یہ منصوبہ کم آمدنی والے افراد کے لیے ہے جو شادی سے وابستہ بھاری مالی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس منصوبے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال 5,000 جوڑوں نے درخواست دی۔
شادی کے تمام نئے کپڑوں کے اخراجات کانو ریاستی حکومت کی جانب سے ادا کیے جاتے ہیں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 1,500 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی وجہ سے شمالی نائجیریا کا شہر کانو رنگوں اور جوش و خروش سے بھر گیا ہے۔
کئی دنوں سے شہر کی سڑکیں دلہنوں کی تقریبات اور ان کے خاندانوں کی سرگرمیوں سے گونج رہی ہیں، جو لباس تیار کرنے اور دیگر منظم تقریبات میں شرکت کرنے میں مصروف ہیں۔
جمعے کے روز سرخ حجاب میں دلہنیں اور ان سے ملتی جلتی سرخ ٹوپیوں اور سفید جبوں میں ملبوس دلہے مرکزی تقریب کے لیے شہر کے روایتی مسلم رہنما، امیرِ کانو کے محل گئے، جہاں وہ باضابطہ طور پر میاں بیوی بن گئے۔
سنیچر کے روز گورنر ابا کبیر یوسف کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ ناشتے کے ساتھ شادیوں کی تقریبات اختتام پذیر ہوئیں، جہاں انھوں نے نوبیاہتا جوڑوں کو اپنی دعائیں اور نیک تمنائیں پیش کیں۔
کانو ریاستی حکومت نے اس منصوبے کی مالی معاونت کی اور شادی کرنے والوں کی مدد کے لیے 1.5 ارب نائرا (10 لاکھ ڈالر) خرچ کیے۔ اس میں دلہن کا حقِ مہر اور جوڑے کے پہلے گھر کے لیے فرنیچر فراہم کیا گیا۔
یہ منصوبہ کم آمدنی والے افراد کے لیے ہے جو شادی سے وابستہ بھاری مالی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
یہ سالانہ تقریب 2012 میں اُس وقت کے گورنر نے شروع کی تھی، جب 100 جوڑے، جن میں زیادہ تر بیوائیں اور طلاق یافتہ افراد شامل تھے، محل میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔
بعد میں آنے والے گورنروں کے ادوار میں بھی یہ اجتماعی شادیاں جاری رہیں، اور طلب میں اضافے کے ساتھ ہر سال جوڑوں کی تعداد بڑھتی گئی، جن میں ایک سے زیادہ شادیوں والے مسلم خاندان بھی شامل تھے۔
اس منصوبے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال 5,000 جوڑوں نے درخواست دی۔
اس تقریب کی نگرانی ہمیشہ حسبہ فورس، یعنی شہر کی اسلامی پولیس کرتی ہے، اور ان کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک شادی کے خواہش مند جوڑوں کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔
کانو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ریاست میں سیکولر قانونی نظام کے ساتھ شریعت بھی نافذ ہے۔
حسبہ کے نائب کمانڈر جنرل مجاہد امین الدین تسلیم کرتے ہیں کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے کہا ’جب بھی ہمیں کسی جوڑے کے بارے میں کوئی مشکوک یا غیر معمولی بات معلوم ہو، ہم انھیں نااہل قرار دے دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بعض جوڑے حکام کو یہ یقین دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ واقعی محبت کرنے والے جوڑے ہیں، جبکہ ان کی اصل نظر فراہم کی جانے والی سہولتوں اور فوائد پر ہوتی ہے۔
حسبہ کا دفتر کئی ہفتوں سے انتہائی مصروف ہے، کیونکہ دلہنیں اور دولہے یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے نام حتمی فہرست میں شامل ہوں ریاستی حکومت نے ہر شریک جوڑے پر تقریباً 10 لاکھ نائرا (735 ڈالر؛ 544 پاؤنڈ) خرچ کیے ہیں۔
حسبہ کے مطابق، جو امدادی پیکج ایک جوڑے کو دیا جاتا ہے اس میں نئے گھر کے قیام کے لیے ضروری گھریلو سامان شامل ہوتا ہے، جیسے بستر، گدے، چادریں، تکیے، فرنیچر اور خوراک۔
ہر دلہن کو 100,000 نائرا حقِ مہر دیا جاتا ہے، جبکہ مزید 100,000 نائرا ابتدائی سرمایہ کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کی حوصلہ افزائی ہو اور جوڑا شادی کے بعد مالی طور پر خودکفیل بن سکے۔
پروگرام میں شمولیت کی منظوری سے پہلے تمام امیدوار جوڑوں کو مکمل طبی معائنوں سے گزرنا ہوتا ہے، جن میں ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس، حمل اور جینیاتی مطابقت کے ٹیسٹ شامل ہیں۔
امین الدین نے بتایا کہ کچھ جوڑوں کو اس وقت نااہل قرار دیا گیا جب معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے طبی ٹیسٹوں کے نتائج میں رد و بدل کیا تھا۔
