سرتاج عزیز کے مطابق ’اسحاق خان ہی نے اسٹیبلشمنٹ کو قائل کیا تھا کہ غلام مصطفیٰ جتوئی کی بجائے نواز شریف کا زیادہ حق بنتا ہے کیوں کہ انھوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ کے طورپر اس کی 106 میں سے 92 نشستیں پنجاب سے جیتی تھیں۔ لیکن کچھ ہی مہینوں میں نواز شریف نے اپنا اختیارجتلانا شروع کردیا۔ وہ اب ان کے سائے تلے سے نکلنا چاہتے تھے۔یوں غلط فہمیوں اور بد اعتمادی نے جنم لیا۔‘
18جولائی 1993 کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایوانِ صدر کی فضاؤں میں شدید تناؤ محسوس کیا جا رہا تھا۔
سابق بیورو کریٹ اور اُس وقت کے وزیرِ احتساب روئیداد خان اپنی کتاب ’پاکستان اے ڈریم گون سار‘ میں وہ دن یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’جب میں صدر کے دفتر میں داخل ہوا تو یوں لگا کہ ملک کےصدرغلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف نہیں بلکہ دو دشمن ممالک کے سربراہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں۔‘
’فضا شدید تناؤ، تلخ الزامات اور باہمی بداعتمادی سے بوجھل تھی اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ ان کے ماتحت اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ وہاں موجود افراد میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل غلام محمد اور ڈی جی، آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی شامل تھے۔‘
’وزیرِ اعظم کے ساتھ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید ملک موجود تھے، جو زیادہ تر گفتگو ان ہی کی جانب سے کر رہے تھے۔ یہ منظر نہایت ناگوار تھا۔ میں شدید افسردہ ہو گیا اور خاموش رہا، سوائے ان چند مواقع کے جب مجھے مداخلت ضروری محسوس ہوئی۔‘
غلام اسحاق خان کے قریبی سمجھے جانے والے روئیداد خان کا سوال تھا کہ ’آخر یہ دونوں سابق اتحادی، جن کی راہیں گویا تقدیر نے ایک کی تھیں، ایسے ناقابلِ مصالحت دشمن کیسے بن بیٹھے؟‘
اتحاد سے اختلافات تک
سرتاج عزیز کے مطابق تین اپریل کو نواز شریف کے والد نے حکم دیا کہ جائیں اور اسحاق خان سے صلح کریں، وہ گئے اور صلح جوئی کی لیکن اسحاق خان انھیں ہٹانے کا فیصلہ کرچکے تھےخزانہ، منصوبہ بندی و معاشی امور کے وزیر اور اسحاق خان کے دوست سرتاج عزیز کا ماننا ہے کہ اسحاق خان تب خود کو نواز شریف کا محسن اور بزرگ سمجھتے تھے۔
سرتاج عزیز اپنی کتاب ’بٹوین ڈریمز اینڈ ریئلیٹیز‘ میں لکھتے ہیں کہ صدر غلام اسحاق خان نے 6 اگست 1990 کو بدعنوانی کے الزامات عائد کر کے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو تحلیل کر دیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی اس برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں نواز شریف کی جیت ہوئی تھی۔
صحافی سہیل وڑائچ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر اسحاق اور آرمی چیف اسلم بیگ دونوں (سابق نگران وزیرِاعظم) غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔
کتاب ’غدار کون‘ کا حصہ بنے اس انٹرویو میں نواز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ ’انتخابات کا نتیجہ دیکھ کر غلام اسحاق خان نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔‘
سرتاج عزیز کے مطابق ’اسحاق خان ہی نے اسٹیبلشمنٹ کو قائل کیا تھا کہ غلام مصطفیٰ جتوئی کی بجائے نواز شریف کا زیادہ حق بنتا ہے کیوں کہ انھوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ کے طور پر اس کی 106 میں سے 92 نشستیں پنجاب سے جیتی تھیں۔ اسی لیے پہلی کابینہ بھی زیادہ تر غلام اسحاق خان کی مرضی سے بنی تھی۔‘
’لیکن کچھ ہی مہینوں میں نواز شریف نے اپنا اختیار جتلانا شروع کر دیا۔ وہ اب ان کے سائے تلے سے نکلنا چاہتے تھے۔ یوں غلط فہمیوں اور بد اعتمادی نے جنم لیا۔‘
سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ ’نواز شریف نے دوررس نتائج کی حامل اصلاحات متعارف کروائیں۔ لیکن اسحاق خان سمجھتے تھے کہ ان کا زیادہ تجربہ ہے اس لیے نوازشریف کو ان سے مشورہ لینا چاہیے۔ یہ ماڈل نواز شریف کی شخصیت یا سیاسی عزائم کے مطابق نہیں تھا۔‘
لیکن سرتاج عزیز کے مطابق یہ اختلافات پہلے دو سال میں نمایاں نہیں ہوئے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1992کے اواخرمیں اسحاق خان کو علم ہوا کہ وہ اگلے سال نومبر میں انھیں دوبارہ صدر منتخب نہیں کرنا چاہتے۔ دسمبر میں ایک کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے اپنے وزرا سے کہا کہ وہ صدرکے انتخاب کے بارے میں کوئی بیان نہ دیں۔ یہ بات اگلے روزاخباروں میں بھی چھپی۔‘
سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ ’میری 10 روز بعد اسحاق خان سے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقات ہوئی تو انھوں نے ملاقات کے بعد رکنے کا کہا۔ وہ بہت ناراض تھے۔ انھوں نے کہا کہ میرے دوبارہ انتخاب کے حق میں صرف الٰہی بخش سومرو اور اعجاز الحق کے بیانات تھے۔ ایسے بیانات روک کر نواز شریف نے اپنی نیت ظاہر کر دی ہے۔‘
’وہ اس سے پہلے بھی کسی ایک یا دوسرے فیصلے پر شکایت کرتے ہوئے اس موضوع پر مجھ سے بات کر چکے تھے۔ لیکن اس بار اسحاق خان کا لہجہ اور انداز زیادہ تلخ تھا۔‘
سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ اسی طرح نواز شریف بھی ایک ایسے صدرکے ساتھ چلنے میں مشکلات کا اظہار کر چکے تھے جو ایک ہیڈ ماسٹر کی طرح برتاؤ کرے۔
’میں نے خود سے کہا کہ یہ تعلق اب برداشت اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی حدیں پار کر چکا ہے۔‘
نواز شریف اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ 'ہم اپنے اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلق استوار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بے نظیر صاحبہ ایک طرف ہم سے بات کر رہی تھیں تو دوسری طرف صاحب سے بھی ان کے مکمل رابطے تھے۔'سرتاج عزیزنے اخبار دی نیشن کی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 1991 کے آغاز میں دونوں کے درمیان اس وقت فاصلے شروع ہو گئے تھے جب مشیر دفاع اجلال حیدر زیدی کو نکالا گیا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’اسی طرح اسحاق خان کےدیگرحواریوں، صاحب زادہ یعقوب خان ، روئیداد خان اور عزیز منشی کو یا تو نکالا گیا یا غیر اہم کام ان کے سپرد کر دیے گئے۔‘
سرتاج عزیز کے مطابق نواز شریف کا خان کی انا کی تسکین نہ کرنا اصل مسئلہ تھا۔ ’میرا خیال ہے نواز شریف آئین کی منشا پر عمل کرتے ہوئے انھیں صرف آئینی سربراہ ہی رکھنا چاہتے تھے۔‘
روئیداد خان لکھتے ہیں کہ تقریباً ایک سال تک بظاہر صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے تعلقات خوشگوار رہے۔
ان کے مطابق اصل کشیدگی کا آغاز دسمبر 1991 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے صدر کے خلاف احتجاج میں آوازیں کسنے اور ’گوبابا گو‘ کے نعروں اور نواز شریف کی اس پر خاموشی سے ہوا جبکہ 1992 کے آخر تک اختلافات نمایاں ہو چکے تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اور وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مفاہمت برقرار رکھنے کی کوشش کی، مگر یہ کوششیں بالآخر ناکام رہیں۔
جنوری 1993 جب سیاسی فضا بدلنے لگی
روئیداد خان کے مطابق جنوری 1993میں دو اہم واقعات نے یہ اشارہ دیا کہ پاکستان کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
