39 سالہ جیفری ینگ پر دسمبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان دو لاکھ 16 ہزار ڈالر مالیت کی نایاب اور قدیم چینی دستاویزات چرانے کا الزام ہے۔
یو سی ایل اے لائبریری میں نایاب کتابوں اور فن پاروں کا وسیع ذخیرہ موجود ہےامریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک شخص کو ایک قدیم چینی دستاویز کی چوری کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔
39 سالہ جیفری ینگ پر دسمبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان دو لاکھ 16 ہزار ڈالر مالیت کی نایاب اور قدیم چینی دستاویزات چرانے کا الزام ہے۔
استغاثہ کے مطابق مجرم نے ایک منصوبے کے تحت لائبریری کارڈز پر جعلی نام استعمال کیے اور ایسے متعدد آلات استعمال کیے جن کی مدد سے اس نے جعلی نقول تیار کیں۔
39 سالہ جیفری یِنگ نے ایک اہم فن پارے کی چوری کے جرم کا اعتراف کیا اور اسے اتنی مدت قید کی سزا سنائی گئی جتنی وہ پہلے ہی کاٹ چکا تھا جو تقریباً ایک ماہ بنتی ہے جبکہ اسے ایک سال کے لیے گھر تک محدود رہنے کی سزا بھی دی گئی۔
استغاثہ کے مطابق جیفری یِنگ نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کی لائبریری سے قدیم ادبی مواد مستعار لیا اور اس کے بدلے جعلی نقول واپس کیں۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ یِنگ چوری کے واقعات کے چند ہی دن بعد چین کا سفر کرتا اور پھر واپس آ جاتا تھا۔
یو سی ایل اے لائبریری نے، جہاں نایاب کتابوں اور فن پاروں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، اس منصوبے کا سراغ اس وقت لگایا جب حال ہی میں واپس کی گئی کئی دستاویزات جعلی نکلیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ دستاویزات فرضی ناموں کے ذریعے جاری کروائی گئی تھیں، جن کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ وہ دراصل ینگ ہی کے استعمال کردہ نام تھے۔
نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج سے ظاہر ہوا کہ یہ دستاویزات ایک ہی شخص نے حاصل کی تھیں۔
حکام نے یِنگ کا سراغ لگایا اور یو سی ایل اے کے قریب واقع اس کے ہوٹل کے کمرے کی تلاشی لی، جہاں انہیں خالی مخطوطات اور ایسے کاغذات ملے جو ان کتابوں کے انداز سے مشابہت رکھتے تھے جو اس نے جاری کروائی تھیں۔
گرفتاری کے حوالے سے جمع کروائے گئے حلف نامے کے مطابق استغاثہ نے کہا کہ اس مواد کو ’اصل کتب کے بدلے لائبریری میں واپس کرنے کے لیے ’جعلی کتابیں تیار کرنے میں‘ استعمال کیا گیا۔
اس ادبی مواد میں 1393 کی ایک قیمتی چینی تصنیف اور 1575 میں شائع ہونے والی ایک اور کتاب شامل تھی۔ سرکاری دستاویز میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ ان کتب کا کیا ہوا اور نہ ہی یِنگ پر ان کی چوری کا الزام عائد کیا گیا۔
ینگ نے چین کے چِنگ خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والے 17ویں صدی کے ایک مخطوطے کی چوری کے ایک الزام پر اعتراف جرم کیا۔
سان فرانسسکو بے ایریا کے شہر فریمانٹ سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ ینگ کو تین سال کی نگرانی میں رہائی کی سزا بھی سنائی گئی۔
اگرچہ اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں تاہم ہرجانے کی رقم کا تعین ابھی ہونا باقی ہے۔
اگست 2025 میں ینگ کی گرفتاری کے وقت حکام کو آسٹن چن کے نام سے جاری کیلیفورنیا کا ایک جعلی شناختی کارڈ ملا، اس کے علاوہ آسٹن چن اور جیسن وانگ کے ناموں پر دو لائبریری کارڈز بھی برآمد ہوئے۔
حکام نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی عوام کو آن لائن لائبریری کارڈ کے لیے درخواست دینے کی اجازت دیتی تھی، جس کے ذریعے نایاب مواد تک رسائی حاصل ہو سکتی تھی اور اس کے لیے سرکاری طور پر جاری کردہ کسی بھی شناختی دستاویز کو دکھانا ضروری نہیں تھا۔