ایک ہزار دینار کی روٹی اور انسانی گوشت کی فروخت: وہ قحط جس نے ایک خلیفہ کو محل کا سامان بیچنے پر مجبور کر دیا

المستنصر باللہ کا اصل نام مَعد ابوتمیم تھا جو سنہ 1036 میں صرف سات برس کی عمر میں خلیفہ بنے تو فاطمی سلطنت مصر، شمالی افریقہ، سِسلی، شام کے بعض حصوں اور حجاز تک پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم کم سنی کے باعث اقتدار عملاً وزیروں اور ابتدائی برسوں میں ان کی والدہ کے ہاتھ میں رہا جبکہ خلیفہ کی حیثیت زیادہ تر رسمی تھی۔

قاہرہ کے اُس چَوراہے پر ان تین افراد کے صرف ڈھانچے ہی باقی تھے جنھیں پچھلی شام ایک وزیر کا خچر چرا کر اسے ذبح کرکے گوشت آپس میں بانٹنے کے الزام میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔

گیارہویں صدی کے مصر میں آٹھویں فاطمی خلیفہ المُستنصِر باِللہ کے عہد میں پھیلی بھوک نے لاشوں کو بھی نہیں بخشا تھا۔

مصیبتوں کے اِس سات سالہ دور کو تاریخ ان ہی خلیفہ کے لقب کی نسبت سے الشِّدَّةُ المُسْتَنْصِرِيَّہ، یا مُستنصِری اِبتِلا کے نام سے جانتی ہے۔

المستنصر باللہ کا اصل نام مَعد ابوتمیم تھا جو سنہ 1036 میں صرف سات برس کی عمر میں خلیفہ بنے تو فاطمی سلطنت مصر، شمالی افریقہ، سِسلی، شام کے بعض حصوں اور حجاز تک پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم کم سنی کے باعث اقتدار عملاً وزیروں اور ابتدائی برسوں میں ان کی والدہ کے ہاتھ میں رہا جبکہ خلیفہ کی حیثیت زیادہ تر رسمی تھی۔

المستنصر باللہ: عروج سے زوال کی جانب

المستنصر باللہ کے ابتدائی عشروں میں فاطمی خلافت خوشحال تھی۔ اس خوشحالی کی بنیاد بحرِ ہند کی تجارتی طاقتوں اور قسطنطنیہ (بازنطینی سلطنت) کے ساتھ مصر کے منافع بخش تجارتی تعلقات تھے۔ اسی دور میں قاہرہ کے کتب خانوں میں توسیع ہوئی اور علم و ادب کی سرپرستی کی گئی۔

بلکہ سنہ 1059 کے لگ بھگ بغداد پر بھی کچھ عرصے کے لیے ان کا اثر قائم ہوا۔

لیکن 1094 میں المستنصر کی وفات پر ختم ہونے والے 58 سالہ دورِ حکومت میں، جس کے بیشتر حصے میں وہ نہایت شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ رہے، فاطمی حکومت کو ایسے کاری اور ناقابلِ تلافی دھچکے پہنچے جن سے وہ کبھی سنبھل نہ سکی۔

مؤرخین کے مطابق فاطمی سلطنت کا انتظامی اور فوجی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ یوں مصر بارہا مختلف فوجی گروہوں کی خونریز لڑائیوں کا میدان بنا رہا۔ المستنصر ان تنازعات کا رخ موڑنے یا ان پر مؤثر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، اگرچہ بعض مواقع پر انھوں نے خود بھی فوج کی قیادت کی۔

چونکہ فوج کی وفاداری تنخواہوں، جاگیروں اور شاہی سرپرستی سے وابستہ تھی، اس لیے محدود وسائل پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کرتی گئی۔

رفتہ رفتہ حقیقی اقتدار خلیفہ کے بجائے وزیروں کے ہاتھ میں منتقل ہونے لگا جنھوں نے وقتی سیاسی فائدے کے لیے مختلف گروہوں سے اتحاد کیے، وفاداریاں خریدنے کے لیے جاگیریں (اقطاعات) اور وظائف تقسیم کیے، جس سے ریاستی خزانہ کمزور اور انتظامی نظام مفلوج ہوتا چلا گیا۔