’پہلا واقعہ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قانون افتخار گیلانی کی تقریر تھی جس میں انھوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جو لوگ مکالمے کی مخالفت کرتے ہیں وہ ملک کے مفاد کے خلاف ہیں۔ نواز شریف نے اس تجویز کا مثبت جواب دیا۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’دوسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ بے نظیر بھٹو کو قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کی چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا جبکہ صدر غلام اسحاق خان کو پہلے سے اس کا علم نہیں تھا۔ ایوانِ صدر میں اس پیش رفت کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی خفیہ مفاہمت کی علامت سمجھا گیا۔‘
اپنے انٹرویو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میرا غلام اسحاق خان صاحب سے تعلق پرانا تھا۔ صدر سے پالیسیوں پر اختلاف تھا، کوئی ذاتی وجہ نہیں تھی۔ میرے ان سے اچھے تعلقات تھے جب تک کہ انھوں نے میرے ساتھ گیم کھیلنا شروع نہیں کی۔‘
’میری طرف سے کبھی ہتکِ عزت نہیں ہوئی۔ میں ہمیشہ ان کی عزت کرتا تھا۔ نہ ہی میں نے اختیارات سے کبھی تجاوز کرنے کی کوشش کی۔ ان کو ہماری کچھ پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ مثال کے طورپر ڈی نیشنلائزیشن یا نِج کاری۔‘
اپنے انٹرویو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے فارن افیئرز کمیٹی کی سربراہی بے نظیر بھٹو صاحبہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے سختی سے اعتراض کیا۔ ہم چاہتے تھے کہ اپوزیشن اور حکومت مل کر کام کریں، لیکن وہ اس سے ناخوش تھے۔‘
لیکن یہ بحران صرف دو شخصیات کی انا کی جنگ نہیں تھا۔
اس کی جڑیں پاکستان کے 1973کے آئین میں جنرل ضیا الحق کی آٹھویں ترمیم سے پیدا ہونے والے اس دوہرے اقتدار کے نظام میں تھیں، جس کے تحت وزیر اعظم منتخب حکومت کا سربراہ تھا جبکہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 58(2)(بی) کے ذریعے اسمبلی توڑنے اور حکومت برطرف کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
طاہر کامران اپنی کتاب ’چیکرڈ پاسٹ، اَن سَرٹن فیوچر‘ میں لکھتے ہیں کہ مختلف معاملات پر نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن دو وجوہات نے اسے فیصلہ کن تصادم تک پہنچا دیا۔
’پہلی وجہ یہ تھی کہ نواز شریف نے آٹھویں آئینی ترمیم پر نظرِ ثانی کا ارادہ ظاہر کیا جسے صدر کے آئینی اختیارات کے لیے براہِ راست چیلنج سمجھا گیا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ غلام اسحاق خان کی دوسری مدتِ صدارت کے معاملے پر نواز شریف نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔‘
یہ مسئلہ کافی عرصے سے دونوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا تھا، اور وزیر اعظم کی اس خاموشی نے صدر کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا۔
اپنے انٹرویو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب آٹھویں ترمیم کے کچھ حصے ختم کر کے پارلیمنٹ کی بالا دستی بحال کرنے کی بات کی تو انھوں نے بہت برا محسوس کیا۔ اور یہ وہ لمحہ تھا جب انھوں نے میرے خلاف جانا شروع کیا۔‘
طاہر کامران لکھتے ہیں کہ سنہ 1992 کے آخر تک دونوں کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ اہم سرکاری فیصلوں، فوجی تقرر اور آٹھویں ترمیم کے مستقبل پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
سرتاج عزیز کے مطابق 1993 میں دو غیرمتوقع اموات، آرمی چیف جنرل آصف نواز کی جنوری اور مسلم لیگ کے صدر محمد خان جونیجو کی مارچ میں، نے صورت حال کو پیچیدہ کردیا۔
’پہلی موت سے صدر اور وزیر اعظم کا نئے آرمی چیف کے تقرر پر اختلاف عیاں ہو گیا اور دوسری موت کے ایک ہفتے بعد مسلم لیگ میں نواز مخالف گروہ کو، صدر کی واضح حوصلہ افزائی نے استعفوں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ جیسا کہ ان کے داماد انور سیف اللہ کے حامد ناصر چٹھہ اور حاجی گل شیر خان سمیت پہلے گروہ میں شمولیت سے ظاہر تھا۔‘
