’اُن کا جرم کیا تھا‘: میناب سکول حملے میں 120 بچوں کی ہلاکت کے چار ماہ بعد بی بی سی نے کیا دیکھا؟

میناب سکول پر حملے کو اس جنگ کا بڑا سانحہ سمجھا جاتا ہے جس میں ایرانی حکام کے مطابق مجموعی طور پر 156 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 120 بچے بھی شامل ہیں۔ اس سکول کی ایک 33 سالہ ٹیچر پہلی جماعت کی بچیوں کو پڑھاتی تھیں۔ اب ان کی کلاس کا صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔ تباہ شدہ کلاسوں میں بچوں کی کرسیاں اور سجی ہوئی دیواریں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
Collage image showing teacher Amaineh Nademi, wearing a black chador, looking directly at the camera with a serious expression. To her left is a close up shot of a pink chair next to rubble in a classroom which has blue walls.
BBC

انتباہ: اس رپورٹ میں بچوں کی ہلاکتوں کی دلخراش تفصیلات شامل ہیں۔

امینہ ندیمی احتیاط سے اپنے پرانے سکول کے کچھ بچ جانے والے حصے میں چل رہی ہیں۔

اوپر کی منزل کے تباہ شدہ حصے سے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے خطرناک انداز میں لٹک رہے ہیں۔ چند کلاس روم اب بھی ہیں جن کی شوخ رنگ دیواروں پر غباروں اور پھولوں کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔

33 سالہ معلمہ کو بخوبی یاد ہے کہ کیا چیز کہاں تھی۔ اوپر والی منزل پر لڑکیوں کی کلاسیں تھیں، نیچے لڑکوں کی کلاسیں، ہیڈ ٹیچر کا دفتر اور نماز کا کمرہ۔

میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری سکول، جہاں وہ پہلی جماعت کی بچیوں کو پڑھاتی تھیں، میں اب ان کی کلاس کا صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔ تباہ شدہ کلاسوں میں بچوں کی کرسیاں اور سجی ہوئی دیواریں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں، سکول پر ہونے والے ایک حملے نے ایک عام ہفتے کی صبح کو اس تنازعے کے سب سے بڑے سانحے میں تبدیل کر دیا اور یہ عام شہریوں کے لیے سب سے مہلک واقعہ ثابت ہوا۔

میناب پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق مجموعی طور پر 156 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 120 بچے بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون اور اس کی کوکھ میں بچہ بھی شامل تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج نے سکول کو نشانہ بنایا، جو پاسدارانِ انقلاب کمپاؤنڈ کے ساتھ واقع ہے اور سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپاؤنڈ پر کئی بار حملے کیے گئے تھے۔

امریکہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ غالب امکان ہے کہ امریکی افواج نے غیر ارادی طور پر یہ حملہ کیا۔

The section that remains of Shajareh Tayyebeh Primary School in Minab. It is a severely damaged two-storey building, with sections of wall missing and chunks of concrete hanging off it. It is surrounded by a flat, rubble-strewn area.
BBC
لڑکیوں کو پرائمری سکول کی اوپری منزل پر جبکہ لڑکوں کو نچلی منزل پر پڑھایا جاتا تھا۔

یہاں کیا ہوا، اس کا درد اب بھی تازہ ہے۔

اساتذہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ ہر روز اس مقام پر دعا کرتے ہیں۔ امدادی کارکن اب بھی یہاں ہلاک ہونے والوں کی باقیات تلاش کر رہے ہیں۔

اوپری منزل کا بڑا حصہ نیچے والی منزل پر آ گرا تھا۔

امینہ کہتی ہیں کہ ’آپ اسے سکول نہیں کہہ سکتے۔ یہ صرف ایسی دیواریں ہیں جن سے موت، غم اور یہاں بہائے گئے خون کی بو آتی ہے۔‘