ایک معاملے میں ایک امیدوار دلہن نے اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں اپنے بھائی کو دولہا ظاہر کیا تھا۔
مقامی صحافی یوسف علی عبداللہ، جو کئی برسوں سے ان اجتماعی شادیوں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس سال نائجیریا کی کمزور معیشت درخواست دہندگان میں بے چینی اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے کہا: ’جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، شادی میں پیسہ خرچ ہوتا ہے اور اس وقت ملک کی معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے۔‘
’اس وجہ سے بعض لوگ اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے بے حد بے تاب ہیں۔‘
ان کے مطابق ایک ایسا جوڑا بھی سامنے آیا جو پہلے سے شادی شدہ تھا، لیکن اس نے خود کو نئی شادی کرنے والا جوڑا ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم پکڑے جانے کے بعد انھیں پروگرام سے نکال دیا گیا۔
دیگر دھوکے باز افراد نے بھی ان لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جو سپانسر شدہ فہرست میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ یہ فہرست دو ہفتے پہلے جاری کی گئی تھی۔
کانو کے ایک رہائشی، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ اسے فہرست میں شامل کرنے کے لیے رشوت مانگی گئی تھی۔
انھوں نے کہا ’لیکن منتظمین کے ساتھ انصاف کی بات یہ ہے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مجھ سے پیسے مانگنے والے حسبہ کے اہلکار نہیں تھے۔‘
وہ اور ان کی منگیتر اگست میں ہونے والی اس شادی کی تقریب کے لیے منتخب نہیں ہو سکے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال دوبارہ کوشش کریں گے۔
24 سالہ امینہ الحسن کا کہنا ہے کہ اگر یہ اجتماعی شادی کا منصوبہ نہ ہوتا تو وہ اس وقت شادی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی تھیں امین الدین نے تسلیم کیا کہ اسلامی پولیس کو ایسے الزامات کا علم ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں سے یہ کہہ کر پیسے مانگ رہے ہیں کہ وہ ان کا نام فہرست میں شامل کرا سکتے ہیں۔‘
لیکن حسبہ کے اس افسر نے مستقبل میں شادی کے خواہش مند تمام افراد کو یقین دلایا کہ پورے عمل پر انھیں ایک نائرا بھی خرچ نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا ’ہم کانو کے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ پورا عمل مفت ہے۔ انتخاب سے لے کر طبی معائنوں تک، اور جو سامان جوڑوں کے لیے رکھا گیا ہے، سب کچھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔‘
کامیاب دولہوں میں سے ایک، 43 سالہ کپڑوں کے تاجر ربیع یوسف نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ شادی کے لیے درخواست دینے کا عمل ان کے لیے آسانی سے مکمل ہوا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ذاتی طور پر مجھ سے کسی نے کچھ نہیں مانگا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ حکومت تمام اخراجات برداشت کرے گی۔‘
ان کی نئی اہلیہ عائشہ اعوال ہیں۔ دونوں کی ملاقات اس وقت ہوئی جب عائشہ باقاعدگی سے ان کی دکان سے کپڑے خریدنے آیا کرتی تھیں۔
یوسف، جن کے اپنی پہلی بیوی سے پہلے ہی پانچ بچے ہیں، نے کہا کہ وہ ’بہت خوش ہیں اور اپنی گاہک سے دلہن بننے والی شریکِ حیات کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔‘
24 سالہ امینہ الحسن نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ 40 سالہ نورا عبداللہ سے شادی کے لیے درخواست دیتے وقت انھیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ان کا رشتہ پہلے دمباتا گاؤں میں ان کے خاندانوں نے طے کیا تھا، جس کے بعد وہ حسبہ کے پاس گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’سب کچھ مفت رہا ہے اور میں اس منصوبے پر حکومتِ کانو کی تعریف کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ اس کے بغیر بہت سے لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے شادی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔‘
سنیچر کے روز شادی کی دعوت کے بعد گھریلو سامان تقسیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔
تاہم کانو میں اس جوش و خروش کو ختم ہونے میں ابھی کئی دن لگیں گے، جبکہ نوبیاہتا جوڑے اپنے نئے گھروں کو بسانے میں مصروف رہیں گے