سرتاج عزیز کے مطابق ’جنوری کے وسط کے بعد صدر اور وزیراعظم 21 مارچ کو ملے لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔‘
روئیداد خان لکھتے ہیں کہ نواز شریف جنرل عبدالوحید کاکڑ کے تقرر سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم کسی اور جنرل کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔
اسی کے بعد نواز شریف نے آٹھویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی مہم تیز کر دی کیونکہ اسی ترمیم کے تحت صدر کو مسلح افواج کے سربراہان کےتقرر کا اختیار حاصل تھا۔
اب پوری سیاست آٹھویں ترمیم کے گرد گھومنے لگی۔
اسی دوران میں آصف زرداری ضمانت پر رہا ہو کر لندن چلے گئے۔ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کو ان کی بیٹی کی پیدائش پر پھول بھیجے۔ فاروق لغاری نے حکومت سے مذاکرات کے امکان کا اشارہ دیا۔
نواز شریف کی مہم اور مسلم لیگ میں بغاوت
سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ 'نواز شریف نے دوررس نتائج کی حامل اصلاحات متعارف کروائیں لیکن اسحاق خان سمجھتے تھے کہ ان کا زیادہ تجربہ ہے'نواز شریف نے کھل کر آٹھویں ترمیم ختم کرنے کی حمایت کی اور اس مقصد کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی۔
اس کے بعد صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
روئیداد خان کا خیال ہے کہ اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب نواز شریف نے فروری 1993 میں آٹھویں ترمیم ختم کرنے کا اعلان کیا۔
محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد نواز شریف مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔
بعد ازاں نواز شریف نے اس تجویز سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن صدر نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔
ادھر کابینہ میں موجود صدر کے حامی وزرا بھی وزیر اعظم کی حکومت کو کمزور کرنے میں مصروف رہے۔ صرف تین ہفتوں کے دوران تقریباً 10 وفاقی وزرا اور پارلیمانی سیکریٹری مستعفی ہو گئے۔ سب نے اپنے استعفوں کی وجہ نواز شریف سے پالیسی اختلافات کو قرار دیا۔
وفاقی وزیر برائے پیداوار حامد ناصر چٹھہ نے مارچ کے وسط میں کابینہ چھوڑ کر نواز شریف کے خلاف مہم کا آغاز کیا تھا۔ وہ بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں شامل ہونے والے پہلے وزیر بھی بن گئے۔
روئیداد خان کے مطابق عام خیال کے برعکس صدر غلام اسحاق خان نے ان استعفوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ خود اس اقدام کی مخالفت کی۔
تعلقات میں سرد مہری اور بے نظیر کی حکمت عملی
روئیداد خان کے مطابق 'آخرکار بے نظیر نے نواز شریف کے بجائے غلام اسحاق خان کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا۔'روئیداد خان لکھتے ہیں کہ صدر کےایک عزیز کی وفات پر نواز شریف تعزیت کے لیے نہیں گئے۔ صدر کی افطار پارٹی میں وزیر اعظم شریک نہیں ہوئے۔ وزیر اعظم کی افطار پارٹی میں صدر نہیں گئے۔
محمد خان جونیجو کی تدفین میں بھی دونوں الگ الگ طیاروں میں آئے، الگ کمروں میں بیٹھے اور رسمی انداز میں مصافحہ کیا۔
روئیداد خان کے نزدیک یہ تمام واقعات اس بات کی علامت تھے کہ ریاست کے دو اعلیٰ ترین عہدوں کے درمیان اعتماد ختم ہو چکا تھا۔
ان کے مطابق بے نظیر بھٹو ایک طرف حکومت سے رابطے میں تھیں اور دوسری طرف صدر غلام اسحاق خان سے بھی۔
’ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان فاصلے مزید بڑھنے دیں اور آخرکار اس فریق کا ساتھ دیں جو زیادہ مضبوط ثابت ہو۔‘
