وینزویلا سے حوالگی کے بعد ایک مشتبہ شخص کو اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ حزب اللہ لبنان میں قائم ایک شیعہ سیاسی اور عسکری تنظیم ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ پاناما کے پراسیکیوٹر آفس اس واقعے کی تحقیقات ’دہشت گردی کی روایتی خصوصیات رکھنے والے ایک عمل‘ کے طور پر کر رہا ہے۔
الاس چیریکاناس کی پرواز 901 کولون کے ہوائی اڈے سے روانگی کے فوراً بعد فضا میں پھٹ گئی تھیہوزے انتونیو گونزالیس کے لیے 19 جولائی 1994 کی دوپہر کی پرواز 901 ان کے طویل ہوابازی سفر کی پہلی پرواز ہونے والی تھی۔
ان کی والدہ مارتا مارکیز یاد کرتی ہیں کہ ’ٹونی، جیسا کہ ہم پیار سے اسے کہتے تھے، مئی میں 19 برس کا ہوا تھا۔‘
’اس نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امریکہ میں پائلٹ بننے کی تعلیم مکمل کی تھی اور بطور آبزرور اپنی تربیت شروع کر رہا تھا۔ وہ بے حد پُرجوش تھا۔‘
پانامہ کے دوسرے بڑے شہر کولون کی 35 سالہ کاروباری شخصیت ساؤل شوارٹز کے لیے یہ ایک معمول کی پرواز تھی۔
یہ اس طیارے میں سوار ہونے والے 18 مسافروں کے لیے بھی کولون سے پانامہ سٹی کے درمیان ایک مختصر اور معمول کا سفر تھا۔
تاہم فرانس فیلڈ ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے 10 منٹ بعد ہی طیارہ فضا میں پھٹ گیا اور اس کا ملبہ سانتا ریتا پہاڑی پر بکھر گیا، جس میں کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے تک یہ فضائی حادثہ معمہ بنا رہا ہے، تاہم اب اس کیس کے حل ہونے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔
وینزویلا سے حوالگی کے بعد ایک مشتبہ شخص کو اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ حزب اللہ لبنان میں قائم ایک شیعہ سیاسی اور عسکری تنظیم ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ پانامہ کا پراسیکیوٹر آفس اس واقعے کی تحقیقات ’دہشت گردی کی روایتی خصوصیات رکھنے والے ایک عمل‘ کے طور پر کر رہا ہے۔
اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ پانامہ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ ہو گا۔
کیس کی ذمہ دار پراسیکیوٹر جیومارا گیرا نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’ہم نے نئے شواہد جمع کیے ہیں جو ہمارے خیال میں حقائق کو واضح کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
ابتدائی تحقیقات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی
سانتا ریتا کے دامن میں اپنے عزیزوں کی تلاش میں 19 جولائی کے اس المناک دن سب سے پہلے پہنچنے والوں میں پانامہ کے فلم ساز ابنر بینائیم بھی شامل تھے، جو ساؤل شوارٹز کے بھتیجے ہیں۔
اُنھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’بارش ہو رہی تھی اور ہر طرف کیچڑ تھا۔ میں چلتا ہی گیا۔ آج بھی نہیں جانتا کہ کتنا فاصلہ طے کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دریا بھی پار کیا تھا۔ آخرکار ہم اس کھیت تک پہنچے جہاں طیارہ گرا تھا۔‘
پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی اور ایک افسر نے انھیں بتایا کہ وہ آگے نہیں جا سکتے۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’میں نے کہا کہ میں ایک مسافر کا رشتہ دار ہوں اور مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے جواب دیا، نہیں، نہیں، سب مر چکے ہیں۔‘
یہی الفاظ ایک ایسی دستاویزی فلم کا نقطۂ آغاز بنے جسے مکمل شکل دینے میں انھیں برسوں لگے اور جو آج اس کیس کے گرد اب بھی موجود سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی ذاتی اور مستقل کوشش کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
اپنی فلم ’پیراڈائسو ٹروپیکال‘ میں، جو اس سال اپریل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، ایک منظر میں وہ اپنی ماہرِ نفسیات سے کہتے ہیں کہ اچانک 1994 میں میرے چچا کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ میری زندگی کی سب سے اہم چیز بن گئی۔ ایسا لگا جیسے طیارہ میرے اوپر پھٹا ہو۔‘
