دریائے ستلج کی تاریخ کیا ہے جس نے کئی تہذیبوں کا عروج و زوال دیکھا ہے؟

یہ دریا اپنے ساتھ ہمالیہ سے بھی قدیم زمینی یادوں، گم شدہ دریائی راستوں، تہذیبوں، سلطنتوں، جنگوں اور تقسیم شدہ قوموں کی کہانیاں بہاتا آیا ہے۔
ستلج
Getty Images
ستلج تبت کے ویران علاقے سے بہتا ہے، ہمالیہ کی چٹانوں کو کاٹتا ہوا پنجاب کے میدانی علاقوں سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے

’ستلج کی ہوا،

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں سے گزر کر آتی ہے،

اور اُن سب کی یاد دلاتی ہے،

جو اس مٹی کے لیے لڑے اور مٹ گئے۔‘

انقلابی شاعر لال سنگھ دل کی مشہور پنجابی نظم ’ستلج کی ہوا‘ کے اس حصے کا ترجمہ بتاتا ہے کہ صرف ایک سٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹائی گئی فلم ہی اس دریا کی طرف توجہ نہیں دلاتی، بلکہ اس سے پہلے بھی یہ دریا لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا رہا ہے۔

یہ دریا اپنے ساتھ ہمالیہ سے بھی قدیم زمینی یادوں، گم شدہ دریائی راستوں، تہذیبوں، سلطنتوں، جنگوں اور تقسیم شدہ قوموں کی کہانیاں بہاتا آیا ہے۔

فلم کا پوسٹر کسی ڈیجیٹل کیٹلاگ سے تو ہٹایا جا سکتا ہے، لیکن دریا کو تاریخ کے کیٹلاگ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

فلم ستلج میں دلجیت دوسانجھ نے جسونت سنگھ خالڑا کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ ایک انسانی حقوق کے کارکن تھے جنہوں نے سرکاری دستاویزات، شمشان گھاٹوں کے رجسٹروں، بلدیاتی اداروں کی رسیدوں اور نامعلوم لاشوں کی فہرستوں کی مدد سے بھارت کی حالیہ تاریخ کے سب سے پریشان کن ابواب میں سے ایک کو سامنے لایا تھا۔

19ویں صدی کے اوائل سے دریائے ستلج کی ایک تصویر۔
Getty Images
19ویں صدی کے اوائل سے دریائے ستلج کی ایک تصویر

لیکن جس ’ستلج‘ سے فلم نے اپنا نام لیا تھا، وہ تبت کے سنسان اور ویران علاقے سے نکل کر ہمالیہ کی چٹانوں کو چیرتی ہوئی پنجاب کے میدانوں سے گزرتی ہے، پھر پاکستان میں داخل ہو جاتی ہے اور آخرکار دریائے سندھ کے وسیع آبی نظام میں شامل ہو جاتی ہے۔

پاکستانی مصنف شہباز بہاولپوری نے لکھا ہے، ’ستلج پنجاب کے تاریخی سنگم والے علاقے میں بہنے والے پانچ دریاؤں میں سب سے طویل اور مشترکہ ورثہ رکھنے والا دریا ہے۔‘

مشہور پنجابی ادیب دیویندر ستیارتھی نے لکھا تھا، ’ستلج کی ایک جھلک انسان کے غرور کو چھوٹا کر دیتی ہے۔ یہ زمین کی اپنی سطح پر لکھی ہوئی ایک متحرک دستاویز ہے، جس کے حروف کبھی گلیشیئر ہوتے ہیں، کبھی وادیاں، کبھی خشک ہو چکے قدیم دریائی راستے، اور کبھی وہ شہر جو اس کے کناروں پر آباد ہوئے اور پھر مٹ گئے۔‘

ایک دریا کے کئی نام

ستلج کا سرچشمہ کیلاش-مانسروور کے قریب واقع بلند، خشک اور تقریباً پراسرار خطے میں ہے۔

تبت میں اسے لانگچین زانگبو کہا جاتا ہے۔ یہ مغرب کی طرف بہتا ہے اور شپکی لا کے قریب انڈیا میں داخل ہو کر کنور کی گہری وادیوں میں اترتا ہے۔

