میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے واقعے سے قبل ان کے آخری 12 گھنٹوں کی تفصیلی ٹائم لائن مرتب کرلی ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق میر رضا آخری لمحات تک سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوششوں میں مصروف رہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق شام 5 بج کر 54 منٹ پر شارع فیصل پر میر رضا کی احمد راجہ سے ملاقات ہوئی، جس میں 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت کی گئی۔
رات 7 بج کر 5 منٹ پر بینک کی جانب سے میر رضا کو آگاہ کیا گیا کہ ان کی بہن کے نام ایک کروڑ روپے کے قرض کی منظوری دے دی گئی ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس سے قبل میر رضا کی ایک قرض درخواست بینک مسترد کرچکا تھا۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق رات 8 بج کر 23 منٹ پر فاروق محمود نے سرمایہ کاری کرنے سے معذرت کرلی۔ میر رضا اس سے قبل بھی فاروق محمود کو سرمایہ کاری کی متعدد پیشکشیں کرچکے تھے۔
بعد ازاں رات 11 بج کر 50 منٹ پر میر رضا نے اپنے دوست عبدالرزاق کے ہمراہ غفار کباب ہاؤس میں کھانا کھایا۔ رات 12 بجے میر رضا نے صارم سید سے ہنگامی بنیادوں پر 3 کروڑ روپے قرض مانگا۔ پیغام میں انہوں نے اگلی صبح کو انتہائی مشکل قرار دیا۔
تحقیقاتی ٹائم لائن کے مطابق رات 2 بج کر 23 منٹ پر میر رضا نے گھر پر اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کیا، جبکہ تفتیشی ذرائع کے مطابق ان کی گھڑی میں مالی آزادی اور قرض کی ادائیگی سے متعلق دعا بھی موجود تھی۔
رات 2 بج کر 42 منٹ پر فیس بک، لنکڈ اِن اور اسنیپ چیٹ اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے۔ رات 3 بج کر 10 منٹ پر منگیتر کی جانب سے کی جانے والی متعدد کالز اور پیغامات کا میر رضا نے جواب نہیں دیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے مذکورہ تمام واقعات اور ڈیجیٹل شواہد کو کیس کی تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے، جبکہ آخری 12 گھنٹوں کے دوران ہونے والی مالی سرگرمیوں اور رابطوں کا مزید جائزہ لیا جارہا ہے۔