روئیداد خان کے مطابق ’افتخار گیلانی اور محمود خان اچکزئی حکومت کی طرف سے انھیں منانے لندن گئے لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔ اس کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی صدر کی رضا مندی سے لندن گئے۔‘
’آخرکار بے نظیر نے نواز شریف کے بجائے غلام اسحاق خان کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا۔‘
سرتاج عزیز کے مطابق تین اپریل کو نواز شریف کے والد نے حکم دیا کہ جائیں اور اسحاق خان سے صلح کریں۔ وہ گئے اور صلح جوئی کی لیکن اسحاق خان انھیں ہٹانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
ان دونوں کی 14اپریل کی اگلی ملاقات آخری موقع تھی۔
’نواز شریف نے سہ پہر میں کابینہ کو بریف کیا اور کہا کہ ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کی جائے گی، جس کا ڈرافٹ ایوانِ صدربھیجا جا چکا ہے۔‘
سرتاج عزیز کے مطابق ’یہ ڈرافٹ قبول کرنے کی بجائے ایوانِ صدر سے ایک آٹھ سطری ریلیز آئی کہ صدر نے ملکی اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ کیا اقدامات کریں اور یہ سب اقدامات لینے کے بعد وہ صدر کو رپورٹ کریں۔ یہ ماننا نواز شریف کی سیاسی خودکشی ہوتا۔ سو 15 اپریل کو ٹکر لینے کا فیصلہ کیا گیا۔‘
17 اپریل 1993کو نواز شریف نے قوم سے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے صدر پر دباؤ ڈالنے اور حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات عائد کیے۔
اس روز روئیداد خان جنرل عبدالوحید کاکڑ کے گھر عشائیے پر موجود تھے۔عشائیے سے قبل سب نے نواز شریف کی ٹیلی ویژن تقریر دیکھی۔
تقریر میں نواز شریف نے صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ استعفیٰ دیں گے، نہ اسمبلی توڑیں گےاور نہ کسی کے احکامات قبول کریں گے۔
نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس تقریر میں ان کا مشہور جملہ ’میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ خاص طور پر نمایاں تھا۔
جنرل کاکڑ کا ردعمل اور صدر کا فیصلہ
کئی ماہ سے جاری سیاسی کشمکش کے بعد غلام اسحاق خان اور نواز شریف دونوں مستعفی ہو گئے، اکتوبر میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا اور بلخ شیر خان مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیاروئیداد خان کے مطابق تقریر ختم ہوتے ہی جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کہا کہ ’یا خدایا، ہم بہت بڑے بحران میں داخل ہو گئے ہیں۔‘
روئیداد خان نے جواب دیا کہ یہ دراصل وزیر اعظم کی جانب سے صدر کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان ہے۔
انھوں نے جنرل کاکڑ کو بتایا کہ ماضی میں فوج نے اس سے کم وجوہات پر مارشل لا نافذ کیا، لیکن اب آئین کی آٹھویں ترمیم موجود ہے، جس کے تحت صدر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
جنرل کاکڑ نے واضح کیا کہ مارشل لا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن اگر صدر آئین کے مطابق کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو فوج ان کا ساتھ دے گی۔
اسی رات روئیداد خان نے جنرل کاکڑ کا پیغام غلام اسحاق خان تک پہنچایا۔
اگلے روز صدر نے انھیں دوبارہ آرمی چیف کے پاس بھیجا اور بتایا کہ انھوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے اور حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
روئیداد خان کے مطابق جنرل کاکڑ نے اس فیصلے پر حیرت ظاہر نہیں کی بلکہ صرف یہ پوچھا کہ رابطے کے لیے ایوانِ صدر میں کون ذمہ دار ہو گا۔
اگلے ہی روز غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2) (بی) کے تحت حکومت برطرف کر دی اور قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔
انور اقبال نے خبررساں ایجنسی یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے لیے اپنی خبر میں لکھا کہ صدر غلام اسحاق خان نے شام کے وقت ایک نیوز کانفرنس میں نواز شریف کی برطرفی کا اعلان کیا۔
