پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجہ نے شان مسعود کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے پر پی سی بی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ اوپنر نے کہا کہ شان مسعود کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔
رمیز راجہ نے سوال اٹھایا کہ آپ انہیں ایک عام سی ٹیسٹ ٹیم دیتے ہیں اور پھر ان سے اچھے نتائج کی امید رکھتے ہیں؟انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بابر اعظم، جنہوں نے کیریبین (ویسٹ انڈیز) اور انگلینڈ کے آنے والے دوروں کے لیے ٹیسٹ کپتان کے طور پر شان مسعود کی جگہ لی ہے انہیں بھی اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔موجودہ بورڈ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ شان مسعود کو ہٹانا موجودہ مسائل کا حل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں شان کی جگہ ہوتا تو بورڈ کو تحریری احتجاج جمع کرواتا کہ جب ایک کپتان کو مسلسل عام کھلاڑیوں کا گروپ دیا جا رہا ہو تو آپ مثبت نتائج کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر ٹیسٹ اسکواڈ کا معیار ہی اچھا نہیں ہے، تو اس کا ذمہ دار صرف کپتان کیسے ہوا؟
پی سی بی نے گزشتہ ہفتے بابر اعظم کو ایک بار پھر ٹیسٹ کپتان مقرر کیا ہے وہ اس سے قبل 2020 سے 2023 کے دوران بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
شان مسعود کو دسمبر 2023 سے اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کرنے کے بعد ہٹایا گیا، جن میں ٹیم کو 12 شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سینیئر سلیکٹر عاقب جاوید نے شان مسعود کو ہٹانے کی وجہ بتاتے ہوئے سبکدوش ہونے والے کپتان پر قیادت کے خراب فیصلوں کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم رمیز راجہ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ایک کپتان اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنے اچھے اسے کھلاڑی دیے جاتے ہیں۔
پاکستان اسکواڈ 13 جولائی کو کیریبین کے لیے روانہ ہوگا جہاں وہ دو ٹیسٹ میچ کھیلیں گے اور پھر اگست اور ستمبر میں مزید تین ٹیسٹ میچوں کے لیے انگلینڈ روانہ ہوں گے۔