ریاض کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہاز رانی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع تنگ آبنائے ’باب المندب‘ سے گزرنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کے ولی عہد نے ملک کو ایک ایسے راستے پر گامزن کیا ہے جسے وژن 2030 کہا جاتا ہےسعودی عرب ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے سعودی عرب نے بڑی حد تک خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن اب تین اطراف سے حملوں کا نشانہ بننے کے بعد، سعودیوں کا صبر جواب دے چکا ہے۔
اس ہفتے انھوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں پر مشترکہ حملے کیے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ مملکت پر ڈرون حملے کر رہی تھیں۔
اب سعودی عرب کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے لیے جوابی حملے جاری رکھے یا پھر ممکنہ طور پر اپنے بعض مخالفین کو مالی مراعات دے کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔
امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی نیم فوجی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ایک مقام پر حملے کیےکون کس پر حملہ کر رہا ہے اور کیوں؟
پہلے اس کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔
گذشتہ پانچ ماہ سے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے اس تنازع میں مجموعی طور پر دو فریق ہیں۔
ایک جانب ایران اور پاسداران انقلاب ہیں۔ ان کے اتحادی یمن میں حوثی ہیں، جو ایک قبائلی گروہ ہے جس نے 2014 میں ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
ایران کی حمایت عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز کو بھی حاصل ہے، جو ایک نیم فوجی گروہ ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سعودی عرب پر 30 ڈرون حملے کیے اور اب اس پر جوابی حملہ کیا گیا ہے۔
پھر لبنان میں حزب اللہ ہے، جو اب بھی ایک طاقتور قوت ہے۔ لیکن اس وقت وہ کچھ پیچھے رہ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اس تنازع کے دوسرے فریق میں امریکہ، اس کی انتہائی طاقتور سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) افواج، مختلف درجوں میں خلیجی عرب ریاستیں اور اردن شامل ہیں۔
اسرائیل امریکہ کا قریبی اتحادی ہے لیکن اس وقت اس جنگ میں فعال طور پر شریک نہیں ہے۔
ایران حالیہ عرصے میں اپنے ڈرون اور میزائل حملوں کا رُخ اردن، کویت اور بحرین کی جانب کر چکا ہے اور ساتھ ہی ایسے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو ایران کے متعین کردہ راستوں سے بچتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عراقی گروہوں اور یمن کے حوثیوں کی شمولیت نسبتاً نیا رجحان ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی پائیدار امن معاہدے کے بغیر خطہ ایک وسیع تر تنازع میں مزید الجھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
مکمل جنگ سے گریز
ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر سعودی عرب ایک مکمل جنگ سے گریز کر رہا ہے۔
اس کے عملی حکمران، نسبتاً نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان، ملک کو ایک ایسے راستے پر لے جا رہے ہیں جسے ’وژن 2030‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا مقصد مملکت کو تیل کی آمدنی پر انحصار سے دور لے جانا اور جدید، متحرک مقامی صنعتیں قائم کرنا ہے جو ہر سال روزگار کی منڈی میں آنے والے لاکھوں نہیں بلکہ سینکڑوں ہزار فارغ التحصیل طلبہ کو بامعنی ملازمتیں فراہم کریں۔
وژن 2030 کا ایک حصہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
اس کا ایک اور حصہ ڈیٹا سینٹرز جیسی تنصیبات کی تعمیر ہے، جو حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
اگر سعودی عرب خود کو یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے ڈرونز یا ایران کی جانب سے براہ راست داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے طویل المدت خطرے میں گھرا ہوا پاتا ہے تو یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ستمبر 2019 میں سعودی عرب کو ایک ناخوشگوار جھٹکا لگا تھا۔
ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے دوران، سعودیوں کی آنکھ اس خبر پر کھلی کہ عراق میں ایران نواز گروہ نے اس کی دو اہم تیل کی تنصیبات ابقیق اور خریص پر ڈرونز کا بڑا حملہ کیا ہے۔
اس وقت گمان یہ تھا کہ حملہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے ہوا تھا۔ لیکن میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر گیا تھا اور میں واضح طور پر دیکھ سکتا تھا کہ تنصیبات میں ہونے والے نقصانات کے تانے بانے عراق سے ملتے تھے۔
اس حملے نے کئی دنوں کے لیے سعودی تیل کی برآمدات کا نصف حصہ معطل کر دیا تھا اور ریاض کے لیے یہ ایک سخت تنبیہ تھی کہ ملک کا اہم قومی بنیادی ڈھانچہ حملوں سے کتنا غیر محفوظ ہے۔

پیر کے روز سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ ’ابقیق‘ کی تیل تنصیب پر ایک بار پھرعراق میں ایران نواز گروہوں کی جانب سے داغے گئے ڈرونز سے حملہ ہوا۔
پھر تیل کا معاملہ بھی ہے، جو اب بھی سعودی معیشت کی شہ رگ ہے۔
فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جو ایران اور خلیج کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جس سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
اس کے جواب میں سعودی عرب نے اپنی مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کے ذریعے، جو مشرقی ساحل سے بحیرہ احمر میں واقع مغربی برآمدی بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل پمپ کیا۔
وہاں سے تیل بردار جہاز جنوب کی جانب روانہ ہوئے، بحیرہ عرب میں داخل ہوئے اور ایشیا کی منڈیوں کی طرف گئے۔
اب تک سب ٹھیک تھا۔
لیکن 13 جولائی کو سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت کے قریب واقع صنعا ایئرپورٹ پر بمباری کی۔
اس حملے کی ذمہ داری یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے قبول کی جس کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا چاہتی تھی۔
جواباً حوثیوں نے سعودی عرب کے علاقائی ہوائی اڈوں ابھا اور جازان پر حملے کیے۔

ریاض کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہاز رانی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع تنگ آبنائے باب المندب سے گزرنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں ایشیا کو سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔
سعودی عرب نے سات سال تک حوثیوں کو جھکانے کے لیے بمباری کی کوشش کی۔ لیکن ناکام رہا۔
یمن میں جاری رہنے والی جنگ ہمارے دور کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک تھی اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سنہ 2022 میں سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ ایک غیر مستحکم جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور مالی ادائیگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ لیکن اب خطے کا امیر ترین ملک سعودی عرب ایک بار پھر اپنے جنوبی ہمسائے سے ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ شمال میں عراق سے بھی حملے ہو رہے ہیں۔
وژن 2030 کے منصوبوں میں ان میں سے کسی صورتحال کا تصور نہیں کیا گیا تھا۔