موبائل فون کا استعمال ریڑھ کی ہڈی، جلد اور بینائی کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

تازہ ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات آپ کی گردن کی ساخت میں تبدیلی لا سکتے ہیں، آپ کی بینائی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور آپ کے پٹھوں کی طاقت کم کر سکتے ہیں۔

آپ کے آلات آپ کے جسم کو ان طریقوں سے بدل رہے ہیں جن کا شاید آپ کو احساس تک نہ ہو۔ لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔

جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سکرین پر گزارا گیا وقت ہم پر کیا اثرات ڈال سکتا ہے تو عموماً ہماری توجہ ذہن پر مرکوز ہوتی ہے۔

مگر حال ہی میں جب میں نے ایک دن نیچے دیکھا تو اپنی چھوٹی انگلی پر سخت جلد کا ایک چھوٹا سا ابھار دیکھا۔ یہ بالکل اسی جگہ تھا جہاں میں اپنا فون ٹکاتا ہوں۔

اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا: میرا فون میرے باقی جسم کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟

یہ جاننے کے لیے میں نے کچھ ماہرین سے رابطہ کیا۔

جواب، شاید آپ کو پہلے ہی اس کا اندازہ ہو۔۔۔ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

تازہ ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات آپ کی گردن کی ساخت میں تبدیلی لا سکتے ہیں، آپ کی بینائی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور آپ کے پٹھوں کی طاقت کم کر سکتے ہیں۔

لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہماری زندگیوں کے باعث جھریاں بڑھ رہی ہیں۔

اور ان میں سے بعض جسمانی مسائل بعد ازاں ذہنی صلاحیتوں میں کمی یا دیگر زیادہ سنگین مسائل کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم آپ کا کیا خیال ہے، مگر میں یہ سب خاموشی سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں (خاص طور پر اس لیے کہ مسلسل بیٹھے رہنا خود مسئلے کا ایک حصہ ہے)۔

خوش قسمتی سے اگر آپ نہیں چاہتے کہ ٹیکنالوجی آپ کے جسم کو نقصان پہنچائے تو چند ایسی چیزیں ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی کی ساخت میں بگاڑ

اگر آپ یہ مضمون فون پر پڑھ رہے ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ اسے دیکھنے کے لیے اپنا سر نیچے جھکائے ہوئے ہیں۔

اس طرح کی فارورڈ ہیڈ پوسچر آپ کی گردن پر 60 پاؤنڈ (27 کلوگرام) تک دباؤ ڈال سکتی ہے۔

وقت کے ساتھ یہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے ڈسکس کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جوڑوں اور پٹھوں کے انحطاط کا سبب بن سکتی ہے اور حتیٰ کہ پھیپھڑوں کی گنجائش بھی کم کر سکتی ہے۔

اس کے لیے ایک عرفی نام بھی موجود ہے: ٹیک نیک۔

یہ آپ کے جسم کی ظاہری ساخت کو مستقل طور پر بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر کی منظوری سے مخصوص ورزشیں اس مسئلے کی اصلاح میں مدد دے سکتی ہیں۔

مگر کچھ آسان تبدیلیاں ایسی بھی ہیں جن پر آپ ابھی عمل شروع کر سکتے ہیں: اپنا فون زیادہ اونچا رکھیں۔

سکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں، اور بہتر یہ ہے کہ وہ آپ کے چہرے سے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر ہو۔

کمپیوٹر مانیٹرز کے لیے بھی یہی مشورہ ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکرین سے وقفے لینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کوشش کریں کہ ہر آدھے گھنٹے بعد 20 منٹ کا وقفہ لیں۔

جِلد کی جلن اور گردن پر جھریاں؟

حال ہی میں ایک نئی تشویش سامنے آئی ہے: کیا ٹیک نیک گردن پر جھریاں ڈال رہا ہے؟

برطانیہ میں رائل کالج آف فزیشنز کی فیلو اور کنسلٹنٹ ڈرماٹولوجسٹ جسٹین ہیکسٹل کہتی ہیں: ’یہ بات معقول لگتی ہے۔‘

