لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مستری سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ انفورسمنٹ آفیسر کی مدعیت میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں مکان میں رہائش پذیر تین بھائیوں عثمان، فیضان اور ریحان کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ عمیر نامی مستری کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ریحان کی اہلیہ عامیلہ نے گھر کے ایک کمرے میں ٹیوشن سینٹر قائم کر رکھا تھا۔ واقعے کے روز خستہ حال چھت کی مرمت کے دوران اضافی بوجھ پڑنے سے چھت زمین بوس ہوگئی، جس کے نتیجے میں 14 بچے اور بچیاں جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں عامیلہ بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب سانحے میں جاں بحق ہونے والی دو بچیوں ماہ نور اور تسبیح شہزاد کی نماز جنازہ مقامی جنازہ گاہ میں ادا کر دی گئی، جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ہی حادثے میں جاں بحق 14 بچوں میں سے 9 کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔گزشتہ شب علی، دعا، ارتضیٰ، رمشا، عبداللہ، ایمان فاطمہ اور عروج فاطمہ کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