عادی مجرموں اور ’سماج دشمن رویوں‘ کی روک تھام سے متعلق متنازع مجوزہ قانون سازی پر اپوزیشن اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی تنقید کے بعد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اراکینِ پنجاب اسمبلی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس بِل کو دوبارہ غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی بھیجا جا رہا ہے جبکہ اِس پر مزید کارروائی اگست 2026 تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
عادی مجرموں اور ’سماج دشمن رویوں‘ کی روک تھام سے متعلق متنازع مجوزہ قانون سازی پر اپوزیشن اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی تنقید کے بعد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اراکینِ پنجاب اسمبلی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس بِل کو دوبارہ غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی بھیجا جا رہا ہے جبکہ اِس پر مزید کارروائی اگست 2026 تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
یہ بِل، جسے ’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئر ایکٹ 2026‘ کا عنوان دیا گیا ہے، اُس وقت زیر بحث آیا جب 28 جون (اتوار) کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سپیکر ملک احمد خان نے اس معاملے پر حیرانی کا اظہار کیا کہ اُن کے علم میں لائے بغیر یہ بِل اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کو کیسے ریفر ہوا؟
’یہ بِل پیش ہو چکا ہے، ہاؤس میں؟ تو آپ نے میرے دستخط نہیں کروانے (اس پر)۔ کوئی بل جب ایوان میں پیش ہوتا ہے تو کیا سپیکر کو نہیں بتانا چاہیے۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں ہے۔ مجھے اس پر شدید اعتراض ہے۔‘
سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس معاملے پر (انھیں) ’لاعلم رکھنے‘ پر اسمبلی سیکریٹریٹ سے خفگی کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا تھا۔
سپیکر کی جانب سے یہ ریمارکس اُس وقت سامنے آئے تھے جب فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے رُکنِ اسمبلی رانا آفتاب نے اس بل کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے سپیکر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بل کو منظور ہونے سے روکیں۔
پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ حکومتی بل آٹھ جون کو ایوان میں پیش کیا گیا تھا اور پھر اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو ریفر کر دیا گیا تھا۔
آٹھ جون کو جب یہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اُس وقت اجلاس کی صدارت ملک احمد خان کے بجائے پنجاب اسمبلی کے رُکن افتخار احمد چھچھر کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی غیر موجودگی میں پینل آف چیئر میں شامل ارکان اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔
پیر (29 جون) کے روز ہونے والے اجلاس کے دوران سپیکر ملک احمد خان نے اِسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ دراصل آٹھ جون کو وہ اجلاس کی صدارت نہیں کر رہے تھے اور اسی لیے مجوزہ بِل سے متعلق معاملات اُن کے نوٹس میں نہیں تھے۔
اپوزیشن رہنما اور قانونی ماہرین اس بل کو ’انگریز دور کے سخت قوانین‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔
جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس مجوزہ بِل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'بظاہر یہ بل انتظامیہ کو ایسے وسیع اختیارات فراہم کرتا ہے جن کے تحت مناسب عدالتی نگرانی اور قانونی کارروائی (ڈیو پروسیس) کے بغیر لوگوں پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔'
اس بل پر ہونے والی تنقید سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ یہ مجوزہ بِل ہے کیا اور ’عادی مجرم اور سماج مخالف رویوں‘ سے کیا مراد ہے؟
’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئر ایکٹ 2026‘ ہے کیا؟
’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئر ایکٹ 2026‘ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ایسے عادی مجرموں اور سماج دشمن رویوں کو قابو میں لانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے جو ریاست کی عملداری پر اثر انداز ہوتے ہوں، عوامی سطح پر بدامنی یا پریشانی کا باعث بنتے ہوں اور معاشرے کو مجرمانہ سرگرمیوں سے دوچار کرتے ہوں۔
بل کے تحت صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انٹیلیجنس کمیٹیاں تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے جو پولیس، سول افسران اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل ہوں گی۔
بل میں ’سماج مخالف رویوں‘ کی درجہ بندی بھی کی گئی ہے جس میں شراب اور جوا خانہ چلانے والے افراد، منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے منسلک افراد، جھوٹی گواہیاں دینے والے، جعلی دستاویزات بنانے والے افراد شامل ہیں۔
بل میں قحبہ خانہ چلانے اور سرکاری ملازمین کے ساتھ مل کر بدعنوانی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور چیریٹی کے نام پر دھوکہ دینے کو بھی سماج مخالف رویوں‘ کی ذیل میں رکھا گیا ہے۔
فحش زبان استعمال کرنے، لوگوں کو تنگ کرنے، دھمکی دینے، لڑکیوں یا خواتین خصوصاً 18 سال سے کم عمر افراد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، عوام میں فحش حرکات کرنے یا کسی جھگڑے کے ذریعے عوام میں انتشار پھیلانے، افواہیں پھیلانے، اسلحے کی نمائش، کسی بھی قسم کی دھمکی دے کر جائیداد ہتھیانے کو بھی سماج مخالف رویوں کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کسی تھانے کے انچارج، اسسٹنٹ کمشنر یا سب ڈویژنل انفورسمنٹ افسر کی رپورٹ یا انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی جانب سے تحریری شکایت پر مختلف سرگرمیوں کے مجموعے کو ’سماج مخالف رویہ‘ قرار دے سکتی ہے۔
