آبنائے ہرمز کا ہتھیار، تہران کو درپیش چیلنج اور پاسداران انقلاب کا کردار

امریکہ کے ساتھ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے میں 13 روز تک جاری رہنے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایرانی قیادت کے سامنے اب تین ممکنہ راستے ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی آسان یا واضح کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔
ایران کے سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای
EPA/Shutterstock
تہران کی ایک دیوار پر سابق رہبراعلیٰ علی خامنہ ای کی تصویر

امریکہ کے ساتھ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے میں 13 روز تک جاری رہنے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایرانی قیادت کے سامنے اب تین ممکنہ راستے ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی آسان یا واضح کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔

پہلا راستہ یہ ہے کہ ایران واشنگٹن کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لے۔ اس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے آزاد اور محفوظ آمدورفت کی ضمانت دینا، بلند درجے کی افزودگی والے یورینیم کے ذخائر کو محدود یا ختم کرنا، اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو وسیع اختیارات کے ساتھ تفتیش کی اجازت دینا شامل ہے۔

اس کے بدلے میں توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کرے، اقتصادی پابندیاں نرم یا ختم کرے اور جنگی ماحول کو بھی ختم کرنے کی جانب پیش رفت ہو۔

اگرچہ یہ راستہ معاشی اور عسکری اعتبار سے کم خرچ دکھائی دیتا ہے، لیکن سیاسی طور پر اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران میں بعض حلقے آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کو ایک نئی تزویراتی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایسا دباؤ کا ذریعہ ہے جو بعض صورتوں میں میزائل پروگرام، علاقائی اتحادی گروہوں یا حتیٰ کہ جوہری پروگرام سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ ایران اس پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ بیرونی دباؤ یا حملوں کے جواب میں عالمی معیشت پر فوری اور نمایاں اثر ڈال سکے۔

اسی طرح جوہری پروگرام کو بھی طویل عرصے سے ایک قومی حق کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جس سے دستبرداری کو ملک کے اندر کمزوری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے میں اگر ایران مہینوں کی کشیدگی اور حملوں کے بعد امریکی مطالبات کے سامنے جھک جائے تو سخت گیر عناصر اسے امریکی فوجی دباؤ کی کامیابی قرار دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام اور لبنان کی حزب اللہ، عراقی شیعہ گروہوں اور یمن کے حوثیوں کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں مزید مطالبات سامنے لا سکتے ہیں۔

دوسرا راستہ کشیدگی میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں، تجارتی جہاز رانی اور خلیجی عرب ممالک کے اہم تنصیباتی ڈھانچے کو زیادہ شدت سے نشانہ بنا سکتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں میں خلل واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو کسی سمجھوتے پر آمادہ کر دے گا۔

تاہم اس راستے میں سب سے زیادہ خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ اگر کسی حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا ہے یا خلیجی ممالک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچتا ہے تو ایران کے پڑوسی ممالک براہِ راست تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تہران کو ایک وسیع علاقائی اتحاد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تیسرا راستہ موجودہ غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کو برقرار رکھنا ہے؛ یعنی اتنا دباؤ برقرار رکھا جائے کہ توانائی کی منڈیاں اور عالمی تجارت مسلسل متاثر رہیں اور یہ اثر ایران کے لیے ایک سفارتی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر کام کرتا رہے، لیکن کشیدگی اس حد تک نہ بڑھے کہ امریکہ کے ساتھ مکمل جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

بظاہر یہی راستہ موجودہ ایرانی قیادت کی سوچ کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔

ایران شاید براہِ راست عسکری مقابلے میں امریکہ کو شکست دینے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، لیکن اگر وہ اتنی دیر تک مزاحمت جاری رکھ سکے جتنی دیر تک امریکہ جنگ کو جاری رکھنے کے لیے تیار نہ ہو، تو تہران اپنی بقا اور مزاحمت کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔

تاہم پابندیاں، جنگی نقصانات اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر بتدریج اندرونی دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایک اہم تضاد بھی سامنے آ سکتا ہے۔ جتنا زیادہ ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرے گا، اتنی ہی تیزی سے خطے اور دنیا کے دیگر ممالک توانائی اور تجارت کے متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ نتیجتاً آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور بطور دباؤ کے آلے اس کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔

ایک ایسی آبی گزرگاہ جو مستقل غیر یقینی اور خطرات سے دوچار رہے، بالآخر دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے کہ ایران پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے جائیں۔

اسی تناظر میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے حال ہی میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز کی اصل تزویراتی اہمیت اسے بند کرنے یا آمدورفت محدود کرنے میں نہیں، بلکہ اس سے گزرنے والی تجارت اور جہاز رانی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے اور اس سے معاشی فوائد حاصل کرنے میں ہے۔ ان کے مطابق اس آبی گزرگاہ کی طاقت رکاوٹ پیدا کرنے میں نہیں بلکہ اسے عالمی تجارت کا ایک فعال اور منافع بخش مرکز بنانے میں ہے۔