ایرانی حکام چاہتے تھے کہ ہم اس سکول کا دورہ کریں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن نے جس مہم کو ایران کے فوجی اور سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا، اس کی قیمت عام شہریوں نے انتہائی تباہ کن صورت میں چکائی۔

’ہم سب اچھل کر دور جا گرے‘

امینہ بتاتی ہیں کہ سکول کا دن معمول کے مطابق شروع ہوا تھا۔

ان کے مطابق چونکہ اسلامی مہینہ رمضان تھا، اس لیے بچے قرآن کی تلاوت کے لیے نماز ہال میں جمع ہوئے تھے، جس کے بعد اُنھوں نے اپنی طالبات کو فارسی حروفِ تہجی کا ایک نیا حرف پڑھانا شروع کیا۔

لیکن جیسے ہی جنگ کے ابتدائی حملے ایران بھر میں شروع ہوئے، ان کے مطابق ہیڈ ٹیچر نے اعلان کیا کہ سکول بند کیا جا رہا ہے اور اساتذہ نے والدین سے رابطہ کرنا شروع کیا تاکہ وہ اپنے بچوں کو لے جائیں۔

امینہ کے مطابق جب انھوں نے سکول کے قریب ایک دھماکے کی آواز پہلی بار سنی تو ان کی پہلی جماعت کی 15 طالبات میں سے صرف پانچ کلاس روم میں موجود تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ راہداری میں تھیں اور فوراً بچوں کے پاس واپس دوڑیں۔

امینہ کہتی ہیں کہ ’جیسے ہی میں نکلنے لگی، ایک میزائل سکول سے ٹکرایا۔‘

’کوئی چیز میرے سر اور میرے طالب علموں کے سروں سے ٹکرائی اور ہم سب اچھل کر دور جا گرے۔‘

پھر ان کے مطابق، کلاس روم گھنے سیاہ دھویں سے بھر گیا۔

’میں اپنی بانہوں میں موجود بچوں کو بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ہم سانس نہیں لے پا رہے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایک اور دھماکے کی آواز بھی یاد ہے، ساتھ ہی چیخ و پکار، بچوں کے رونے اور پھر پورے سکول کے گرنے کی آواز۔

’سب کچھ ایک ساتھ تباہ ہو گیا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’میرے اور بچوں کے جسموں سے خون بہہ رہا تھا۔‘

Amaineh Nademi walking along a remaining corridor of the Shajareh Tayyebeh Primary School in Minab. She is wearing a black chador and showing BBC reporter Nawal Al-Maghafi the damage to the school. The concrete walls are cracked, and have previously been painted pastel green.
BBC

وہ کہتی ہیں کہ جب دھواں کچھ دیر کے لیے کم ہوا تو انھوں نے زخمی بچوں کو نیچے موجود لوگوں کے حوالے کیا اور آگ اور ملبے کے درمیان سے گزر کر سکول کے دروازے تک پہنچیں، جہاں اُنھوں نے والدین کا ہجوم دیکھا۔

انھیں یاد ہے کہ بہت سے والدین اتنی جلدی میں وہاں پہنچے تھے کہ جوتے تک نہیں پہن سکے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ صدمے اور الجھن میں وہ سمجھ نہیں سکیں کہ والدین سکول کی طرف کیوں بھاگ رہے ہیں، کیونکہ انھیں لگا کہ سب لوگ عمارت سے نکل چکے ہوں گے۔

’مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ سب ملبے کے نیچے ہیں۔‘

امینہ چھ سال تک اس سکول میں پہلی جماعت کو پڑھاتی رہی تھیں۔

وہ اس دن ہلاک ہونے والے طلبہ اور ساتھیوں کے نام گنواتی ہیں۔

ان کی پہلی جماعت کی طالبہ اڈرینا، جو ان کے مطابق اپنی والدہ کے ساتھ سیڑھیوں پر ہلاک ہوئی، دوسری جماعت کی فاطمہ اور بہت سے دوسرے، جن میں چھٹی جماعت کے وہ بچے بھی شامل ہیں جنھیں اُنھوں نے کبھی حروفِ تہجی سکھائی تھی۔

