پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے اپنی ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 28 اپریل کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا جبکہ 9 مئی کے مقدمے میں عائد الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی گواہ نے میاں محمود الرشید پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد نہیں کیا۔
درخواست کے مطابق ٹرائل کورٹ نے برآمدگی سے متعلق الزام مسترد کر دیا تھا تاہم اس کے باوجود سازش کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ سازش سے متعلق گواہوں کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔
میاں محمود الرشید نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ اسی مقدمے میں شریک ملزم شاہ محمود قریشی کو بری کیا جا چکا ہے، لہٰذا ایک ہی مقدمے میں ایک ملزم کو بری اور دوسرے کو سزا دینا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
اپیل میں پنجاب حکومت اور ایس ایچ او تھانہ شادمان کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ضمانت منظور کی جائے۔