ایران کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی فوج کو مکمل تیاری کی ہدایت جاری کر دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکا اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اردن میں تعینات دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں نے اپنے ملک کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا اور امریکی قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو ہدایت دیتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ ایران کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق امریکا کا اولین مقصد ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسا ہونا صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی افواج اپنے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ضروری فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر عالمی طاقتیں بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں قائم امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ حملے ہفتے کے روز کیے گئے تھے۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے، متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا جبکہ فوجی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک دھماکا خیز ڈرون بھی استعمال کیا، جبکہ کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مختلف فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