سنہ 1060 کی دہائی میں بحران نے شدت اختیار کرنا شروع کی۔ ترک اور سوڈانی فوجیوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کھلی خانہ جنگی میں بدل گئی۔ ان گروہوں نے قاہرہ میں لوٹ مار کی، غلے کی رسد میں خلل ڈالا اور ریاستی نظم و نسق کو مفلوج کر دیا۔

قحط اور خانہ جنگی

سنہ 1065 سے 1072 تک سات برس کے دوران دریائے نیل کا سالانہ سیلاب اس سطح تک نہ پہنچ سکا جو مصر کے روایتی آبپاشی کے نظام کے لیے ضروری تھا۔ یوں وسیع زرعی رقبہ بنجر ہو گیا اور گندم اور جَو جیسی بنیادی فصلیں تقریباً تباہ ہو گئیں۔

پہلے ہی ملک معاشی اور زرعی لحاظ سے کمزور تھا۔ مصری مؤرخ تقی الدین المقریزی لکھتے ہیں کہ کئی برس سے نہروں، پشتوں اور آب پاشی کے نظام کی مرمت نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے معمول سے کم سیلاب بھی تباہ کن ثابت ہوا۔

بعض معاصر بیانات کے مطابق قحط کے شدید برسوں میں فصلوں کی پیداوار معمول کے مقابلے میں 80 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو گئی۔

زرعی تباہی کے نتیجے میں روٹی کے لیے استعمال ہونے والے غلے کی شدید قلت پیدا ہو گئی، جو مصری عوام کی بنیادی غذا تھی۔ مصر، جو معمول کے حالات میں افریقیہ (موجودہ تیونس) اور حجاز تک غلہ برآمد کرتا تھا، خود خوراک کی شدید قلت کا شکار ہو گیا۔

مویشیوں کے لیے چارہ ناپید ہونے سے بڑی تعداد میں جانور ہلاک ہو گئے، جس سے دودھ اور گوشت کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

’ہسٹری آف دی کوپٹک آرتھوڈوکس پیپل اینڈ دی چرچ آف ایجپٹ‘ میں رابرٹ مورگن لکھتے ہیں کہ 1065سے 1072 تک جاری اس قحط نے پہلے سے خراب حالات کو مزید تباہ کن بنا دیا۔

تاریخ کی مختلف کتابوں سے علم ہوتا ہے کہ فاطمی سلطنت پہلے ہی بھاری فوجی اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔

فوجی گروہوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں دریائے نیل اور بحیرۂ احمر کے ذریعے ہونے والی تجارت تقریباً ٹھپ ہو گئی۔ مصر، جو کپڑے، پیپرس اور اضافی غلہ برآمد کر کے خطیر آمدنی حاصل کرتا تھا، اپنی تجارتی برتری کھونے لگا۔ 1066 اور 1067 تک تاجروں نے اشیائے خوردونوش ذخیرہ کرنا شروع کر دیں، جس سے قیمتیں مزید بڑھ گئیں اور بلیک مارکیٹ نے جنم لیا۔

مورگن کے مطابق خانہ جنگی نے آفت سے نمٹنے کے لیے ہر مؤثر اقدام کو مفلوج کر دیا تھا۔

وزیر ابو محمد البازوری کے قتل اور وزیروں کی مسلسل تبدیلی کے باعث حکومت مؤثر اقدامات کرنے سے قاصر رہی۔ سرکاری اہلکار عوامی امداد کے بجائے اپنے اپنے دھڑوں کو مضبوط بنانے میں مصروف رہے، جس سے انتظامی بدحالی مزید گہری ہوتی گئی۔

جیسے جیسے قحط شدت اختیار کرتا گیا، فاطمی فوج کے مختلف نسلی دھڑوں کے درمیان برسوں سے موجود کشیدگی کھلی خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ ترک، سوڈانی، بربر اور دوسرے فوجی دستے ریاستی خزانے سے تنخواہوں اور مراعات کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔ خالی ہوتے خزانے اور بڑھتے معاشی بحران نے اس رقابت کو مزید بھڑکا دیا تھا۔