واقعہ کیا ہوا تھا؟
اس کے پیچھے کون تھا؟
کس نے تعاون کیا؟
اصل ہدف کون تھا یا کون تھے؟
یہ پانامہ میں کیوں ہوا؟
کوئی زندہ نہیں بچا۔۔۔
چند روز بعد ایک کے بجائے تمام اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کر لیں۔وقت گزرنے کے ساتھ کچھ سوالات کے جواب مل گئے، جبکہ دیگر اب بھی اسی طرح دھند میں چھپے ہوئے ہیں جیسے برسات کے موسم میں کیربیئن ساحل کی پہاڑیوں کو ڈھانپ لینے والی گھنی دھند۔
ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ 21 ہلاک شدگان میں پانامہ کی یہودی برادری کے 12 افراد شامل تھے جن میں شوارٹز بھی تھے اور تین امریکی شہری بھی شامل تھے۔
چند روز بعد ایک کے بجائے تمام اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کر لیں۔
لاش پر موجود زخموں اور دیگر شواہد کی بنیاد پر فرانزک تحقیقات نے اشارہ دیا کہ یہ غالباً اس شخص کی لاش تھی جو دھماکہ خیز مواد لے جا رہا تھا اور جس نے طیارے کو تباہ کیا۔
بعد میں اس کی شناخت لیہ جمال یا علی حوا جمال کے نام سے کی گئی، جو نشست نمبر چھ پر بیٹھا تھا اور جس نے مبینہ طور پر مواصلاتی ریڈیو میں چھپائے گئے بم کو فعال کیا۔
یہ سانحہ بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی کے مرکز پر کار بم حملے میں 85 ہلاکتوں کے 24 گھنٹوں بعد پیش آیا۔ یہ کیس اب بھی حل طلب ہے۔
اس معاملے پر دو مفروضے سامنے تھے۔ ایک یہ کہ یہودی برادری کو نشانہ بنانے والا حملہ حوثیوں نے کیا، جو یمن میں سرگرم اور حزب اللہ سے منسلک انصار اللہ نامی شیعہ عسکری تحریک ہے۔
یا پھر کسی ایسے شخص کے خلاف ’حساب چکانے‘ کی کارروائی تھی جو ’ممکنہ طور پر کولمبیا کے منشیات کارٹیلز سے وابستہ‘ تھا۔
پانامہ میں تحقیقات کئی اتار چڑھاؤ سے گزریں اور بالآخر بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے بند کر دی گئیں۔
کیس دوبارہ کھولا گیا
19 جولائی 1994 کو فضا میں دھماکے کے بعد پانامہ کی سانتا ریتا پہاڑی پر بکھرے ہوئے الاس چیریکاناس کے طیارے کا ملبہ۔ارجنٹینا کی عدلیہ نے بھی اپنی علیحدہ تحقیقات کیں جن کا خلاصہ ایک خفیہ فائل میں موجود ہے۔
بعد ازاں اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز اور امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی فراہم کردہ معلومات نے 2018 میں اُس وقت کے صدر خوان کارلوس واریلا کی حکومت کو کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست دینے پر آمادہ کیا۔
سابق صدر واریلا کے لیے یہ معاملہ ذاتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
اُنھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’اس طیارے میں میرا یونیورسٹی کا ساتھی موریسیو ہاروش تھا۔ ہم اٹلانٹا کے جارجیا ٹیک میں چار سال ساتھ پڑھے۔ ہمارا گھر ایک دوسرے کے قریب تھا اور آخری سال وہ میرے ساتھ رہنے آ گیا تھا۔‘
جب وہ دونوں پانامہ واپس آئے تو ان کے خاندانوں کے درمیان دوستی مزید گہری ہو گئی؛ واریلا کا کہنا ہے کہ 2009 میں نائب صدر بننے کے بعد انھوں نے اس معاملے پر پیش رفت شروع کی اور بوگوٹا میں اسرائیلی انٹیلی جنس اور سپیشل آپریشنز کے ادارے (موساد) کے اہلکاروں سے رابطے قائم کیے۔
وہ بتاتے ہیں کہ انھیں ایک ایف بی آئی ایجنٹ کے ذریعے مزید معلومات حاصل ہوئیں جنھوں نے اس واقعے کی تفتیش کی تھی اور جن سے ان کی ملاقات صدارت کے دوران ایک استقبالیہ تقریب میں ہوئی تھی۔
اس معلومات اور اسرائیل کے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو سے موصول ہونے والے ایک خط کی بنیاد پر اُنھوں نے پانامہ کی عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی تفتیش دوبارہ شروع کرے۔
اس خط میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ طیارے میں ہونے والا دھماکہ ’واضح طور پر ایک دہشت گردانہ حملہ‘ تھا۔
خط میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ طیارے میں ہونے والا دھماکہ 'واضح طور پر ایک دہشت گردانہ حملہ' تھا۔ایف بی آئی اور اسرائیلی تحقیقات
