بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کی وجہ سامنے آگئی، عاقب جاوید کا اہم انکشاف

image

سینئر سلیکٹر عاقب جاوید نے ٹیسٹ کپتانی میں مسلسل قیادت اور گیم مینجمنٹ کے مسائل کا ذمہ دار برطرف کیے گئے ٹیسٹ کپتان شان مسعود اور ٹیم مینجمنٹ کو ٹھہرایا ہے، اور اسے بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ کپتانی میں تبدیلی کی وجہ انفرادی کارکردگیاں نہیں تھیں۔ عاقب جاوید، جو پی سی بی میں ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس بھی ہیں، نے کہا کہ قیادت اور گیم مینجمنٹ کے حوالے سے مسلسل مسائل سامنے آ رہے تھے جنہیں قومی سلیکٹرز نے نوٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کا ماننا ہے کہ بابر اعظم طویل مدتی استحکام فراہم کرنے کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں، کیونکہ پاکستان کو ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے چیلنجنگ ٹیسٹ دوروں کی تیاری کرنی ہے۔

سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر نے کہا کہ مختلف حالات (کنڈیشنز) میں حریف ٹیم کے لوئر آرڈر بلے بازوں کو آؤٹ کرنے میں پاکستان کی ریڈ بال ٹیم کی ناکامی گہرے قائدانہ مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ"بابر کو واپس لانے کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ہم جہاں بھی کھیلے، چاہے وہ آسٹریلیا ہو، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز یا بنگلا دیش، ہم مختلف حالات اور مختلف بولرز کے باوجود لوئر آرڈر بلے بازوں کو آؤٹ نہیں کر پا رہے تھے، اور یہ چیز ہمارے لیے قیادت اور گیم مینجمنٹ میں مسائل کی نشاندہی کرتی تھی۔"

عاقب جاوید نے یہ بھی کہا کہ پی سی بی طویل مدتی پروگرام کے تحت بابر اعظم کی بطور ٹیسٹ کپتان پشت پناہی کرے گا اور اگلے دو یا تین سال تک ان کی کارکردگی کا فیصلہ (جج) نہیں کیا جائے گا۔

عاقب کا کہنا تھا کہ بابر کے پاس ٹیم کی اچھی قیادت کرنے کے لیے کافی کرکٹ میچورٹی اور تجربہ ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک اہم کھلاڑی ہیں۔ ہمارا منصوبہ انہیں بطور کپتان دو سے تین سال کا وقت دینا ہے۔ ہر کپتان ایک نئی سوچ لے کر آتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو متحرک کریں گے۔

بابر اعظم، جنہوں نے خود 2023 میں ٹیسٹ کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا جب انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ وائٹ بال فارمیٹس میں قیادت نہیں کریں گے، اس سے قبل 2020 اور 2023 کے درمیان 20 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کر چکے ہیں، جن میں سے انہوں نے 10 میچ جیتے، چھ ہارے جبکہ چار میچ ڈرا ہوئے۔

بطور کپتان شان مسعود کا دورِ حکومت کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا کیونکہ وہ 16 ٹیسٹ میچوں میں سے 12 ہار گئے، باوجود اس کے کہ انہوں نے 2023 کے موسم سرما میں آسٹریلیا میں ایک اچھا آغاز کیا تھا جہاں پاکستان کے پاس دو بار ٹیسٹ جیتنے کے مواقع موجود تھے۔

شیڈول کے مطابق، پاکستانی ٹیم 13 جولائی کو ویسٹ انڈیز کے لیے روانہ ہوگی، جہاں وہ 18 جولائی سے چار روزہ وارم اپ میچ کھیلے گی، جس کے بعد ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو میں 25 سے 29 جولائی اور 2 سے 6 اگست تک دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔

کیربین دورے کے بعد، پاکستانی ٹیم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ کا سفر کرے گی۔ پہلا ٹیسٹ 19 سے 23 اگست تک لیڈز کے ہیڈنگلے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کے بعد دوسرا ٹیسٹ 27 سے 31 اگست تک لارڈز میں ہوگا۔ اس سیریز کا اختتام 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن اسٹیڈیم میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے ساتھ ہوگا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US