پاکستان ہاکی کی بحالی اور قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے دو سالہ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت تین غیر ملکی کوچز اور ٹرینرز ہفتے کے روز لاہور پہنچ گئے۔
لاہور پہنچنے والے ماہرین میں فٹنس کوچ ڈیوڈ ڈائر، گول کیپنگ کوچ باب ویلڈوف اور ٹیکنیکل کوچ و اسپورٹس سائیکالوجسٹ کرس بوون شامل ہیں، جبکہ ڈچ ہاکی ماہر ہرمین کروئس نیشنل ہاکی کوچنگ ایڈوائزر کے طور پر اس منصوبے کی قیادت کریں گے۔
پی ایچ ایف نے سابق اولمپین طاہر زمان کو ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس بھی مقرر کیا ہے۔ ہرمین کروئس اپنے دو سالہ معاہدے کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور قومی ٹیم کو بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کرنے میں فیڈریشن کی معاونت کریں گے۔
لاہور پہنچنے کے بعد غیر ملکی کوچز نے طاہر زمان اور پی ایچ ایف حکام کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں قومی ہاکی کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل جامع روڈ میپ پر غور کیا گیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ حالیہ ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کیا، جہاں پاکستان نیدرلینڈز، بیلجیم، بھارت، اسپین، انگلینڈ، جرمنی اور آسٹریلیا سمیت مضبوط حریفوں کے خلاف کوئی بھی میچ جیتنے میں ناکام رہا تھا۔
پی ایچ ایف کو امید ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ سے قبل غیر ملکی کوچز اور ٹرینرز کی شمولیت قومی ٹیم کی تیاری اور کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