ان کے مطابق بار بار پڑنے والا دباؤ جھریوں کا باعث بنتا ہے، اس لیے مسلسل آگے جھکنا اور گردن کو موڑنا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔

تاہم ہیکسٹل کہتی ہیں کہ اب تک ایسی کوئی مضبوط تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے اس تعلق کو ثابت کیا جا سکے۔

وہ آن لائن سامنے آنے والی خصوصی ’ٹیک نیک‘ مصنوعات خریدنے کے خلاف مشورہ دیتی ہیں۔

تاہم جلد کے دوسرے مسائل ضرور تشویش کا باعث ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سمارٹ واچ کبھی نہیں اتارتے۔

وہ کہتی ہیں: ’تاریک اور نم ماحول [جیسے گھڑی کے نیچے کا حصہ] خمیر کی افزائش کے لیے بہترین ہوتا ہے، اس لیے وہاں جلن یا حتیٰ کہ ایکزیما بھی ہو سکتا ہے۔‘

اور چونکہ اس سے جلد کی حفاظتی تہہ متاثر ہو سکتی ہے، ہیکسٹل کے مطابق اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض اجزا کے لیے حساسیت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جن میں نکل، ربڑ، لیٹیکس اور ایکریلیٹس نامی کیمیکلز کا ایک گروپ شامل ہے۔

اس کا حل سادہ ہے: اپنی سمارٹ واچ زیادہ مرتبہ اتاریں اور جلد کو دھوئیں۔

وہ یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ اگر آپ سارا دن گھڑی پہننے والے ہیں تو حفاظتی کریم استعمال کریں۔

بینائی کا کمزور ہونا

مایوپیا (قریب کی نظر کا کمزور ہونا) کی شرح کئی دہائیوں سے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اگر آپ غور کریں کہ کیا کچھ بدلا ہے تو ٹیکنالوجی کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان لگتا ہے۔

امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں آپٹومیٹری کے پروفیسر ڈونلڈ متی کے مطابق بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، مگر شاید اس انداز میں نہیں جیسے آپ سوچتے ہیں۔

متی کہتے ہیں: ’ہم نے بچوں کی آنکھوں کی نشوونما پر 20 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ایک طویل المدتی مطالعہ کیا، جس میں مایوپیا کے آغاز اور بڑھنے کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔‘

ایک اہم سوال یہ تھا کہ آیا مایوپیا اور ’قریب سے کیے جانے والے کام‘ میں کوئی تعلق ہے، یعنی وہ سرگرمیاں جن میں نظر کسی ایسی چیز پر مرکوز رہتی ہے جو چہرے کے قریب ہو، مثلاً فون۔

وہ کہتے ہیں: ’جواب تھا، نہیں۔‘

تاہم اس تحقیق سے ایک اور بات سامنے آئی: باہر گزارا گیا وقت حفاظتی اثر رکھتا ہے۔

متی کہتے ہیں: ’خیال یہ ہے کہ بیرونی ماحول کی تیز روشنی ریٹینا سے ڈوپامین کے اخراج کو تحریک دیتی ہے‘، اور بظاہر یہ آنکھوں کی نشوونما کے انداز پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی دنیا بھر میں اس تبدیلی کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنا زیادہ وقت گھروں کے اندر گزارتے ہیں۔

اس لحاظ سے، متی کے خیال میں، آپ کے آلات بالواسطہ طور پر آپ کی آنکھوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

مٹی کے مطابق اس کا حل سادہ ہے: آپ کو زیادہ وقت باہر گزارنے کی ضرورت ہے۔

یہ صرف آپ کی آنکھوں ہی کے لیے اچھا نہیں بلکہ بہتر نیند میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

البتہ دھوپ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے سن سکرین اور دھوپ کا چشمہ ضرور استعمال کریں۔

