اقوام متحدہ کی فوڈ سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان نے بھارتی مندوب کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی بیانات کا سہارا لے رہا ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں، جبکہ معاہدے کے آرٹیکل 12 کے تحت یہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس کی تمام شقیں دونوں فریقوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہیں۔
پاکستانی نمائندے نے مزید کہا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقوق پر حملہ اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت پاکستان کو دریاؤں کے قانونی اور معاہدے کے تحت حاصل حصے سے محروم نہیں کر سکتا، اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