ہلاک ہونے والوں میں ہیڈ ٹیچر، نائب ہیڈ ٹیچر، جسمانی تعلیم کے استاد اور قرآن کے استاد بھی شامل تھے۔

’میرے بیٹے کو ڈھونڈو‘

چند ہی منٹوں میں ہنگامی امدادی کارکن پہنچنا شروع ہو گئے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے کارکن رضا بشارتی بتاتے ہیں کہ وہ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پہلے امدادی کارکنوں میں شامل تھے۔ سکول کے قریب سڑکیں ٹریفک سے بھری ہوئی تھیں کیونکہ بے چین خاندان اپنے بچوں کو تلاش کرنے کے لیے دوڑ رہے تھے۔

میناب ایک چھوٹا شہر ہے۔

رضا بتاتے ہیں کہ جب وہ ہجوم سے گزرتے ہوئے ملبے تک پہنچے تو انھوں نے اپنے جاننے والوں، حتیٰ کہ بعض رشتہ داروں کو بھی وہاں دیکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں کو ڈھونڈنے لگے، یہ سوچ کر کہ شاید کوئی زندہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔‘

Red Crescent rescue worker Reza Besharati, pictured in a black T-shirt with Red Crescent badges on it. He is standing in front of banners showing the faces of people killed in the attack on the school, with the damaged buildings behind him.
BBC
رضا بشارتی کہتے ہیں کہ وہ مناظر نہیں بھول سکتے جب وہ ملبے کے نیچے تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے تھے

وہ کہتے ہیں کہ ہلاک شدگان کی لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں۔

’کبھی صرف ایک ہاتھ ملتا تھا، کبھی صرف ایک ٹانگ۔ کسی کا جسم مکمل نہیں تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں نے اپنے بچوں کو ان کے جوتوں یا کپڑوں سے پہچانا۔

رضا کے ایک رشتہ دار اپنے بچے کو تلاش کرتے ہوئے التجا کر رہے تھے کہ ’بس میرے بچے کو ڈھونڈ دو، میرے بیٹے کو ڈھونڈ دو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں انھیں نہیں بتا سکا کہ ان کا بیٹا زندہ نہیں ہے۔ ہم سب صرف رو رہے تھے۔‘

رضا کہتے ہیں کہ تباہ شدہ عمارت میں تلاش کے دوران جو مناظر انھوں نے دیکھے، وہ ان کے ذہن سے نہیں نکلتے۔

’میں کئی دن تک سو نہیں سکا۔ جب میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو یہی سب کچھ یاد آتا ہے جو میں نے یہاں دیکھا۔‘

حملے کی تحقیقات

جب حملے کی تفصیلات سامنے آئیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر ثبوت فراہم کیے پہلے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوج تحقیقات کر رہی ہے اور امریکی افواج ’کبھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتیں۔‘

بعد میں اُنھوں نے ایک اعلیٰ سطح تحقیقات کا اعلان کیا جس کی قیادت یو ایس سینٹرل کمانڈ سے باہر کے ایک افسر کو سونپی گئی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اب تک ان تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے۔

کئی امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکی فوجی تحقیقات سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق غالب امکان ہے کہ امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ پرانا ڈیٹا اس سکول کو فوجی مقام کا حصہ سمجھنے کا سبب بنا۔

Annotated satellite image of a site in Minab, southern Iran. A school building, outlined in yellow, sits directly adjacent to a larger area outlined in white and labelled “IRGC compound
BBC