کمزور ہاتھ

گرفت کی طاقت کو اب مجموعی صحت کے ایک اہم اشاریے کے طور پر زیادہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ ابتدائی موت کی پیش گوئی بلڈ پریشر سے بھی بہتر انداز میں کرتی ہے۔

اور بہت سے ممالک میں، خاص طور پر نوجوانوں میں، گرفت کی طاقت کم ہو رہی ہے۔

جرمنی کی میڈیکل یونیورسٹی آف لاؤزٹس میں میڈیکل سوشیالوجی کے پروفیسر یوہانس بیلر کہتے ہیں: ’نسل در نسل آنے والی یہ کمی صرف کمزور ہاتھوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ نوجوان نسلوں کی مستقبل کی صحت کے بارے میں ایک ابتدائی انتباہ بھی ہو سکتی ہے۔‘

’یہ ماننے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ کمپیوٹر پر مبنی، کم جسمانی حرکت والی ملازمتوں کی طرف منتقلی جسمانی فٹنس میں کمی کا سبب بن رہی ہے‘، اور یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس سے گرفت کی طاقت بھی متاثر ہو۔‘

آپ کو ایک ٹینس بال کو اپنی پوری قوت سے دبانے اور 15 سے 30 سیکنڈ تک اسی طرح برقرار رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔

تاہم معاملہ صرف گرفت کا نہیں، بلکہ مجموعی جسمانی فٹنس بہتر بنانے کا بھی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، جم جائیں اور ورزش کریں۔

ہاتھ اور آنکھ کا باہمی ربط

ایسا لگتا ہے کہ ٹیکنالوجی حرکی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے، یعنی وہ قابلیتیں جو درست حرکات کے لیے ذہن اور جسم کو باہم جوڑتی ہیں۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف ریگنزبرگ میں ارتقائی نفسیات اور تعلیم کے پروفیسر سباسچیان زوگیٹ کہتے ہیں کہ یہ آپ کو کلک کرنے اور سوائپ کرنے جیسے کاموں میں بہتر بنا سکتی ہے۔

’لیکن اگر آپ وسیع تر صلاحیتوں کی نشوونما، خصوصاً باریک اور دقیق مہارتوں کی ترقی کو دیکھیں، تو شواہد منفی اثر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘

ہم بچوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بالغوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانتے ہیں۔

زوگیٹ کی اپنی تحقیق یہ تعلق ظاہر کرتی ہے کہ سکرین کے زیادہ استعمال کا تعلق کمزور صلاحیتوں سے ہے۔

یہ خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ بچوں اور نوعمروں میں جسمانی صلاحیتوں اور ذہنی و تعلیمی ترقی کے درمیان ایک باہمی تعلق موجود ہے۔

ان کا مشورہ یہ نہیں کہ گھبرا جائیں یا سکرینوں پر پابندی لگا دیں۔

اس کے بجائے روزمرہ زندگی میں شعوری طور پر عملی سرگرمیوں کو شامل کریں۔

ایسے کام جن میں ہاتھوں کا مسلسل استعمال ہو، مثلاً کھانا تیار کرنا یا عملی فنون اور دستکاری، مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

زوگیٹ خود لکڑی کا کام کرتے ہیں، مگر آپ کوئی ساز بجانا سیکھ سکتے ہیں یا محض ہاتھ سے لکھنے کی عادت اپنا سکتے ہیں۔

زوگیٹ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور ’یہ اثرات بہت معمولی نوعیت کے ہیں۔‘

’لیکن اگرچہ ان کے اثرات انفرادی سطح پر درمیانے یا معمولی ہوں، مجموعی طور پر اور نسلوں کے پیمانے پر ہم معاشرے کی فکری صلاحیتوں میں ممکنہ کمی اور حقیقت میں سوچنے کی صلاحیت کے زوال کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاتھ دنیا کے ساتھ ہمارے رابطے کا ایک انتہائی بنیادی ذریعہ ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US