Iran
Reuters
فائل فوٹو (13 جنوری 2025) ایران کے ایک نامعلوم مقام پر ایرانی فوج کی جنگی تنظیم میں نئے ڈرون شامل کیے جانے کی تقریب کے دوران ایرانی ڈرونز کی نمائش کی جا رہی ہے

فیصلے کون کرتا ہے؟

جو چیز اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، وہ ایران کے اندر فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق پائے جانے والے ابہامات ہیں۔

سابق رہبرِ انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے دور میں سیاسی قیادت، مذہبی اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا آخری فیصلہ عموماً رہبرِ انقلاب ہی کرتے تھے۔ تاہم جنگ کے آغاز کے بعد، اور مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں، یہ بات واضح نہیں کہ ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان توازن کس طرح قائم رکھا جا رہا ہے اور اہم فیصلے کس سطح پر کیے جا رہے ہیں۔

صدر مسعود پزشکیان اور وزارتِ خارجہ سے وابستہ سفارت کار غالباً ایسے کسی معاہدے کی حمایت کریں گے جو معاشی دباؤ میں کمی لائے اور ملک کو استحکام کی جانب واپس لے جائے۔

دوسری جانب پارلیمان کے سخت گیر اراکین، بعض بااثر فوجی و سکیورٹی حلقے اور قدامت پسند میڈیا یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ وسیع رعایتیں ایران کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کر دیں گی اور نظام کے روایتی حامیوں کو بددل کرنے کا سبب بنیں گی۔

اس تمام بحث میں سب سے اہم سوال پاسدارانِ انقلاب کے کردار سے متعلق ہے۔

ایران کا میزائل پروگرام، علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور آبنائے ہرمز سے متعلق حکمتِ عملی بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ اثر ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کی راہ اختیار کرنے جیسے اہم فیصلوں میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار کس حد تک مؤثر ہے۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ آیا وہ اپنے مؤقف کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذریعے پیش کرتے ہیں اور حتمی فیصلہ وہاں کیا جاتا ہے، یا پھر عملی طور پر ان کا اثر و رسوخ اس سے کہیں زیادہ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

اسی لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایران آئندہ کون سا راستہ اختیار کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس راستے کا تعین کرنے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے۔

Iran
Reuters

ایرانی کیا کہتے ہیں؟

ملک کی بقا اور استحکام کے بارے میں حکمرانوں کا تصور بظاہر ان لوگوں کے تجربات سے بہت مختلف ہے جو روزمرہ زندگی میں اس کے نتائج اور بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایران اور امریکہ نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور 60 روز کے اندر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنا تھا۔ تاہم دستخط کے محض تین ہفتے بعد ہی جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

تہران کی ایک رہائشی نے بتایا کہ جس غیر ملکی تجارتی کمپنی میں وہ ملازمت کرتی تھیں، وہ بند ہو چکی ہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری اور 17 برس کے پیشہ ورانہ تجربے کے باوجود وہ گذشتہ چار ماہ سے روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ان کے بقول، ’کوئی بھی ملازمت دینے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔‘

انھوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، بجلی اور پانی کی بار بار بندش، چوری کی بڑھتی وارداتوں اور رات کے وقت کبھی کبھار گولیوں کی آوازیں سنائی دینے جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالات کے پیشِ نظر انھوں نے شہر میں اپنی نقل و حرکت بھی محدود کر دی ہے۔

ایسے بیانات اس مشکل صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ایرانی قیادت عوام سے مزاحمت اور استقامت کے نام پر مسلسل قربانیاں اور مشکلات برداشت کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آسان انتخاب درپیش نہیں۔ ان کے سامنے جنگ کو مزید وسعت دینے، فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے، یا پھر ایسے سمجھوتے کو قبول کرنے کے آپشن موجود ہیں جس کے تحت ایران کو سخت بین الاقوامی نگرانی میں ایک محدود اور غیر عسکری جوہری پروگرام چلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

تاہم ان میں سے کوئی بھی راستہ واضح طور پر کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔

ممکن ہے کہ واشنگٹن بھی موجودہ محدود نوعیت کی محاذ آرائی کو دیگر متبادلوں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ قبول سمجھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ تنازع آنے والے مہینوں میں وقفے وقفے سے حملوں، سفارتی ثالثی کی کوششوں اور عارضی جنگ بندیوں کے سلسلے کی صورت میں جاری رہ سکتا ہے۔

بالآخر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایران کتنی دیر تک آبنائے ہرمز کو ایک مؤثر تزویراتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ صورتحال مکمل جنگ یا نئی علاقائی بدامنی میں تبدیل ہو جائے، اور ساتھ ہی ان متبادل تجارتی و توانائی راستوں کی ترقی کو بھی تیز کر دے جو مستقبل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کو کم کر سکتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US