ماہرین کی ویڈیو تجزیاتی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سکول کے ساتھ موجود آئی آر جی سی کمپلیکس کو ایک انتہائی درستگی والے ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ سکول اور کمپاؤنڈ کی کئی عمارتیں متاثر ہوئی تھیں جبکہ تصدیق شدہ ویڈیوز سے معلوم ہوا کہ علاقے کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوجی نقشے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اُس وقت جنوبی ایران، بشمول میناب کے علاقے میں، امریکی کارروائیاں جاری تھیں۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکول کا علاقہ پہلے آئی آر جی سی کمپلیکس کا حصہ تھا، لیکن 2016 سے اسے دیوار کے ذریعے الگ کر دیا گیا تھا اور اس کے اپنے داخلی راستے اور صحن موجود تھے۔

مزید یہ کہ اس مقام کے سکول ہونے کی معلومات عوامی طور پر آن لائن دستیاب تھیں۔

حملے سے چند ماہ قبل محفوظ کیے گئے لڑکیوں اور لڑکوں کے سکول کی ویب سائٹس کے آرکائیو شدہ نسخوں میں اس مقام کا پتہ درج تھا۔

مئی میں سینٹکام کے سربراہ نے ایک کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ تحقیقات ’پیچیدہ‘ ہیں کیونکہ سکول ’ایک فعال آئی آر جی سی کروز میزائل بیس‘ پر واقع تھا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو بے بنیاد اور من گھڑٹ قرار دیا تھا۔

آئی آر جی سی اپنی وسیع فوجی، سکیورٹی اور معاشی سرگرمیوں کے علاوہ بعض کمیونٹی اور طبی سہولتیں بھی چلاتی ہے۔

مقامی رہائشیوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ مقام پہلے آئی آر جی سی کی بحری بریگیڈ کا اڈہ تھا، لیکن ان کا خیال ہے کہ کئی سال قبل اس کا فوجی استعمال ختم ہو چکا تھا۔

تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپاؤنڈ میں ایک کلینک اور ایک کار واش بھی موجود تھے۔

بی بی سی نے تبصرے کے لیے امریکی محکمہ دفاع اور امریکی فوج سے رابطہ کیا۔

حکام نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

’اس کی شناخت جرابوں سے ہوئی‘

تباہ شدہ سکول سے کچھ ہی فاصلے پر وہ قبرستان ہے جہاں بہت سے طلبہ اور اساتذہ دفن ہیں۔

ہر شام خاندان قبروں کے پاس جمع ہوتے ہیں۔

مائیں اپنے بچوں کی تصاویر سے گرد صاف کرتی ہیں۔

والدین رات گئے تک بیٹھ کر دعا کرتے ہیں۔

ان کے اردگرد بہن بھائی اُن بچوں کی قبروں کے درمیان کھیلتے ہیں جن کی زندگیاں وقت سے پہلے ختم ہو گئیں۔

A photo of nine-year-old Setayesh displayed on her grave. She is wearing a white veil and looking at the camera. The image is surrounded by a white frame decorated with red flowers. In the background other graves and an Iranian flag can be seen.
BBC
نو سالہ ستایش کی والدہ کے مطابق وہ استانی بننا چاہتی تھیں

ستائش کی والدہ، معصومہ مهران شیخ آبادی ہر روز اپنی نو سالہ بیٹی کی قبر پر آتی ہیں اور اکثر رات گئے تک وہیں رہتی ہیں۔

وہ اُن والدین میں شامل تھیں جو حملے کے بعد سکول کی طرف دوڑے تھے۔

وہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’وہاں کوئی سکول نہیں تھا، صرف دھواں تھا۔بچوں کے بال تھے، ایک طرف ہاتھ اور دوسری طرف پاؤں۔ ان کے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے تھے۔‘

معصومہ مزید کہتی ہیں کہ ’میں صرف ستائش کو نہیں بلکہ تمام بچوں کو پکار رہی تھی: 'بچو، تم کہاں ہو؟‘

ان کے مطابق ستائش کی موت کی تصدیق اگلے دن علی الصبح ہوئی۔

انھیں یاد ہے کہ بار بار ان سے پوچھا گیا کہ بچی نے کس رنگ کی موزے پہن رکھی تھیں۔ ان کے مطابق ستائش کی شناخت انہی موزوں سے ہوئی۔

ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ نو سالہ ستائش بڑی ہو کر استاد بننا چاہتی تھی۔

’وہ اپنی گڑیاؤں کو صوفے پر بٹھاتی اور کہتی کہ میں تمہاری استانی ہوں۔ اب میں پرائمری سکول میں ہوں، اس لیے میں استانی ہوں۔‘

بہت سے والدین کی طرح یہاں غم اب غصے کے ساتھ جڑ چکا ہے۔

معصومہ کہتی ہیں: ’ٹرمپ برباد ہوں تاکہ ان بچوں کا خون رائیگاں نہ جائے۔‘

Masoumeh Mehran Shekhabadi pictured in a black chador with a sad expression. Behind her in soft focus are images of children on graves in the cemetery
BBC
معصومہ کہتی ہیں کہ انھیں یاد ہے کہ وہ تیزی سے سکول پہنچیں تو وہاں تباہی کا منظر تھا اور بچے ’ٹکڑے ٹکڑے‘ ہو چکے تھے۔

’وہ سیکھنے گئے تھے‘

ایران کی حکومت نے بارہا میناب کا ذکر تقریروں، بین الاقوامی فورمز اور سرکاری میڈیا کی کوریج میں کیا ہے۔ حتیٰ کہ مذاکرات کاروں کو لے جانے والے ایک طیارے کا نام بھی ’میناب-168‘ رکھا گیا، جو حکام کی طرف سے پہلے دیے گئے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی طرف اشارہ تھا۔

یہ حملہ اسلامی جمہوریہ کو واشنگٹن کے بیانیے کے مقابلے میں ایک طاقتور متبادل مؤقف فراہم کرتا ہے۔

ایک خاتون اور ایک بچی سیاہ نقاب میں میناب سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی قبروں کے قریب بیٹھی ہیں۔ بچوں کی تصاویر سرخ پس منظر پر آویزاں ہیں اور قبروں کے پیچھے نظر آ رہی ہیں۔

جنگ نے ایرانیوں کو تقسیم کر دیا ہے۔

کچھ لوگوں نے فضائی حملے شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کیا کیونکہ وہ حکومت کی جانب سے مخالفین کی گرفتاریوں اور احتجاج کی بار بار لہروں کے دوران مہلک طاقت کے استعمال پر ناراض تھے۔

ان کا خیال تھا کہ بیرونی فوجی دباؤ بالآخر حکومت کو کمزور یا حتیٰ کہ گرا سکتا ہے۔

حکومت کے بعض مخالفین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ میناب کے حملے کو ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔

اس واقعے نے محدود جنگ کے تصور کو ناقابلِ دفاع بنا دیا اور حکام کو یہ موقع دیا کہ وہ خود کو بیرونی حملوں کے خلاف ایرانی عوام کے محافظ کے طور پر پیش کریں۔

میناب میں امینہ قبرستان جاتی ہیں اور اپنے سابق شاگردوں کی قبروں کے پاس وقت گزارتی ہیں۔

قریب ہی ایک یادگاری دیوار پر اُن بچوں، عملے کے ارکان اور والدین کی تصاویر لگی ہیں جو اُس ہفتے کی صبح گھر سے نکلے تھے اور کبھی واپس نہیں لوٹے۔

ستائش کی والدہ اب بھی اپنی بیٹی کی قبر کے پاس بیٹھی رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ان بچوں کا جرم کیا تھا؟ کیا ان کے پاس ہتھیار تھے؟ ایک پنسل، ایک کتاب، ایک کاپی اور ایک سکول بیگ۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ وہ سیکھنے گئے تھے۔‘

A woman and a girl in black veils crouch next to the graves of children killed in the MInab school strike. Images of the children's faces, mounted on red backgrounds, are displayed behind the graves.
BBC

News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US