ایجبسٹن میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 133 رنز پر آؤٹ ہونے اور 320 رنز کے خسارے کا سامنا کرنے کے باوجود شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنی دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے۔ پاکستان نے انگلینڈ کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دے دیا ہے۔
رضا اللہ نے بولنگ کے بعد جارحانہ بلے بازی کے ذریعے پاکستان کے سکور کو آگے بڑھایاایجبسٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پہلے دن 133 رنز پر ڈھیر ہونے والی پاکستانی ٹیم نے شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنی دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دے دیا ہے۔
پہلی اننگز میں 320 رنز کے خسارے کے باوجود پاکستان نے بھرپور مزاحمت کی اور انگلینڈ کے خلاف 129 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
تیسرے دن پاکستان نے 52 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا۔ اذان اویس اور شان مسعود نے 125 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دیا۔
اذان اویس 59 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ شان مسعود سنچری سے صرف پانچ رنز دور رہ گئے اور 95 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد کپتان بابر اعظم نے پاکستان کی مزاحمت میں 76 رنز کا حصہ ڈالا، تاہم 278 کے مجموعی سکور پر ان کی وکٹ بھی گر گئی۔
سعود شکیل 29، غازی غوری 16 اور محمد عمران چار رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بولنگ میں متاثر کن کارکردگی دکھانے والے رضا اللہ نے اس موقع پر بیٹنگ بھی جم کر کی۔ انھوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے، جس میں چار چوکے اور نو چھکے شامل تھے۔ دوسری جانب محمد عباس نے 42 رنز کی اننگز کھیلی۔
پاکستان کی پوری ٹیم 96.4 اوورز میں 449 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
انگلینڈ کی جانب سے گس اٹکنسن نے تین جبکہ اولی رابنسن، جوش ٹنگ اور ڈین لارنس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
ایجبسٹن ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کی پوری ٹیم 133 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ جواب میں انگلینڈ نے 453 رنز بنا کر پاکستان پر 320 رنز کی بڑی لیڈ حاصل کر لی تھی۔
پہلی اننگز میں پاکستان کی جانب سے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل، بولر محمد عباس کے علاوہ کوئی زیادہ دیر تک کریز پر نہیں رُک سکا۔ سعود شکیل نے 43 اور محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ دو ہندسوں میں داخل ہونے والے تیسرے کھلاڑی رضا اللہ تھے، جنھوں نے 11 رنز بنائے۔
ان کے علاوہ کپتان بابر اعظم سمیت کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فگرز میں داخل نہیں ہو سکا۔
انگلینڈ کی جانب سے جاش ٹنگ نے چار اور جوفرا آرچر اور اولی رابنسن نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

ٹیم میں تبدیلیاں بھی کارآمد ثابت نہ ہو سکیں
انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ایجبسٹن میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ اس میچ میں پاکستانی ٹیم میں تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا جن میں غازی غوری، محمد عمران اور رضا اللہ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کو پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد سکواڈ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا تھا۔
ایجبسٹن ٹیسٹ کی شروعات کے پہلے گھنٹے میں ہی پاکستان نے اپنی چار وکٹیں گنوا دی تھیں۔
بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل کے مطابق ایسا پہلا بار ہوا ہے کہ انگلینڈ میں پہلی اننگز میں کسی ٹیم کے پہلے پانچ بلے باز 10 رنز تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ یہ وہ کارنامہ انجام ہے جو اس سے پہلے کسی بھی ٹیم نے سرانجام نہیں دیا تھا۔
پاکستان کی پہلی وکٹ آٹھ رنز پر گِری جب صائم ایوب صفر پر اولی رابنسن کا شکار بنے۔ یہ رابنسن کی 100ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔ دوسرے اوپنر آذان اویس نے چوکوں کی مدد سے 9 رنز بنائے لیکن ان کی وکٹ جوفرا آرچر نے حاصل کی۔
تیسرے نمبر پر آئے عبد اللہ شفیق تین رنز بنانے کے بعد رابنسن کا دوسرا شکار بنے۔ چوتھی وکٹ شان مسعود کی گِری جو آرچر کی شارٹ گیند پر مڈ وکٹ کو کیچ دے بیٹھے۔
پانچویں وکٹ کپتان بابر اعظم کی گِری جنھوں نے صرف سات رنز کی باری کھیلی۔ محمد رضوان کی جگہ ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر غازی غوری آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے۔
ڈیبیو کرنے والے دوسرے کھلاڑی محمد عمران کی وکٹ 86 رنز پر گِری۔
لنچ کے وقفے تک پاکستان نے 100 رنز پر سات وکٹیں گنوا دی تھیں۔
اس کے بعد 101 کے مجموعی سکور پر رضا اللہ، 107 رنز پر سعود شکیل اور 133 کے مجموعی سکور پر محمد عباس آؤٹ ہوئے۔
سرفراز احمد اور مائیک ہیسن کے لیے ’مشکل وقت‘
تیسرے ٹیسٹ کی شروعات سے قبل نہ صرف پاکستان نے اپنے سکواڈ میں تبدیلیاں کی تھیں بلکہ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گُل کو بھی ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا تھا، جس کے بعد مائیک ہیسن کو ہی ٹیسٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔
میچ کے دوران کمنٹیٹر ناصر حسین نے پاکستان کے کوچ مائیک ہیسن سے پوچھا کہ کیا انھوں نے ٹیسٹ کوچ بننے کی پیشکش پر یہ سوچا کہ یہ سابقہ کوچز کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور کل ان کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہےـ
مائیک ہیسن نے جواب میں کہا کہ ’جب میں آیا تو فیصلہ ہو چکا تھا۔ کوئی کوچ نہیں تھا۔ میں نے آ کر سرفراز سے بات چیت کی جو ہم دونوں ہی کے لیے یہ کافی مشکل تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی توجہ ٹیم کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کرنے پر مرکوز ہے۔
انھوں نے جیسن گلسپی کے تبصروں سے متعلق سوال پر کہا کہ ’کچھ چیزیں قابل قبول ہیں۔ کچھ نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘
مائیک ہیسن نے کہا کہ وہ سات نئے کھلاڑیوں کی سلیکشن کے عمل کا حصہ تھے۔ جبکہ ان کے مطابق ایجبسٹن ٹیسٹ سے قبل وہ جاپان میں ایشیئن گیمز کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ ضرور ہے اور وہ ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پُرامید ہیں۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم کو سابقہ ٹیسٹ میں کم ٹریننگ مل پائی تھی مگر اس بار انھیں تین اضافی دن ملے۔
ٹیم میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باوجود خراب کارکردگی پر کرکٹ کمنٹیٹر عاطف نواز نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا: ’معلوم ہوا کہ سیریز کے دوران سات کھلاڑیوں اور دو کوچز کو نکال دینا جادوئی طور پر تمام مسائل حل نہیں کرتا۔‘

سکواڈ میں تبدیلیوں کا دفاع نہیں کر سکتا: رمیز راجہ
ٹیسٹ میچ کے پہلے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ ٹیسٹ سے قبل پاکستان کی جانب سے سات کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے جیسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ اس کا دفاع کیسے کرتے ہیں کیونکہ آپ اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔'
انھوں نے کہا کہ 'صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ مجھے امید ہے کہ کھلاڑی ذہنی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بابر اعظم کے لیے یہ مشکل کام ہو گا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ بابر اعظم کو بھی 'شاید یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ بطور کپتان یہ خبر رشتہ داروں اور میڈیا سے حاصل کرنا حوصلہ شکن ہے۔'