وہاں یہ دریا میدانوں میں بہنے والی عام ندی کی طرح نظر نہیں آتا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر کے اندر بہنے والی کوئی قدیم طاقت ہو۔

ماہرینِ ارضیات ستلج کو ہمالیہ کی ان ’پیش رو‘ ندیوں میں شمار کرتے ہیں جن کا آبی نظام موجودہ پہاڑی جغرافیے کے مکمل طور پر تشکیل پانے سے پہلے ہی وجود میں آنا شروع ہو گیا تھا۔

اسی لیے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ستلج اور ہمالیہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ تشکیل پاتے اور ترقی کرتے رہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ جیسے جیسے زمین کی سطح بلند ہوتی گئی، دریا پیچھے نہیں ہٹا بلکہ ابھرتے ہوئے پہاڑی سلسلوں کو چیرتے ہوئے اپنے لیے گہری وادیاں بناتا گیا۔

کچھ مقامات پر یہ پہاڑ کے سب سے بلند اور سخت حصوں کو تقریباً ناممکن زاویے سے کاٹتے ہوئے گزرتا ہے، گویا پانی نے چٹان سے کہا ہو کہ تیری بلندی میری سمت نہیں بدل سکتی۔

مغربی ہمالیہ کے قدیم دریائی نظام اور ستلج کے دریائے سندھ کے نظام سے جڑنے کے عمل پر سب سے اہم تحقیق پیٹر ڈومینک کلفٹ اور یرژی ایس بلاشٹین کے تحقیقی مقالے ’ری آرگنائزیشن آف دی ویسٹرن ہمالین ریور سسٹم آفٹر فائیو ملین ایئرز ایگو‘ میں ملتی ہے، جو 2005 میں معروف سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوا تھا۔

بحیرۂ عرب سے حاصل ہونے والی تہہ دار مٹی اور آئسوٹوپ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تحقیق بتاتی ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ سال پہلے مغربی ہمالیہ کے دریاؤں کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی اور قدیم ستلج مغرب کی طرف مڑ کر دریائے سندھ کے نظام کا حصہ بن گیا۔

لیلا ماریا ویسپولی دی کاروالیو اور چارلس جونز کی کتاب ’دی مونسونز اینڈ کلائمیٹ چینج: آبزرویشنز اینڈ ماڈلنگ‘ اور پیٹر ڈومینک کلفٹ اور تارا این جونیل کی ارضیاتی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آج جس ستلج کو ہم جانتے ہیں، وہ صرف بہتا ہوا پانی نہیں بلکہ لاکھوں سال پہلے رونما ہونے والے ایک ارضیاتی ’ریور کیپچر‘ کا زندہ نتیجہ ہے۔

وہ دریا جس نے تہذیبوں کا جغرافیہ بدل دیا

19ویں صدی کے آخر میں دریائے ستلج کی ایک تصویر۔
Getty Images
19ویں صدی کے آخر میں دریائے ستلج کی ایک تصویر

یہیں سے اس کی کہانی اور بھی شاندار ہو جاتی ہے، کیونکہ ستلج نے صرف پہاڑوں کو ہی نہیں چیرا بلکہ اپنا راستہ بدل کر تہذیبوں کے جغرافیے کو بھی بدل دیا۔

اس کا ایک بڑا بہاؤ موجودہ راستے سے بہت دور جنوب مشرق کی طرف جاتا تھا اور گھگھر-ہاکڑا نظام میں شامل ہوتا تھا۔

یعنی آج جو دریا پنجاب اور پاکستان کی طرف بہتا ہے، ایک زمانے میں وہ ہریانہ، راجستھان اور چولستان کی سمت اپنا وسیع پانی بہایا کرتا تھا۔ بعد میں اس نے اپنا پرانا دریائی راستہ چھوڑ دیا اور مغرب کی طرف مڑ گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ انڈین ادب نے بھی دریا کی اس بےچینی کو اپنے انداز میں یاد رکھا۔