خانہ جنگی جلد ہی عوام کے لیے ایک اور آفت بن گئی۔

تنخواہوں سے محروم فوجی شہری آبادی پر ٹوٹ پڑے، گھروں اور بازاروں کو لوٹا اور زرعی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ غلے کی رسد منقطع ہو گئی، تجارت مفلوج ہو گئی اور پہلے سے جاری قحط مزید گہرا ہو گیا۔

فاقہ کشی اور انسانی گوشت کی فروخت

قاہرہ، جس کی آبادی پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی، شدید غذائی قلت کا شکار ہو گیا۔ چمڑے کو ابال کر کھایا گیا، لوگ جنگلی پودے تلاش کر کے کھانے لگے اور ایک روٹی کے حصول کے لیے اپنے گھروں، زیورات اور دیگر قیمتی اشیا فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

مورگن لکھتے ہیں کہ سنہ 1069میں روزمرہ خوراک عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگی۔ ’قاہرہ، فسطاط اور بابلیون کے شہروں میں ایک روٹی پندرہ دینار میں فروخت ہونے لگی، ایک انڈے کی قیمت ایک دینار ہو گئی۔‘

مؤرخ ابن القلانسی کے مطابق خوراک کی شدید قلت اور ناقابلِ برداشت بھوک نے لوگوں کو مردار، لاشیں، کتے اور بلیاں کھانے پر مجبور کر دیا۔ ایک کتے کی قیمت پانچ دینار اور ایک بلی کی قیمت تین دینار تک پہنچ گئی۔ رفتہ رفتہ یہ جانور بھی ناپید ہو گئے۔

مورگن لکھتے ہیں کہ ایک شخص انسانی گوشت فروخت کرنے کے جرم میں گرفتار ہوا۔ وہ عورتوں اور بچوں کو غالباً کھانے کا لالچ دے کر اپنے پاس بلاتا، انھیں قتل کرتا، ان کے جسم کے ٹکڑے کرتا اور گوشت کے طور پر فروخت کر دیتا تھا۔

’ملک میں کوئی شاہراہ ایسی نہ رہی تھی جو چوروں، ڈاکوؤں یا مسلح جتھوں کی لوٹ مار سے محفوظ ہو۔‘

المقریزی کے مطابق زندہ رہنے کی جدوجہد میں لوگ ایک دوسرے کو اغوا کرنے لگے۔

}بعض جرائم پیشہ افراد گزرگاہوں سے متصل نشیبی مکانوں میں رہتے تھے۔ وہ خاص طور پر تیار کیے گئے لوہے کے کانٹوں اور رسیوں کی مدد سے راہ گیروں کو اندر کھینچ لیتے، لکڑی کے ڈنڈوں سے انہیں قتل کرتے، پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کر کے کھا جاتے۔

’لوگ خوراک کے چند لقموں کے عوض اپنی ساری جائیداد فروخت کرنے لگے۔‘

ایک ہزار دینار کی روٹی

المقریزی سے علم ہوتا ہے کہ ایک مالدار خاتون نے ایک مٹھی آٹا خریدنے کے لیے اپنا ہزار دینار مالیت کا قیمتی ہار بیچ دیا، مگر گھر واپسی پر وہ آٹا بھی لٹ گیا اور اس کے پاس صرف اتنا بچا کہ ایک روٹی بن سکی۔

وہ وہی روٹی لے کر خلیفہ المستنصر باللہ کے محل کے قریب ایک اونچی جگہ پر کھڑی ہوئی اور بلند آواز سے پکارنے لگی: ’اے اہلِ قاہرہ! اپنے حکمران المستنصر باللہ کے لیے دعا کرو، جس کے عہد میں ایک روٹی کی قیمت ہزار دینار ہو گئی ہے۔‘

اسی طرح ایک دولت مند شخص خلیفہ کے حضور حاضر ہوا اور شکایت کی کہ اس نے ستر دینار میں گندم خریدا تھا، مگر راستے میں وہ بھی لوٹ لیا گیا اور اس کے پاس صرف ستر دانے باقی بچے۔