نواز شریف کی حکومت پاکستان کی تاریخ میں پانچویں منتخب حکومت تھی جسے آئین میں صدر کو حاصل صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے برطرف کیا گیا تھا۔ نواز شریف کی 29 ماہ پرانی حکومت مارشل لا کے خاتمے (1984 کے بعد) کے بعد صدر کے ہاتھوں برطرف ہونے والی تیسری منتخب حکومت تھی۔
انور اقبال کے مطابق ’اس اعلان سے کچھ ہی دیر پہلے فوج نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور اسلام آباد میں اہم سرکاری عمارتوں کے گرد اپنی پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔‘
’ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ نواز شریف نے پیر کی سہ پہر پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور اپنی حکومت کے حق میں اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’فوج کی تعیناتی سے قبل صدر غلام اسحاق خان نے اپوزیشن کی رہنما اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہنگامی ملاقات بھی کی۔‘
طاہر کامران لکھتے ہیں کہ ان کی جگہ بلخ شیر خان مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیا، جبکہ ایک بڑی نگران کابینہ تشکیل دی گئی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ کئی نمایاں شخصیات، جیسے آصف زرداری، اعتزاز احسن اور جہانگیر بدر شامل تھیں۔
’کابینہ کا حجم اس قدر بڑا تھا کہ اس کا موازنہ اپنے عروج کے زمانے کے قصہ خوانی بازار سے کیا گیا۔‘
’پاکستان: ایٹ دی کراس کرنٹ آف ہسٹری‘ میں لارنس زیرنگ لکھتے ہیں کہ بہت سے مبصرین کو حیرت تھی کہ پارلیمانی لحاظ سے نسبتاً کمزور پوزیشن رکھنے کے باوجود نواز شریف صدر کے ساتھ براہِ راست تصادم کیوں اختیار کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب فوجی قیادت صدر کے ساتھ دکھائی دیتی تھی۔‘
اسی دوران بے نظیر بھٹو بھی کھل کر صدر غلام اسحاق خان کی حمایت میں آ گئیں حالانکہ یہی صدر 1990 میں ان کی حکومت برطرف کر چکے تھے۔
مصنف کی رائے ہے کہ بے نظیر بھٹو کی نواز شریف سے سیاسی مخالفت صدر کے اختیارات کے بارے میں ان کے سابقہ تحفظات پر غالب آ گئی۔
نواز شریف اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلق استوار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بے نظیر صاحبہ ایک طرف ہم سے بات کر رہی تھیں تو دوسری طرف صاحب سے بھی ان کے مکمل رابطے تھے۔‘
روئیداد خان لکھتے ہیں کہ نواز شریف کے متعدد اقدامات سے اختلاف رکھنے کے باوجود صدر 17 اپریل 1993سے پہلے کسی صورت انھیں برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔
ان کے مطابق اس وقت تک اگر صدر کے سامنے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کا سوال ہوتا تو وہ ہمیشہ نواز شریف ہی کو ترجیح دیتے۔
سرتاج عزیز کے مطابق ’اگلے روز نواز شریف عوامی ایکسپریس سے لاہور گئے۔ راستے میں ہر ریلوے سٹیشن پر ان کے استقبال کو لوگوں کا ہجوم تھا۔ نواز شریف کی غلطیوں کے باوجود، اسحاق خان کے عمل کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں تھا۔‘
تاہم یہ فیصلہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور محاذ آرائی کی جانب سفر
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی بحران ختم نہ ہو سکاسپریم کورٹ نے صدر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر نواز شریف کی حکومت بحال کر دی۔ اس فیصلے پر جسٹس سجاد علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی بحران ختم نہ ہو سکا۔
روئیداد خان کے مطابق 26 مئی 1993 کو سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی حکومت کی بحالی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم کے درمیان جاری آئینی تصادم ختم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اپنے ایک مضمون میں محقق طاہر مہدی لکھتے ہیں کہ لیکن اس ’راحت‘ سے مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔ اگلا مرحلہ صوبوں، خصوصاً پنجاب، میں شروع ہوا۔
