انٹرنیٹ کی بندش سے اجتماعی سزا کا پیغام دیا جا رہا ہے، عوام تک آواز نہ پہنچ سکے تو کشمیر میں انتخابات کی ساکھ کیا رہ جائے گی: بلاول بھٹو زرداری

بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال، اسمبلی انتخابات اور خطے میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لیے ٹروتھ کمیشن قائم کرنے کی تجویز پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری
BBC
’پی پی پی الیکشن کمیشن سے کشمیر کے اُن علاقوں میں انٹرنیٹ کی بحالیکی درخواست کرے گی جہاں پر امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے‘

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہاں نہ فون چلتا ہے اور نہ انٹرنیٹ، تو وہ کیسے اپنی مہم چلا سکتے ہیں۔

بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال، اسمبلی انتخابات اور کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لیے ٹروتھ کمیشن قائم کرنے جیسی تجویز پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر میں گذشتہ 40 روز سے فون اور انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں ڈیجیٹل میڈیا پر انتخابی مہم کو کیسے چلایا جا سکتا ہے؟ انھوں نے سوال کیا کہ اگر ایسے ہی حالات رہے تو پھر اِن انتخابات کی کیا ساکھ رہ جائے گی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا مزید کہنا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، وہاں ضرور محدود پابندی لگائی جائے لیکن پورے کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سے اجتماعی سزا کا پیغام دیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس عمل سے ماضی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کی یاد تازہ ہوتی ہے، جس میں اگر کسی گاؤں کے کسی فرد نے جرم کیا ہوتا تھا تو اِس کی سزا پورے گاؤں کو دی جاتی تھی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت الیکشن کمیشن سے کشمیر کے اُن علاقوں میں انٹرنیٹ کی بحالیکی درخواست کرے گی جہاں پر امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

بی بی سی کی جانب سے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے تنازع پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ 12 سیٹوں کا معاملہ اسمبلی سے ہی حل ہونا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ مان لیتے ہیں کہ اُن کی جماعت کی محض چھ ماہ قائم رہنے والی حکومت سے غلطی ہوئی ہو گی یا ریاست پاکستان نے غلطی کی ہو گی مگر اس کی سزا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو تو نہیں دی جا سکتی۔

بلاول بھٹو زرداری
BBC
’میری نظر میں تمام مسائل کا حل ٹروتھ کمیشن کے قیام میں ہے‘

کشمیر میں جاری احتجاج پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کالعدم قرار دی گئی جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اگر ایجنڈا یہ ہے کہ وہ اس احتجاج سے کشمیر اور پاکستان کی حکومت کو سبق سیکھائیں گے تو اُن کی یہ سوچ غلط ہے۔

تاہم انھوں نے ریاست پاکستان سے بھی کہا ہے کہ اگر کوئی احتجاج کر رہا ہے اورحکومت یہ سمجھتی ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو سزا صرف اُسی کو ملنی چاہیے جو گنہگار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہوا ہے وہ اُن کی جماعت کے کشمیر میں اقتدار میں آنے سے پہلے ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی نظر میں اِن تمام مسائل کا حل ایک ٹروتھکمیشن کے قیام میں ہے جس میں تمام حقائق کو سامنے لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟

انھوں نے کہا کہ شاید وہ عوامی سطح پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے سے متعلق بات نہ کر سکیں کیونکہ اس فیصلے کا اگر از سر نو جائزہ بھی لینا ہے تو یہ صرف یہ کمیشن میں ہی ہو سکتا ہے۔

کشمیر
Getty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ کئی روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے

انھوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ جب مجوزہ ٹروتھ کمیشن کی تشکیل ہو جائے تو عوامی ایکشن کمیٹی اپنا احتجاج اُس وقت تک ختم کرنے کا اعلان کرے جب تک اس کمیشن کی حتمی رپورٹ نہیں آ جاتی اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف اس وقت تک کارروائی روک دے۔

ٹروتھ کمیشن کے قیام کے حوالے سے تجویز سے متعلقایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہوفاقی حکومتاس تجویز (کمیشن کا قیام) پر جلد جواب دے، انھوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی اس ضمن میں خط لکھا ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر فریقین اُن کی ٹروتھ کمیشن کی تجویز سے اتفاق نہیں کرتے تو وہ خود بتا دیں کہ اس کا حل کیا ہے؟ کیونکہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔

ریاستی سطح پر کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہوہ اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں، تاہم اُن (بلاول بھٹو) کی نظر میں مسائل کے حل کا یہی طریقہ (ٹروتھ کمیشن) ہے۔

انھوں نے کہا کہ لاشیں گرا کر اور لوگوں کو مشکل میں ڈال کر مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔

جب بلاول سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتحابات میں حصہ لینے والے امیدوار عوامی ردعمل کی وجہ سے اپنی انتخابی مہم نہیں چلا پا رہے، تو ایسے حالات میں اُن کی الیکشن سے کیا امیدیں ہیں؟

اس پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسری جماعت کے امیدوار کی تو بات نہیں کرتے لیکن جب وہ گذشتہ دنوں انتخابی مہم کے لیے مظفر آباد پہنچے اور جس طرح سے اُن کا استقبال کیا گیا، اُس کو دیکھ کر انھیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ان کی جماعت کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں کسی قسم کی پرشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ اس الیکشن کو جتنا غیر متنازع بنایا جائے اُتنا ہی ریاست کے لیے بہتر ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد کی منظوری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام نہ تو مشترکہ مفادات کی کونسل، نہ ہی این ایف سی ایوارڈ اور نہ ہی پاکستانی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، تو ایسے میں گلگت بلتستان اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد احسن اقدام ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جب تک کشمیر اور دیگر علاقوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان علاقوں کے مکینوں کو حق رائے دہی نہیں دیا جائے تو اس وقت تک انھیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو پاکستان کے زیر انتظام 80 سال ہونے کو ہیں، اور یہاں کے لوگ اپنا حق حکمرانی مانگتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو ’پرانی تنخواہ‘ پر نہیں چلایا جا سکتا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی سے پوچھا گیا کہ پاکستان اکثر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے، لیکن اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں بھی انڈیا کی جانب سے اسی نوعیت کے الزامات اور خدشات سامنے آ رہے ہیں؟

بلاول بھٹو نے کہا کہ یقیناً وہ (انڈیا) ایسے بیانات دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر بیانات جاری کرتے رہتے ہیں مگر اُن کی تشویش انڈین وزرا کے بیانات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ وہ موجودہ صورتحال پر اس لیے بات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے کشمیر میں عملی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اُن کا ماننا ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جسے باہمی افہام و تفہیم، مذاکرات اور مناسب آئینی و سیاسی فورمز کے ذریعے حل نہ کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اِسی مقصد کے تحت انھوں نے ایک تجویز پیش کی تھی اور آئندہ کے لیے بھی اُن کے پاس ایک منصوبہ موجود ہے، جس کا مقصد کشمیر کے عوام کو مزید حقوق دینا اور پاکستان کے نظام کے اندر انھیں مؤثر آواز فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی رائے سنی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مالی، سیاسی اور انتظامی فیصلوں سے متعلق فورمز میں کشمیری عوام کی نمائندگی موجود ہو۔

’میرا خیال ہے کہ اگر ان فورمز میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی آواز شامل نہ ہو تو ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس میں لوگ اپنی بات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکلنے یا زیادہ سخت طرز کے احتجاجی اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس فوری بحران سے نکلنے اور کشمیر میں استحکام، امن اور خوشحالی کی راہ ہموار کرنے کے لیے چند سادہ اور قابل عمل حل موجود ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US