ویدک ادب میں اس کا نام شتدری ملتا ہے۔ مہابھارت میں یہ شتدرو کہلاتا ہے، یعنی ’سو دھاراؤں والا دریا‘۔

اس سے پہلے ایک روایت یہ ہے کہ رشی وششٹھ نے اپنے غم میں دریا میں چھلانگ لگا دی تھی، لیکن دریا نے انھیں آگ کی طرح طاقتور سمجھ کر خود کو سو دھاراؤں میں تقسیم کر لیا اور انھیں مرنے نہیں دیا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ستلج ایک ایسا دریا ہے جو ایک ہی وقت میں دو زبانوں میں لکھی ہوئی کہانی ہے۔

چٹانوں کی زبان میں یہ بہاؤ کی تبدیلی اور تہہ دار مٹی کی داستان ہے، جبکہ رزمیہ داستانوں کی زبان میں یہ ایسا دریا ہے جس نے اپنی سو بازو پھیلا کر ایک غم زدہ انسان کو بچا لیا۔

کیلاش کے مغرب میں بالائی وادیِ ستلج قدیم ژانگ ژونگ تہذیب سے وابستہ رہی ہے۔

تبتی بون روایت میں ژانگ ژونگ ایک طاقتور ثقافتی دنیا تھی، جس کی یادیں مغربی تبت، لداخ اور ہمالیائی دریاؤں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ستلج کے قریب کیونگ لونگ کو ’چاندی کا عقابی محل‘ کہا گیا ہے۔ اس کے کھنڈرات اسی پراسرار تہذیب سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

انڈیا میں داخل ہونے کے بعد بھی دریا نے سرحد کا نہیں بلکہ بیابانوں میں راستے کا کردار ادا کیا۔

شپکی لا کے دشوار گزار راستے سے صدیوں تک تاجر، چرواہے اور مسافر آتے جاتے رہے۔

تبت سے اون اور نمک نیچے لایا جاتا تھا، جبکہ انڈین علاقوں سے اناج، گڑ اور دیگر ضروری اشیا اوپر لے جائی جاتی تھیں۔

مہاپنڈت راہل سانکرتیاین بھی انہی راستوں کے ذریعے ہزاروں تبتی بدھ مت کے مخطوطات خچروں پر لاد کر بہار لے کر آئے تھے۔

1962 کی بھارت-چین جنگ کے بعد ان روایتی راستوں پر سخت سرحدی پابندیاں لگ گئیں۔

وہ راستہ جہاں کبھی جانوروں کی گھنٹیوں اور قافلوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، فوجی چوکیوں اور اجازت ناموں کے جغرافیے میں بدل گیا۔

1990 کی دہائی میں محدود تجارت دوبارہ شروع ہوئی، لیکن پرانی دنیا واپس نہ آ سکی۔

ستلج یہاں بھی تاریخ کا وہی اصول دکھاتا ہے: جہاں انسان سرحد بناتا ہے، وہاں دریا تعلقات کا کوئی پرانا ثبوت چھوڑ جاتا ہے۔

پہاڑوں سے میدان میں اترتے ہی ستلج کا مزاج بدل جاتا ہے۔

ستلج کا بدلتا کردار

1846 میں برطانوی فوج کو دریائے ستلج عبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ایک تصویر۔
Getty Images
1846 میں برطانوی فوج کو دریائے ستلج عبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ایک تصویر

ستلج صرف زندگی بخشنے والا دریا ہی نہیں رہا، کئی بار اس نے یہ بھی طے کیا کہ ایک سلطنت کہاں ختم ہوگی اور دوسری حکمرانی کہاں سے شروع ہوگی۔

1809 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدۂ امرتسر نے ستلج کو ایک اہم سیاسی سرحد بنا دیا۔

25 اپریل 1809 کو برطانوی نمائندے چارلس ٹی میٹکاف اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درمیان امرتسر میں ہونے والے معاہدے کے دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔

جوزف ڈیوی کننگھم کی کتاب ’ہسٹری آف سکھز‘ اور سکھ تاریخ کے ماہر، سابق رکنِ راجیہ سبھا اور سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن ترلوچن سنگھ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ ایک سکھ حکمران کے زیرِ اقتدار اکثریتی مسلم آبادی امن اور خوشحالی سے زندگی گزار رہی تھی، کیونکہ انسان دوستی ہی ستلج کے پانی کی اصل تاثیر ہے۔

