امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات میں سیاحت بُری طرح متاثر ہوئی۔ مگر اب دبئی سمیت دیگر شہروں میں سیاحت کو بحال کرنے کے لیے اماراتی حکام نے ایک نئی سکیم متعارف کرائی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات میں سیاحت کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی۔ مگر اب دبئی میں سیاحت کو بحال کرنے کے لیے اماراتی حکام نے ’دبئی انوائٹ‘ نامی نئی سکیم متعارف کرائی ہے۔
اس کے تحت متحدہ عرب امارات اپنے اِن رہائشیوں کو مالیاتی فوائد کے ایک پیکج کی پیشکش کر رہا ہے جو اپنے خاندان اور دوستوں کو امارات کی سیر کے لیے راغب کریں گے۔
ملک کے محکمہ معیشت اور سیاحت کی ’دبئی اِنوائٹ‘ سکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نامزد کر سکتے ہیں اور ان کے دورہ کرنے کی صورت میں تین ہزار اماراتی درہم (قریب دو لاکھ 27 ہزار روپے) سے زیادہ مالیت کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ 2025 میں دبئی نے تقریباً دو کروڑ سیاحوں کا خیرمقدم کیا تھا جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے۔ تاہم تنازعے کے بعد دبئی کے ہوائی اڈوں پر کام کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد نصف رہ گئی ہے کیونکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث بہت سے طیاروں کا رُخ موڑنا پڑا۔ جبکہ کئی غیر ملکی سیاحوں نے مشرق وسطیٰ کے اوپر سے گزرنے والے راستوں سے گریز کیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کئی ہوٹلوں میں بڑے پیمانے پر کمرے خالی پڑے ہیں اور کاروباروں کی آمدن میں 50 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
جبکہ دبئی کے چند معروف ترین ہوٹل مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں اور بہت سے اداروں نے تزئین و آرائش کے منصوبوں کو آگے بڑھا دیا ہے، جن میں بادبان کی شکل کا برج العرب بھی شامل ہے جو بڑے پیمانے پر بحالی کے کام کے لیے 18 ماہ تک بند رہے گا۔
اب جبکہ اماراتی حکومت نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے یہ سکیم متعارف کرائی ہے تو کئی ہوٹل اور کاروبار اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام کی پیشکش کر رہے ہیں۔
ملک کے مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات تک اس سکیم کے لیے پہلے 48 گھنٹوں کے اندر اندر 10,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔
’دبئی اِنوائٹ‘ سکیم کیا ہے اور آپ اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
’اے دبئی انوائٹ‘ نامی اس سکیم کی تفصیلات وزٹ دبئی کی ویب سائٹ پر درج ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 20 جولائی سے 31 اکتوبر کے درمیان اپنے عزیزوں کو دبئی کی سیاحت کے لیے مدعو کریں اور اس کے بدلے 3,000 اماراتی درہم سے زیادہ مالیت کے فوائد حاصل کریں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ اپنی مرضی کے مطابق جتنی چاہیں نامزدگیاں جمع کرا سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ تین پیکج حاصل کر سکتے ہیں۔‘
’ہر پیکج میں 20 سے زیادہ رعایت شامل ہیں، جن میں ہوٹل میں قیام، کھانے پینے کے تجربات، تفریحی مقامات کی ٹکٹیں اور دیگر سہولتوں پر رعایت شامل ہے۔ فوائدی پیکج پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دستیاب ہوں گے اور دستیابی سے مشروط ہوں گے۔‘
مہمانوں کا متحدہ عرب امارات کا غیر رہائشی ہونا ضروری ہے، انھیں درست سیاحتی ویزا پر آنا ہو گا اور انھیں صرف ایک بار نامزد کیا جا سکتا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق اس سکیم کے محض تین مرحلے ہیں۔ پہلا یہ کہ اپنے خاندان اور دوستوں کو مدعو کریں۔ اس کے لیے ’اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو دبئی آنے کی ترغیب دیں اور ہمارے نامزدگی فارم کے ذریعے ان کی تفصیلات اور آمد کی تاریخ درج کریں۔ ‘
’آپ اپنی مرضی کے مطابق جتنے چاہیں مہمان نامزد کر سکتے ہیں، تاہم ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد کو نامزد کیا جا سکتا ہے۔ مزید افراد شامل کرنے کے لیے ایک اور درخواست جمع کرائیں۔‘

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ جب 20 جولائی سے 31 اکتوبر کے درمیان آپ کے مہمان دبئی پہنچیں گے تو متحدہ عرب امارات کو ’ان کی آمد کی اطلاع خودکار طور پر موصول ہو جائے گی۔‘
تیسرے مرحلے میں آپ کو بذریعہ ای میل بتایا جائے گا کہ آپ کے پیکیج میں کیا کیا شامل ہیں۔ اس میں درج ڈسکاؤنٹس کی مدت 31 دسمبر 2026 تک ہے جس میں ہوٹلوں، کھانے پینے کی جگہوں اور سیاحتی مقامات کی ٹکٹوں پر رعایت ہو گی۔
یہ رعایتیں کن جگہوں پر ملیں گی؟
اس سکیم میں ضروری یہ ہے کہ مہمانوں کو مدعو کرنے والا متحدہ عرب امارات کا رہائشی ہو، اس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو اور اس کے پاس اماراتی آئی ڈی ہو۔ مہمانوں کو خود اپنا ویزا حاصل کرنا ہو گا اور وہ فضائی، سمندری اور سڑک کے راستے دبئی آ سکتے ہیں۔
دبئی کے ہر رہائشی کو زیادہ سے زیادہ تین ڈسکاؤنٹ پیکج ملیں گے اور ہر پیکج کی مالیت تین ہزار درہم بتائی گئی ہے جو کہ میزبان اور مہمان آپس میں شیئر کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ اس سکیم کے تحت نقد رقم نہیں دی جائے گی بلکہ رعایتی واؤچرز ملیں گے۔ سکیم میں شامل بعض ہوٹلوں کے کرائے میں زیادہ سے زیادہ 45 فیصد کمی سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اسی طرح دبئی کے بعض ریستورانوں میں رعایت ملے گی اور کچھ سیاحتی مقامات کی ٹکٹوں کی قیمت میں کمی ممکن ہو گی۔
اس سکیم میں ٹرانسپورٹ سروسز جیسے کریم پر بھی ڈسکاؤنٹ حاصل کیے جا سکیں گے۔
خیال رہے کہ یہ سکیم ایسے وقت میں متعارف کرائی گئی ہے جب متحدہ عرب امارات کا سیاحتی شعبہ 2025 کے عروج کے بعد زوال پذیر ہے۔
دبئی کو سوشل میڈیا شخصیات اور انتہائی امیر افراد کے لیے ایک پُرتعیش تفریحی مقام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ مگر حالیہ دور میں اس تنازعے کے بعد خلیجی ریاستوں میں بین الاقوامی مسافروں کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے۔
فروری میں امریکی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون داغے تھے جو مشہور فیئرمونٹ ہوٹل اور دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ٹکرائے تھے۔
ان ایرانی حملوں سے دبئی میں سیاحت کی ساکھ کو نقصان پہنچا جسے برسوں سے جاری مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال میں قدرے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