اگرچہ پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کی گئی تھی لیکن وفاق میں نواز شریف حکومت کی شکست کے بعد پنجاب اسمبلی کے منتخب ارکان ڈوبتی کشتی چھوڑنے لگے۔ نواز شریف کے وفادار وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور مسلم لیگ کے نواز مخالف دھڑے کے رہنما منظور وٹو نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔
لیکن اسلام آباد میں حالات کا رخ پلٹا تو منظور وٹو کے خلاف بھی تحریکِ عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ انھوں نے گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا اور چونکہ گورنر صدر کے مقرر کردہ تھے اس لیے انھوں نے فوراً اسمبلی تحلیل کر دی۔
اس کے بعد ایک مرتبہ پھر عدالتوں میں یہ قانونی بحث شروع ہو گئی کہ آیا اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش تحریکِ عدم اعتماد جمع ہونے سے ایک منٹ پہلے کی گئی تھی یا ایک منٹ بعد۔
عدالتی تنازعات سے تنگ آ کر وزیر اعظم نے پنجاب میں وفاقی راج نافذ کرنے کا حکم دیا لیکن صدر نے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا۔
روئیداد خان لکھتے ہیں کہ تقریباً یہی صورت حال اس وقت کے صوبہ سرحد میں بھی پیش آئی، جہاں وزیر اعلیٰ میر افضل خان نے 30 مئی کو اسمبلی تحلیل کرا دی۔
اس طرح اگرچہ نواز شریف وفاق میں دوبارہ وزیر اعظم بن گئے تھے، لیکن پنجاب اور سرحد دونوں صوبوں میں ان کی شدید سیاسی کشمکش شروع ہو گئی۔
اس مرحلے تک صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات حد سے بڑھ چکے تھے اور معاملہ ذاتی مخاصمت میں تبدیل ہو گیا تھا۔
بحالی کے بعد بجٹ کی تیاری کی گئی۔
سرتاج عزیز کے مطابق مخاصمت شدید سے شدید تر ہو رہی تھی۔
ایک آئینی تعطل پیدا ہوگیا۔ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کے مابین ملاقاتوں پر ملاقاتیں ہوئیں۔بالآخر طے پایا کہ دونوں اپنے اپنے عہدے چھوڑیں گے، نوازشریف صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دے کر اور 58 ٹواے کے تحت اور صدرآرٹیکل 43 کے تحت استعفیٰ دے کر۔
روئیداد خان اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ بنیادی سیاسی سمجھوتہ غلام اسحاق خان، نواز شریف اور مولانا سمیع الحق کی ثالثی سے طے ہوا جبکہ جنرل عبدالوحید کاکڑ بعد میں اس پر عمل درآمد کی صورت طے کرنے کے لیے شامل ہوئے۔
وہ لکھتے ہیں کہ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ابتدا میں ایک ایسا فارمولا پیش کیا تھا جس کے تحت اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کرائے جاتے اور نواز شریف نگران وزیر اعظم رہتے، مگر چونکہ نواز شریف نے فوری طور پر اس پر آمادگی ظاہر نہ کی اس لیے یہ منصوبہ کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
مولانا سمیع الحق نے صدر کو بتایا کہ نواز شریف اس وقت تک انتخابات پر آمادہ نہیں ہوں گے جب تک غلام اسحاق خان خود صدر کے منصب پر موجود رہیں گے۔
اس پر غلام اسحاق خان نے ایک اہم پیشکش کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان کے مستعفی ہونے سے فوری انتخابات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے ساتھ چند شرائط بھی ہوں گی کہ نواز شریف بھی اسی وقت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیں۔ وہ خود وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیں۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک غیر جانبدار نگران حکومت قائم کی جائے۔
