جھیل کی سیر کے دوران کشتی ایک بڑے پتھر سے ٹکرائی اور پلٹ گئی، جس کے بعد ہمارے خاندان کے سات افراد پانی میں ڈوب گئے۔ ہمیں اس سانحے کی اطلاع اگلی صبح ملی۔ بچوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ غسل کے دوران بھی ان کے سروں سے خون آ رہا تھا۔ اب صبر کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔
سوات کی وادی کالام میں واقع جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کے المناک حادثے نے لاہور کے ایک خاندان کو اجاڑ دیا۔ حادثے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ امریکا سے پاکستان آنے والی خاندان کی بڑی بیٹی اب بھی لاپتہ ہے اور ریسکیو اہلکار جھیل میں اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جاں بحق عامر گھمن کے کزن عامر ہندل کے مطابق حادثہ بدھ کی شام اس وقت پیش آیا جب خاندان جھیل کی سیر کے لیے کشتی میں سوار تھا۔ کشتی میں کئی مسافر موجود تھے کہ اچانک وہ جھیل میں موجود ایک بڑے پتھر سے ٹکرا گئی۔ شدید ٹکر کے بعد کشتی کا توازن بگڑ گیا اور وہ پانی میں الٹ گئی۔
کشتی الٹنے کے بعد عامر گھمن اور ان کے خاندان کے سات افراد جھیل کے پانی میں جا گرے۔ حادثے میں عامر گھمن، ان کی تین بیٹیاں، ایک بیٹا اور دو کم سن بچے شامل تھے۔ متاثرہ خاندان لاہور سے تفریح کے لیے پہلے اسلام آباد اور پھر کالام پہنچا تھا جہاں انہوں نے جھیل سیف اللہ کی سیر کا پروگرام بنایا۔
خاندان کی بڑی بیٹی 24 جون کو امریکا سے پاکستان پہنچی تھی اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس سفر میں شامل تھی۔ تاہم حادثے کے بعد اس کی لاش تاحال نہیں مل سکی۔ ریسکیو ٹیمیں جھیل اور اس کے اطراف میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے چھ افراد، جن میں دو کم سن بچے بھی شامل تھے کی نماز جنازہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں واقع مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں رشتہ داروں، دوستوں اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جہاں ہر آنکھ غم سے نم تھی۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ چند لمحوں کی سیر نے پورے خاندان کی زندگی بدل دی۔ ان کے لیے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک پیاری بیٹی اب بھی جھیل کی گہرائیوں میں لاپتہ ہے جبکہ خاندان اس امید میں ہے کہ ریسکیو اہلکار اسے جلد تلاش کر لیں گے۔