تربت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کالعدم مسلح تنظیموں کے سہولت کار ساجد احمد کو مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنا دی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ساجد احمد کو دہشت گردی سے متعلق جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا دی گئی جبکہ بلوچستان آرمز ایکٹ کے تحت مزید 7 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ساجد احمد کو پنجگور میں ایک کارروائی کے دوران اسلحہ اور دھماکا خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران اس کے کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے مبینہ روابط سامنے آئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم طلبہ کو کالعدم تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دینے اور بھرتی کے عمل میں سہولت کاری کے الزامات میں بھی ملوث رہا۔ مزید برآں اس کے بیرونِ ملک موجود نیٹ ورکس سے روابط اور خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کے ٹاسک سے متعلق شواہد بھی تفتیش میں سامنے آئے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت تربت نے شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم جاری کیا۔