امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک ایسے معاہدے کا اعلان متوقع ہے جس کے تحت سعودی عرب کو سویلین جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اطلاعات ہیں کہ اس معاہدے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کیاامریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک ایسے معاہدے کا اعلان متوقع ہے جس کے تحت سعودی عرب کو سویلین جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بدھ کو اس حوالے سے باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
اس معاہدے کی مالیت اربوں ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے تحت افزودہ یورینیئم تیار کرنے کی ایک تنصیب کی تعمیر میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ اس معاہدے میں شامل کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے اور اس حوالے سے کانگریس سے مشاورت بھی ضروری ہو گی۔
افزودہ یورینیئم کو بجلی گھروں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے مزید افزودہ کر کے ایٹم بم بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جوہری ماہرین اور اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے اہم اتحادی ہے، کے سابق عہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ بالآخر سعودی عرب کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔
ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انتظام کے تحت امریکہ کے ساتھ مشترکہ مطالعہ مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاکہ امریکی ساختہ افزودگی کی تنصیب میں ایندھن تیار کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کیا جائے۔
یہ شق اس معاہدے کو اس معاہدے سے مختلف بنائے گی جو امریکہ نے 2009 میں سعودی عرب کے پڑوسی متحدہ عرب امارات کے ساتھ کیا تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات اپنا ایندھن خود تیار نہیں کرتا اور متعدد دیگر پابندیاں قبول کرتا ہے۔
اسی وجہ سے اس معاہدے پر جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مہم چلانے والوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار متوقع ہے، جن کا حتمی مقصد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کو روکنا ہے۔
جوہری معاملہ کئی ماہ سے جاری امریکہ اسرائیل تنازع میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ فروری میں ایران پر حملہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ملک کو کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے، جس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
سعودی عرب کے عملی حکمران، ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 میں سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا منصوبہ نہیں بنا رہا لیکن ’اگر ایران نے جوہری بم تیار کر لیا تو بلا شبہ ہم بھی جلد از جلد اسی راستے پر چلیں گے۔‘
والسٹریٹ جرنل کے مطابق بدھ کو منظر عام پر آنے والا امریکہ سعودی معاہدہ پہلے ہی ٹرمپ کی منظوری حاصل کر چکا ہے اور 30 سال تک نافذ رہے گا۔
اخبار کے مطابق اگر مشترکہ مطالعے کے بعد امریکہ سعودی عرب میں افزودگی کے عمل پر اعتراض کرتا ہے تو مملکت کو 10 برس تک نہ تو خود اور نہ ہی کسی دوسرے غیر ملکی شراکت دار کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔
اب یہ منصوبہ امریکی کانگریس کو بھیجا جائے گا۔
اگرچہ یہ توقع ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض قانون ساز بھی اس معاہدے کی مخالفت کریں گے تاہم ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں میں اکثریت رکھتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ سعودی معاہدے کو اس شرط سے مشروط نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لائے۔
سعودی، اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش متعدد امریکی صدور کی خواہش رہی ہے۔