پانامہ میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ساتھ، ایف بی آئی نے ’الاس کیس‘ کی تحقیقات جاری رکھی ہیں اور 29 مئی 2024 سے اپنی ویب سائٹ پر معلومات کی فراہمی کی درخواست برقرار رکھی ہے۔
اس میں علی ہوا جمال کا ایک مشکوک خاکہ شامل ہے، جنھیں طیارے میں بم لے جانے کے معاملے میں مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی ویڈیو سے لی گئی تین سیاہ و سفید تصاویر بھی شامل ہیں جن میں ایسے نامعلوم افراد نظر آتے ہیں جن کا تعلق اس واقعے سے ہو سکتا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 27 اور 28 مئی 1994 کو مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک نامعلوم شخص نے پانامہ سٹی میں ایک امریکی شہری سے چوری شدہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دو ’فور بائے فور‘ گاڑیاں اور ایک ’ٹو لائن‘ ٹیلی فون سسٹم کرائے پر حاصل کیا۔ بعد ازاں یہ گاڑیاں دارالحکومت کے ہوائی اڈے، ٹوکومینکے قریب لاوارث حالت میں پائی گئیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ معلوم نہیں ہے کہ اوپر دی گئی تصاویر میں نظر آنے والے نامعلوم افراد علی ہوا جمال کے ساتھی تھے یا نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اُنھوں نے کولمبیا، وینزویلا، کوسٹا ریکا اور لبنان کا سفر کیا تھا۔ اور یہ الزام بھی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے رابطے میں تھے جن کا تعلق اسلحہ سمگلروں سے رہا ہے۔‘
حوالگی اور ’پیچیدہ مقدمہ‘
’پانامہ میں 19 جولائی 1994 کو دورانِ پرواز تباہ ہونے والی الاس چیریکاناس کی پرواز 901 کے مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف بی آئی کی جانب سے علی ہوا جلیل کے ٹھکانے سے متعلق معلومات کی درخواست‘نومبر 2025 میں لبنانی نژاد وینزویلین علی زکی حاج جلیل کی وینزویلا کے سیاحتی جزیرے مارگریٹا پر گرفتاری نے مقدمے میں ایک نیا عدالتی باب کھول دیا۔
اس سال اپریل میں انھیں وینزویلا سے پانامہ کے حوالے کیا گیا تاکہ اس معاملے میں ان کے مبینہ کردار کی تحقیقات کی جا سکیں، جسے استغاثہ ’روایتی نوعیت کی دہشت گردی کی خصوصیات رکھنے والا عمل‘ قرار دیتا ہے۔
کیس کی سربراہ پراسیکیوٹر جیومارا گیرا کے مطابق ان کی ٹیم اب خالی جگہ پُر کر رہی ہے اور حقائق سامنے لانے کے لیے شواہد جمع کر رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں مبینہ طور دھماکہ خیز مواد لیجایا جا سکتا تھا۔ تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ تین دہائیوں سے زیادہ گزر جانا تحقیقات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

استغاثہ کے مطابق ان کے پاس انصار اللہ گروہ کا ایک مبینہ بیان بھی موجود ہے جو واقعے کے پانچ دن بعد ایک لبنانی اخبار میں شائع ہوا تھا اور جس میں ذمہ داری قبول کی گئی تھی، اور یہی شواہد ان کے موجودہ نظریے کو تقویت دیتے ہیں۔
جون کے آغاز میں، استغاثہ کی درخواست پر پانامہ کے پہلے عدالتی ضلع کی فوجداری مقدمات کی اعلیٰ عدالت نے اس مقدمے کو ’پیچیدہ مقدمہ‘ قرار دے دیا۔
اس فیصلے کے تحت پراسیکیوٹرز کو تحقیقات مکمل کرنے اور ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرنے سے قبل مزید 12 ماہ مل گئے ہیں۔
گیرا وضاحت کرتی ہیں کہ اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں لازماً پورا سال درکار ہوگا۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ عمل کم سے کم وقت میں مکمل ہو۔
جس مواد تک وہ رسائی حاصل کر سکے، ان میں ایک بیان بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر انصار اللہ نے ایک لبنانی اخبار میں شائع کیا تھا، جس میں واقعے کے پانچ دن بعد اس کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ استغاثہ کی وکیل گویرا کے مطابق یہ اس واحد نظریے کو تقویت دیتا ہے جس پر اس کیس میں تحقیق کار کام کر رہے ہیں۔