پاکستان نے کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کے بعد افغان طالبان حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شب افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کراچی دہشت گرد حملے پر احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا گیا، جبکہ اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کراچی حملے میں افغان شہری ملوث تھے اور ایک حملہ آور کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس واقعے سے ایک مرتبہ پھر یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہریوں کو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور افغان شہری مسلسل پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہورہے ہیں۔