لاہور ہائیکورٹ نے لاہور موٹروے زیادتی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مجرموں عابد علی اور شفقت عرف بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے ڈیتھ ریفرنس بھی منظور کر لیا۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈی این اے، میڈیکل اور فرانزک شواہد نے ملزمان کے خلاف جرم کو ثابت کیا۔ فیصلے کے مطابق متاثرہ خاتون کی گواہی قابلِ اعتماد، مربوط اور سزا برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے جبکہ ڈی این اے شواہد نے ملزمان کو جائے وقوع سے جوڑ دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فرانزک شواہد نے استغاثہ کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا جبکہ شناختی پریڈ قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف انداز میں کی گئی۔ عدالت نے دفاع کی جانب سے شناختی پریڈ اور دیگر شواہد پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات مسترد کر دیے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ریاست کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کر دی۔
واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں 9 ستمبر 2020 کو موٹروے زیادتی واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس نے ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا تھا۔