معرکۂ کارگل میں جرات، بہادری اور عزم و استقلال کی لازوال داستان رقم کرنے والے نشانِ حیدر کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
کیپٹن کرنل شیر خان پاکستان ملٹری اکیڈمی سے براہِ راست 27 سندھ رجمنٹ میں تعینات ہونے والے پہلے افسر تھے۔ انہوں نے معرکۂ کارگل میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور جامِ شہادت نوش کیا، جس پر انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی جرات، وطن سے محبت اور بے مثال قیادت کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔ وہ 1996 میں کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوئے اور تعلیم، کھیلوں اور عسکری تربیت کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
شہید کو ہتھیاروں اور نشانہ بازی سے خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ ایک بہترین فائرر اور ماہر نشانے باز تھے اور پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہونے والے مختلف شوٹنگ مقابلوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔
یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا، جبکہ مقررین شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کریں گے کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، کیونکہ شہدا کی عظیم قربانیاں اتحاد، یکجہتی اور وطن سے وفاداری کا درس دیتی ہیں۔