دریا کے مغرب میں رنجیت سنگھ کی طاقت کو تسلیم کیا گیا، جبکہ مشرقی ریاستوں پر برطانوی تحفظ بڑھ گیا۔

یہ ایک غیرمعمولی لمحہ تھا: کروڑوں سال کی ارضیاتی تبدیلیوں سے وجود میں آنے والے دریا کو چند دفعات پر مشتمل ایک معاہدے نے سلطنتوں کی سرحد میں بدل دیا۔

لیکن دریا سے بنی یہ حد مستقل ثابت نہ ہوئی۔ دسمبر 1845 میں خالصہ فوج نے ستلج عبور کر لیا۔

برطانوی حکام نے اس عبور کو جنگ کے اعلان کے طور پر لیا اور پہلی اینگلو-سکھ جنگ شروع ہو گئی۔

اس جنگ کی فیصلہ کن لڑائی فروری 1846 میں سوبراوں کے قریب ستلج کے کنارے لڑی گئی۔

سکھ فوج نے ستلج کے نزدیک مضبوط مورچے قائم کر رکھے تھے اور پیچھے ہٹنے کے لیے کشتیوں پر مبنی ایک عارضی پل بنایا گیا تھا۔

کئی حوالوں میں ذکر ملتا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث ستلج میں شدید طغیانی تھی۔ جنگ کے دوران پل ٹوٹ گیا۔ پیچھے ہٹنے والے بے شمار فوجی دریا اور دشمن کے درمیان پھنس گئے۔ جو پانی کچھ دیر پہلے دفاعی رکاوٹ تھا، وہ اچانک موت کی دیوار بن گیا۔

سوبراوں کی شکست نے لاہور دربار کی طاقت کو توڑ دیا اور پہلی اینگلو-سکھ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔

اس جنگ کی برطانوی تصویروں میں ستلج پس منظر کے طور پر دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقی تاریخ میں دریا محض پس منظر نہیں تھا۔

دریائے ستلج کی 1913 کی تصویر۔
Getty Images
دریائے ستلج کی 1913 کی تصویر

وہ جنگ میں ایک فعال قوت تھا، ایک سرحد، ایک رکاوٹ، واپسی کا راستہ، اور آخرکار ایک جال۔

پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد برطانوی حکمرانوں نے ستلج کو صرف ایک دریا کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کے نزدیک یہ قابلِ پیمائش آمدنی، قابو میں رکھی جانے والی محنت اور ایک نئے زرعی جغرافیے کی تشکیل کا ذریعہ تھا۔

دریا کو نہروں، ہیڈورکس اور محصولات کے ریکارڈ میں بدل دیا گیا۔ پورے پنجاب، بہاولپور اور ریاستِ بیکانیر تک نہروں کا ایک وسیع جال بچھا دیا گیا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں ستلج ویلی پراجیکٹ نوآبادیاتی بھارت کی سب سے بڑی اور اہم آبپاشی سکیموں میں شمار ہونے لگا۔

یہ برطانوی پنجاب، بہاولپور اور بیکانیر سے جڑا ہوا ایک وسیع منصوبہ تھا۔

چار بڑے ہیڈورکس اور گیارہ نہروں کے ذریعے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین تک پانی پہنچانے کا تصور پیش کیا گیا۔

یہ منصوبہ صرف آبپاشی تک محدود نہیں تھا بلکہ معاشرتی تشکیلِ نو کا ایک نوآبادیاتی تجربہ بھی تھا۔

نہروں کے ساتھ نئی آبادیاں وجود میں آئیں، کھیتوں کی نئی سرحدیں قائم ہوئیں، زمین کی قیمتوں میں تبدیلی آئی، ہجرتیں ہوئیں اور محصولات وصول کرنے کے نئے نظام قائم کیے گئے۔

بیکانیر کے مہاراجہ گنگا سنگھ کے لیے ستلج کا پانی قحط زدہ ریاست کو بچانے کا ذریعہ تھا۔