لیکن کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی سے پہلے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی ابتدائی طور پر اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کروا کر شکایت کی تصدیق کرے گی۔
مجاز اتھارٹی اس شخص کا نام PNIL (عارضی قومی شناختی فہرست) میں شامل کرنے، پاسپورٹ یا قومی شناختی کارڈ یا دونوں کو بلاک کرنے کی سفارش یا مجاز اتھارٹی کو اس شخص کا نام سائبر سپیس سے ہٹانے اور اس مقصد کے لیے کوئی بھی گیجیٹ (آلہ) ضبط کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔
’عادی مجرم‘ کا تعین کیسے ہو گا؟
بل میں کسی بھی جرم میں ایک سے زیادہ مرتبہ گرفتار ہونے والے شخص اور عادتاً غیر سماجی رویے یا منظم مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے شخص کو ’عادی مجرموں‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی ضلعی پولیس کے سربراہ کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے کسی شخص کو ’عادی مجرم‘ قرار دینے کی سفارش کرے۔
مجسٹریٹ عادی مجرم کے ساتھ کم از کم تین ماہ کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس منسلک کرنے کا حکم دے سکے گا اور عادی مجرم مجسٹریٹ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی تعمیل کے لیے تحریری طور پر ایک ضمانتی بانڈ جمع کروائے گا۔

بل پر تنقید: ’سماج مخالف رویے کی مبہم تعریف کی گئی ہے‘
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں اور بعض قانونی ماہرین اس بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رُکن رانا آفتاب نے اس معاملے پر سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط بھی لکھا تھا اور اس بل کو دوبارہ غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ موجود شکل میں یہ بل عدالتی نگرانی کے اختیارات کو کم کرتا ہے اور ایگزیکٹیو اتھارٹی کو کافی حد تک وسعت دیتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس سے کئی قانونی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور اس سے ایگزیکٹیو اتھارٹی کو اپنی من مانی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ سماج مخالف رویے کے تعین کا اختیار کسی عدالتی فورم کے بجائے ایک ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کو دینا خطرناک عمل ہے۔
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ اُنھیں تو یہ لگتا ہے کہ اس بل کو بھی اپوزیشن کو دبانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹی میں اس پر اعتراض نہ اُٹھانے کے سوال پر رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان تحریکِ انصاف کسی بھی قائمہ کمیٹی کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ اس متنازع بِل کا راستہ نہیں روک سکے۔
اُن کے بقول آٹھ جون کو بھی اس بِل کو انتہائی سرعت کے ساتھ پیش کر کے متعلقہ کمیٹی کو ریفر کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی اس پر حیرانی کا اظہار کیا۔
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو عدالت سے سزا نہ ہونے کے باوجود نگرانی، پابندیاں، اثاثوں کو منجمد کرنے اور نگرانی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بل محض انٹیلیجنس رپورٹس، پوچھ گچھ یا الزامات کی بنیاد پر زبردستی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ اس بل میں الیکٹرانک بریسلٹ اور افراد کی مسلسل نگرانی کی تجویز دی گئی ہے جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔
حکومت کی وضاحت
یاد رہے کہ یہ بل آٹھ جون کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رُکن پنجاب اسمبلی خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا تھا۔
خالد محمود رانجھا پارلیمانی سکریٹری برائے قانون اور پارلیمانی اُمور بھی ہیں۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس بل پر ہونے والی تنقید بلاجواز ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ کیا قحبہ خانہ چلانا، کسی کو دھوکہ دینا، جوئے کا اڈہ چلانے، یا جائیداد پر قبضے کرنا وغیرہ ’سماج مخالف رویے‘ نہیں ہیں؟
خالد محمود رانجھا کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو سفارش کرنی ہے کہ فلاں شخص کو عادی مجرم قرار دے دیں، عدالت نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ اسے عادی مجرم قرار دینا ہے یا نہیں۔
پاسپورٹ ضبط کرنے، شناختی کارڈ بلاک کرنے یا موبائل فون ضبط کرنے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کرنے جیسی سفارشات پر خالد محمود رانجھا کا کہنا تھا کہ یہ احتیاطی تدابیر کے طور پر اور ایک مخصوص مدت کے لیے ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر متاثرہ شخص سمجھے گا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ مجسٹریٹ سے رُجوع کر سکے گا اور مجسٹریٹ کے فیصلوں کے خلاف بھی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔
خالد محمود رانجھا کا کہنا تھا کہ یہ قانون بنیادی طور پر کسی بھی جرم، انتشار یا معاشرے میں کسی بگاڑ سے پہلے ہی اس کے آگے بند باندھتا ہے۔
اگر کوئی بھی شخص نقض امن کا مسئلہ پیدا کرتا ہے، کوئی افواہ پھیلاتا ہے، تو اسے کمیٹی بلائے گی اور اس کی تحقیقات کرے گی، اسے دفاع کا موقع دیا جائے گا۔ اگر کمیٹی سمجھے گی کہ کافی شواہد موجود ہیں تو پھر وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے ذریعے یہ معاملہ مجسٹریٹ عدالت کو بھیجے گی۔
اُن کے بقول مجسٹریٹ کی عدالت ہی حتمی فیصلہ کرے گی کہ کوئی شخص عادی مجرموں کی فہرست میں آتا ہے یا نہیں۔
خالد محمود رانجھا کا کہنا تھا کہ یہ بل ضوابط کے مطابق پہلے اسمبلی میں پیش ہوا اور اس کے بعد قائمہ کمیٹی کے پاس گیا اور وہاں سے منظوری کے بعد دوبارہ ایوان میں آیا تھا اور اب ارکان کو ہی اس پر فیصلہ کرنا تھا کہ آیا اسے منظور کرنا ہے یا نہیں۔