صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، لیکن اسی دوران سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بتایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ٹیلی فون کر کے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ایران کے خلاف حملے مؤخر کر دیے ہیں، بشرطیکہ اس کے ساتھ ’تیزی سے‘ معاہدہ طے پا جائے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اُنھیں ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے کہا ہے کیونکہ معاہدے کے ’طریقہ کار‘ پر اتفاق کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، لیکن اسی دوران سعودی عرب کے خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے بتایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ٹیلی فون کر کے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات تھیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر نئے اور شدید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی صدر نے ایران کے خلاف شدت اور تباہ کن کارروائی کے انتباہ کے بعد سفارتکاری کو موقع دینے کی بات کی ہو۔
ایران نے 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے خاکے پر نئے مذاکرات یا کسی معاہدے کی درخواست کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اتوار کے روز ایران کے قائم مقام وزیر دفاع ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران اپنے مخالفین کی طرف سے ہر خطرے کو ’حقیقی اور قابل اعتبار‘ سمجھتا ہے چاہے وہ نفسیاتی جنگ کا حصہ کیوں نہ ہو۔
لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک کال پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

محمد بن سلمان کی ’تشویش‘
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہداف کے خلاف اب تک کی شدید ترین بمباری مہموں میں سے ایک کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد امریکی حملوں کے بعد ایران خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں کویت، بحرین اور اُردن پر حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب میں بھی حملے کیے ہیں، جس کے باعث اس تنازع میں وسعت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ (ایس پی اے) کے مطابق کشیدگی بڑھنے سے خطے اور عالمی امن پر پڑنے والے اثرات پر ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ٹیلی فون کیا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
بیان کے مطابق سعودی ولی عہد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو سفارتی حل کی راہ ہموار کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور وسیع تر کشیدگی کو روکنے پر بھی زور دیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سنیچر کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی اور ایران سے متعلق امریکی منصوبوں پر ’اپنی تشویش کا اظہار کیا اور وضاحت طلب کی۔‘
’سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا‘
ایران کی قومی سلامتی کونسل سے وابستہ ’نور نیوز ایجنسی‘ نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر امریکہ کے کسی بھی حملے کے نتیجے میں تہران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل کے کنوؤں، نیز اور اسرائیل میں گیس کے ذخائر پر جوابی حملے کرے گا۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ اس صورت میں ’سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر یہ اطلاع دی گئی کہ اُنھوں نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا ان کارروائیوں میں خطے کے ممالک کی شرکت کا جواب فیصلہ کن اور مناسب ردِعمل کے ذریعے دیا جائے گا۔‘
عباس عراقچی نے سنیچر کے روز ترکی کے وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطوں میں امریکہ کو کسی بھی ’مہم جوئی‘ سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران کسی بھی جارحیت کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے وزیر خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ کی مبینہ عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے نتائج پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘
خیال رہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطی میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فریقین کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنے کا مشورہ دیا تھا۔

’یہ بڑی جنگ روکنے کی آخری کوشش ہو سکتی ہے‘
محمد بن سلمان کی امریکی صدر کو ٹیلی فونک کال پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطے میں وسیع پیمانے پر ممکنہ کشیدگی روکنے کی ایک کوشش ہے۔
تجزیہ کار رایان روزبیانی نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو آخری لمحات میں امن کی پیشکشخطے میں وسیع تر جنگ کو روکنے کی ایک اہم اور آخری کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔
اُن کے بقول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کو فون کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملے نہ کریں۔
رایان کا کہنا تھا کہ آنے والے چند گھنٹے یہ طے کر سکتے ہیں کہ آیا سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے یا خطہ ایک بہت بڑی جنگ کی جانب بڑھتا ہے۔
تجزیہ کار ناداو پولاک نے ایکس پر لکھا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ایران کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں کر پا رہے۔
اُن کے بقول ایران کسی بھی معاملے پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے پر بھی آمادہ ہے۔
پولاک کا کہنا تھا کہ اب صدر ٹرمپ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، وہ پہلے بھرپور فوجی طاقت استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور پھرسعودی عرب، قطر، ترکی اور پاکستان انھیں کشیدگی کم کرنے پر قائل کر لیتے ہیں۔
مشرقِ وسطی اُمور کے ماہر داني سيترينوفيتش کے مطابقسعودی عرب امریکہ کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر کسی بڑے امریکی حملے کی قیمت سب سے پہلے خلیجی ممالک کو چکانی پڑ سکتی ہے۔
اُن کے بقول اسی لیے ریاض اور دیگر خلیجی ریاستیں فوجی محاذ آرائی کے بجائے خطے میں استحکام اور سفارت کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اگرچہ آبنائے ہرمز پر تنازع برقرار ہے، لیکن فی الحال واشنگٹن بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کو نسبتاً بہتر راستہ سمجھ رہا ہے۔