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
اسحاق ڈار کے مطابق، اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے تین تکنیکی ٹیمیں کام کر رہی ہیں جو جوہری مسئلے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان کی موجودہ صورتحال جیسے اہم امور پر گفتگو کر رہی ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے جوہری ذخیرے کی افزودگی کی سطح کو کم کرنے پر بھی اتفاق پایا گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تمام مسائل کا واحد حل صرف سفارت کاری ہی ہے اور امید ہے کہ یہ عمل مثبت انداز میں آگے بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ 60 روز تک آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی کوئی ٹرانزٹ یا سروس فیس وصول نہیں کی جائے گی۔