بہاولپور کے لیے یہ ایسی قوت تھی جس نے صحرائی زمین کو زرعی علاقے میں تبدیل کر دیا۔

برطانوی حکومت کے لیے یہ محصولات، کپاس، گندم اور سیاسی کنٹرول کا اہم ذریعہ تھا۔

یوں ایک ہی پانی تین مختلف مقاصد کے لیے بہہ رہا تھا: بقا، ریاست سازی اور سامراجی فائدہ۔

نہروں نے خوشحالی پیدا کی، لیکن اس کے ساتھ ایک نیا سماجی نظم بھی وجود میں آیا۔

یہ فیصلے کہ پانی کس کو ملے گا، کتنی مدت کے لیے ملے گا، کون سی زمین ’کمانڈ ایریا‘ میں شامل ہوگی اور کون سی اس سے باہر رہے گی، کسانوں، زمینداروں اور ریاست کے درمیان طاقت کے نئے تعلقات کا سبب بنے۔

1947 میں جب پنجاب تقسیم ہوا تو انسانوں، زمینوں اور شہروں کے ساتھ ساتھ آبی نظام بھی تقسیم ہو گیا۔

لیکن نہروں کا جغرافیہ مذہبی آبادی کے نقشے کے مطابق نہیں بنا تھا۔ بعض نہروں کے ہیڈورکس انڈیا میں رہ گئے، جبکہ ان سے سیراب ہونے والے کھیت پاکستان میں چلے گئے۔

سرحد کی وجہ سے کنٹرول ایک ملک کے پاس رہا اور انحصار دوسرے ملک کے حصے میں آیا۔

فیروزپور کے ہیڈورکس اس کی سب سے نمایاں اور ڈرامائی مثال بن گئے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

بھارت اور پاکستان نے ستمبر 1960 میں دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کو بانٹنے کے لیے سندھ آبی معاہدے پر دستخط کیے تھے
Getty Images
انڈیا اور پاکستان نے ستمبر 1960 میں دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کو بانٹنے کے لیے سندھ آبی معاہدے پر دستخط کیے تھے

اپریل 1948 میں ایک عبوری انتظام ختم ہونے کے بعد مشرقی پنجاب نے دیپالپور نہر اور اپر باری دوآب نظام کی بعض پاکستانی شاخوں کو پانی کی فراہمی بند کر دی۔

تقسیم کے تشدد کے صرف آٹھ ماہ بعد دریا نے دونوں ممالک کو یہ بتا دیا کہ سیاسی آزادی پانی پر انحصار کو ختم نہیں کرتی۔

1960 کے سندھ طاس معاہدے نے ایک غیر معمولی لیکن سخت حل پیش کیا۔

راوی، بیاس اور ستلج جیسی مشرقی دریاؤں کا بنیادی استعمال انڈیا کو ملا، جبکہ سندھ، جہلم اور چناب جیسی مغربی ندیاں بنیادی طور پر پاکستان کے حصے میں آئیں۔

آزاد انڈیا نے ستلج میں سلطنت کی آمدنی سے مختلف ایک خواب دیکھا۔ بھاکھڑا۔ننگل منصوبے میں دریا قومی تعمیرِ نو، بجلی، آبپاشی اور غذائی تحفظ کی طاقت بن گیا۔

ہمالیائی درے میں کھڑی عظیم الشان کنکریٹ کی دیوار اس دور کے اس یقین کی یادگار تھی کہ سائنسی منصوبہ بندی بھارت کو بھوک، قحط اور پسماندگی سے نجات دلا سکتی ہے۔

ملک کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھاکھڑا کو نئے بھارت کا مندر قرار دیا۔ یہ جملہ صرف ایک بند کے لیے تعریف نہیں تھا۔

یہ جدیدیت کی نئی مذہبی زبان تھی: اب معجزے دیوتا نہیں بلکہ انجینئر کریں گے، اب تقدس قدیم آثار میں نہیں بلکہ بجلی گھروں اور آبپاشی کی نہروں میں ہوگا۔