قاہرہ اور فسطاط جیسے گنجان آباد شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں مؤرخین کے مطابق گلیوں میں بھوک سے نڈھال لوگ ڈھانچوں کی صورت گھومتے تھے اور چلتے چلتے گر کر دم توڑ دیتے تھے۔

بھوک نے معاشرے کی اخلاقی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دیں۔ خاندان اپنے بچوں کو غلامی یا جسم فروشی میں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے تاکہ باقی افراد کے لیے چند روز کی خوراک حاصل کی جا سکے۔ قبروں سے لاشیں نکالنے اور مردہ اجسام سے خوراک حاصل کرنے جیسے واقعات بھی مؤرخین نے قلم بند کیے ہیں۔

یہ سانحہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہا۔

المقریزی کے مطابق خلیفہ المستنصر باللہ کے محل میں بھی فاقہ کشی نے دستک دی، اور شاہی حرم کی بعض خواتین بھوک سے جان کی بازی ہار گئیں۔

مورگن لکھتے ہیں کہ ’روٹی کے حصول کے لیے خلیفہ کے آباؤ اجداد کے مقبروں کی آرائش تک فروخت کر دی گئی، اور محل کی خواتین کے لباس بھی بک گئے۔‘

’علاقے ویران ہو گئے، مکانات اپنے مکینوں سے خالی ہو گئے۔ زیریں مصر کے شہر طنیس، جو کبھی ایک خوش حال اور گنجان آباد شہر تھا ، میں صرف سو افراد زندہ بچے۔‘

بعض تاریخی اندازوں کے مطابق بھوک، بیماری اور تشدد کے نتیجے میں مصر کی ایک تہائی سے دو تہائی آبادی تک ہلاک ہو گئی، اگرچہ ان اعداد و شمار کی قطعی تصدیق ممکن نہیں۔

المقریزی بیان کرتے ہیں کہ شہروں کی گلیاں لاشوں سے اٹ گئی تھیں۔ مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں دفنانے والا کوئی نہ رہا۔ بے شمار لاشیں بغیر کفن کے دریائے نیل میں پھینک دی گئیں، جس سے طاعون اور دیگر وبائیں مزید پھیلیں اور اموات میں اضافہ ہوتا گیا۔

زندہ بچ جانے والوں نے خوراک کی تلاش میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی۔ قاہرہ اور فسطاط کے ہزاروں باشندے بالائی مصر اور ڈیلٹا کے دیہات کی طرف نکل گئے، جہاں کہیں کہیں اب بھی محدود زرعی پیداوار باقی تھی۔ دوسری طرف بہت سے تاجر، ہنرمند اور کاریگر شام اور عراق منتقل ہو گئے۔

ان میں بعض وہ بھی تھے جو شاہی محل سے لوٹے گئے قیمتی سامان کو بیرونِ ملک فروخت کر رہے تھے۔

اس ہجرت نے مصر کو نہ صرف افرادی قوت بلکہ تجارتی اور فنی مہارت سے بھی محروم کر دیا۔

اس وسیع پیمانے کی ہجرت اور آبادی میں کمی نے فاطمی خلافت کے انتظامی اور معاشی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا۔ ٹیکس وصولی کا نظام تقریباً ختم ہو گیا، ریاست کی عمل داری سکڑتی چلی گئی۔

خلیفہ کو محل کا سامان بیچنا پڑا

ابن القلانسی کے مطابق خود خلیفہ کے شاہی اصطبل میں بھی ذبح کرنے کے لیے کوئی جانور باقی نہ بچا۔

المقریزی لکھتے ہیں: نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ المستنصر نے اپنے محل کا تمام سامان، ذخائر، لباس، فرنیچر، اسلحہ اور دوسری اشیا فروخت کر دیں۔

’بحران کے دنوں میں خلیفہ اکیلے گھوڑے پر سوار ہوتے، جبکہ ان کے تمام مصاحب پیدل چلتے کیونکہ سواری کے لیے جانور باقی نہیں بچے تھے۔‘