روئیداد خان کے مطابق 12 اور 15 جولائی 1993 کو صدر اور نواز شریف کی ملاقاتوں میں اس فارمولے پر اتفاق ہو گیا۔
بے نظیر بھٹو کو اطلاع اور ردِعمل
دسمبر 1988 کو بے نظیر بھٹو نے پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالاصدر نے روئیداد خان کو ہدایت دی کہ وہ بے نظیر بھٹو کو اس معاہدے سے آگاہ کریں۔
اس وقت بے نظیر لاہور میں تھیں۔ روئیداد خان نے انھیں بتایا کہ ان کے لیے تین اچھی خبریں اور ایک بری خبر ہے۔
اچھی خبریں یہ تھیں کہ عام انتخابات اکتوبر 1993 میں ہوں گے، لہٰذا انھیں 1995 تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔انتخابات کے وقت نواز شریف وزیر اعظم نہیں ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل کر دی جائیں گی اور تمام انتخابات غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہوں گے۔
پھر بے نظیر نے پوچھا کہ بری خبر کیا ہے۔
روئیداد خان نے بتایا کہ اس سمجھوتے کے تحت غلام اسحاق خان بھی قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی صدارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔
روئیداد خان کے مطابق بے نظیر بھٹو نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غلام اسحاق خان کے استعفے کا مطالبہ صرف نواز شریف کر رہے تھے تاہم باقی کوئی ایسا نہیں چاہتا تھا۔
جب انھیں بتایا گیا کہ یہی سمجھوتہ فوری انتخابات کا راستہ کھولنے کا ذریعہ بنا ہے، تو انھوں نے غلام اسحاق خان کے فیصلے کو ذاتی قربانی قرار دیا۔
روئیداد خان کے مطابق بے نظیر نے پیغام دیا کہ اگر غلام اسحاق خان ان کی جانب سے دوبارہ صدارتی امیدوار بننے پر آمادہ ہوں تو وہ اس پورے انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، اور انھوں نے مصنف سے کہا کہ یہ پیغام صدر تک پہنچا دیا جائے۔
اس کے بعد صدر نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جنرل عبدالوحید کاکڑ کو اس پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
اگلے روز آرمی چیف ایوانِ صدر پہنچے لیکن وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف بھی تھے۔
ایڈورڈ اے۔ گارگن نے دی نیویارک ٹائمزمیں لکھا کہ پاکستان میں کئی ماہ سے جاری سیاسی کشمکش کے بعد صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف دونوں مستعفی ہو گئے، پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی اور اکتوبر میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مسلسل بے چینی کا شکار فوج نے صدر اور وزیر اعظم کے درمیان جاری تعطل ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جس نے حکومتی مشینری کو مفلوج کر دیا تھا۔
دوسری طرف اپوزیشن کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی تھیں۔ انھوں نے متعدد بار خبردار کیا تھا کہ اگر نئے انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ ہزاروں کارکنوں کو لے کر اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گی۔
نواز شریف کی آئینی مدت 1995 میں مکمل ہونا تھی۔
قوم سے تقریباً ایک گھنٹے کے خطاب میں نواز شریف نے بے نظیر بھٹو اور ان کے حامیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ مصنوعی بحران پیدا کر کے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بحران نہیں ہے۔ وہ صرف اس لیے عوام کو سزا دینا چاہتے تھے کہ وہ نواز شریف سے محبت کرتے ہیں۔ اب یہ کھلی جنگ ہے۔‘
تقریباً ایک گھنٹے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بھی سپیکر اور مقامی اخبارات کو فیکس کے ذریعے اپنا استعفیٰ بھجوا دیا۔
ایوانِ بالا کے چیئرمین وسیم سجاد قائم مقام صدر بنے۔ عالمی بینک کے سابق اعلیٰ عہدیدار معین قریشی نے نگران وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا تاکہ اسی سال تین ماہ بعد عام انتخابات کے انعقاد کی نگرانی کر سکیں۔