پاکستان نے یمن کے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے یمن کے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، پاکستان اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جبیمن کے حوثی گروہ نے ملک کے شمال مغربی علاقے کی بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کی مبینہ ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
یہ اعلان حوثی گروہ کے فوجی ترجمان کی جانب سے کیا گیا جنھوں نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم حوثی میڈیا سے تعلق رکھنے والے حکام نے کہا ہے کہ وہ سعودی جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر رہے ہیں جو بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
اس اعلان کے جواب میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بین الاقوامی قوانین کے تحت سعودی جہازوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب تیل کی ترسیلات کے لیے بحیرہ احمر سعودی عرب کے لیے اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
حوثی گروہ کی جانب سے حالیہ اعلان سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں کے درمیان 2022 میں باضابطہ امن قائم ہوا تھا۔

حوثیوں کے بیان پر پاکستان کا جواب: ’سعودی تجارت کے خلاف دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں‘
حوثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صنعا کے فضائی اڈے پر سعودی بمباری کے جواب میں ابہا کے فضائی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔ تاہم صنعا پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ایک ایرانی جہاز کو بنا اجازت کے اترنے سے روکنا تھا۔
2014 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے یمن کو متاثر کیا ہے جس کے دوران حوثی باغیوں نے صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حکومت کی بحالی کے لیے مداخلت کی تھی۔
اس دوران ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ افراد دنیا کے سب سے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہوئے ہیں۔
سوموار کے دن حوثی فوجی ترجمان نے کہا کہ ’سعودی عرب نے 12 سال سے ہمارے لوگوں پر ایک غیر منصفانہ محاصرپ کر رکھا ہے، ہمارے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے اور ہماری بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کی جامع زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ اب حوثی گروہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول کے تحت سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’محاذ آرائی میں اضافے کی صورت میں جامع اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘
نصر الدین عامر، جو حوثی میڈیا آفس کے نائب سربراہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آبنائے باب المندب کو سعودی جہازوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔‘
ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘
دفترِ خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچاتے ہیں، قواعد پر مبنی بحری نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’تجارتی جہاز رانی اور سعودی عرب کے ساتھ تجارت کے خلاف دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'پاکستان کو خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش ہے جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔'
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم رہتے ہوئے پاکستان تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔‘

آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟
آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور 70 فیصد کام تیل اس راستے سے منتقل کیا جاتا ہے۔
ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔
حوثی باغی اور آبنائے باب المندب
واضح رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دس دن سے امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں جس کے جواب میں ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کرنے کا دعوی بھی سامنے آیا ہے۔
اپریل میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آبنائے باب المندب دنیا کی سٹریٹجک آبناؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور ایران کے پاس اس حوالے سے ایک مکمل اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔‘
اس سے قبل حوثی گروہ، جو ایرانی حمایت یافتہ ہے، نے اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جن میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے تھے اور آبنائے باب المندب سے تجارتی ٹریفک کا گزر بہت کم ہو گیا تھا۔
باشا رپورٹ نامی امریکی ایڈوائزری کمپنی کے محمد الباشا کہتے ہیں کہ ’اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حوثی گروہ سعودی عرب کی جانب جانے والے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے یا نہیں۔‘
انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا جاتا تو صرف اعلان سے ہی سعودی بندرگاہوں کے لیے غیر یقینی پیدا ہو گی۔‘
’لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا حوثی دھمکیوں پر عمل بھی کریں گے؟‘