’بھوک سے نڈھال یہ لوگ راستے میں گرتے پڑتے چلتے۔ بالآخر شدید فاقہ کشی کے باعث خلیفہ کی والدہ اور بیٹیاں بھی بغداد منتقل ہونے پر مجبور ہو گئیں۔‘

المستنصر باللہ نے اپنے ملک کو لپیٹ میں لینے والے قحط پر قابو پانے کی کوشش کی۔

المقریزی اپنی کتاب ’اغاثۃ الامۃ بکشف الغمۃ‘ میں لکھتے ہیں کہ خلیفہ نے قاہرہ کے والی کو بلاکر دھمکی دی کہ اگر وہ بازاروں میں روٹی کی فراوانی یقینی نہ بنا سکے تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

’والی نے ان قیدیوں کو، جنہیں پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی تھی، تاجروں کا لباس پہنایا۔ پھر انھوں نے شہر کے تاجروں، چکی مالکان اور نانبائیوں کا ایک بڑا اجتماع بلایا۔ ان سب کے سامنے انھوں نے حکم دیا کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے، یہ اعلان کرتے ہوئے کہ یہی وہ تاجر ہیں جنہوں نے غلہ ذخیرہ کر کے اور مصنوعی قلت پیدا کر کے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔‘

’اس کارروائی کے بعد اجلاس میں شریک تاجروں میں خوف پھیل گیا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے ذخیرہ کیے ہوئے غلے کو بازار میں لائیں گے، چکیاں دوبارہ چلائیں گے، بازاروں میں روٹی کی فراوانی پیدا کریں گے اور روٹی کی فروخت کے لیے ایک مناسب قیمت پر بھی اتفاق کریں گے۔‘

لیکن بحران اس سے گہرا تھا کہ ایسی نمائشی کارروائی سے حل ہوپاتا۔ اس بحران نے فاطمی خلافت کی سیاسی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دی تھیں۔

المستنصر باللہ کے زیرِ نگیں کئی علاقے ہاتھ سے نکل گئے۔ بغداد دوبارہ عباسی خلافت کے دائرۂ اقتدار میں آ گیا، مکہ اور مدینہ میں المستنصر کے نام کا خطبہ بند کر دیا گیا اور 1071 عیسوی میں نارمن حکمرانوں نے سیسلی پر قبضہ کر لیا، جو طویل عرصے تک فاطمی سلطنت کا حصہ رہا تھا۔

بدر الجمالی سے مدد، لیکن؟

آخرکار جب 1073 تک حالات قابو سے باہر ہو گئے تو المستنصر باللہ نے عکا میں تعینات آرمینیائی سپہ سالار بدر الجمالی کو مصر آنے کی دعوت دی اور انھیں فوج کی مکمل کمان سونپ دی۔

المستنصر نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی بدر الجمالی کی بیٹی سے کر کے اس تعلق کو مزید مضبوط بنایا، لیکن یہ فیصلہ فاطمی خلافت کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

مورخ السرجانی کے مطابق بدر الجمالی 1073ء کے اواخر میں مصر پہنچے اور سخت گیر کارروائیوں، پھانسیوں اور مخالف دھڑوں کے خاتمے کے ذریعے انتشار، قحط، بدامنی اور خانہ جنگی کے شدید مرحلے کا خاتمہ کر کے ملک میں امن و امان بحال کیا۔

تاہم حقیقی اقتدار اب خلیفہ کے بجائے بدر الجمالی کے ہاتھ میں آ گیا، جبکہ آرمینیائی فوجیوں کی بڑی تعداد کو ریاستی فوج کا حصہ بنا لیا گیا۔

انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق آئندہ برسوں میں فاطمی خلافت کو اپنی بقا کے لیے طاقتور وزیروں پر انحصار کرنا پڑا، جبکہ مصر سے باہر فاطمی سلطنت کا اثرورسوخ مسلسل سکڑتا گیا۔

شمالی افریقہ کے کئی علاقے المستنصر کے قبضے سے نکل گئے، جبکہ شام میں حالات اس قدر افراتفری کا شکار تھے کہ مشرق سے پیش قدمی کرنے والے سلجوقی ترکوں کی مؤثر مزاحمت ممکن نہ رہی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US