بھاکھڑا نے واقعی شمالی انڈیا کو بدل دیا۔ بجلی پیدا ہوئی۔ نہروں کا جال پھیلا۔ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے کھیتوں کو پانی ملا۔

بعد میں سبز انقلاب کی زیادہ پیداوار والی زراعت کو جس منظم آبپاشی کی ضرورت تھی، اس میں ستلج کا فیصلہ کن کردار تھا۔ بھارت کی غذائی عدم تحفظ میں کمی آئی اور پنجاب قومی غلہ گھر بن گیا۔

لیکن ستلج جیسے دریاؤں کو مندر بنانے کی ایک انسانی قیمت بھی تھی۔

آبی ذخیرے کے نیچے پرانا بلاسپور شہر، دیہات، راستے، کھیت اور یادیں دفن ہو گئیں۔ بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے قومی ترقی کسی بند کی اونچائی نہیں تھی، بلکہ وہ گھر تھا جو پانی کے نیچے رہ گیا تھا۔

جدید انڈیا نے ستلج سے اناج اور بجلی حاصل کی، لیکن اس کے بدلے میں دریا کو اپنی قدرتی موسمی ترتیب چھوڑنی پڑی۔

بند کے نیچے دریا اب برف، بارش اور موسم کے مطابق نہیں بلکہ ٹربائنوں، آبی ذخیرے اور آبپاشی کے احکامات کے مطابق بہنے لگا۔

یہیں ستلج کی تاریخ کا سب سے گہرا تضاد موجود ہے۔ جس دریا نے پہاڑوں کو چیر کر اپنا راستہ بنایا تھا، جدید انسان نے اس کے سامنے کنکریٹ کی دیوار کھڑی کر دی۔

آج ستلج کے بالائی بہاؤ پر آبی بجلی کے منصوبوں، سرنگوں اور سڑکوں کا ایک سلسلہ موجود ہے۔ میدانوں میں اس کا پانی نہروں کے ذریعے دور دور تک پہنچایا جاتا ہے۔

صنعتی شہروں کے قریب آلودہ پانی کی دھارائیں اس میں شامل ہوتی ہیں۔

سائنسی مطالعات ستلج وادی کو ایک ایسی جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں آب و ہوا، کٹاؤ اور متحرک ارضیاتی عمل مسلسل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔

ایک دلچسپ تاریخی گونج

دریائے ستلج نے اپنی تاریخ میں بہت کچھ دیکھا ہے۔
Getty Images
دریائے ستلج نے اپنی تاریخ میں بہت کچھ دیکھا ہے

اسی وجہ سے ’ستلج‘ نامی فلم کا غائب ہو جانا ایک عجیب تاریخی گونج پیدا کرتا ہے۔

ستلج کی پوری زندگی کے دوران انسان نے بار بار اسے نام دینے، تقسیم کرنے اور قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

لیکن ستلج نے تہذیبوں کو آباد ہوتے بھی دیکھا اور دریا کے کناروں کو ریگستان میں بدلتے بھی دیکھا۔ اس نے قافلے دیکھے، سلطنتیں دیکھیں اور سپاہیوں کو اپنے پانی میں ڈوبتے دیکھا۔

اس نے تقسیم کے مہاجرین دیکھے، نہروں کے بند دروازے دیکھے، بندوں کا کنکریٹ دیکھا اور کھیتوں میں اگتا وہ اناج بھی دیکھا جس نے ایک بھوکے ملک کا مستقبل بدل دیا۔

اب اس نے اپنے نام کی ایک فلم کو آتے اور پھر پردے سے غائب ہوتے بھی دیکھ لیا ہے۔

لیکن کسی فلم کو ہٹانے اور کسی تاریخ کو مٹانے کے درمیان وہی فرق ہے جو ایک دریا پر بنے بند اور دریا کے پورے سفر کے درمیان ہوتا ہے۔

بند کچھ وقت کے لیے پانی کو روک سکتا ہے، لیکن وہ دریا کے سرچشمے، اس کے پرانے راستوں، اس کی چھوڑی ہوئی تلچھٹوں اور سمندر تک پہنچنے کی اس کی یاد کو ختم نہیں کر سکتا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US