تیل کی قیمتوں میں اضافے اور برآمدات کو بحیرہ احمر کے راستے منتقل کرنے کے باعث سعودی کمپنی آرامکو کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کیا سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایران جنگ سے فائدہ اٹھایا ہے؟
سعودی عرب کی کمپنی آرامکو نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اس کا منافع 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
یہ منافع ایسے وقت میں ریکارڈ کیا گیا ہے جب ایران جنگ کے باعث خطہ کشیدگی کا شکار رہا، خلیج فارس میں بحری آمد و رفت میں بڑے پیمانے پر خلل آیا، سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اور برآمدات میں کمی آئی اور اس ملک کی برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ احمر کے راستے منتقل کیا گیا۔
اس سہ ماہی میں آرامکو کا ایڈجسٹ شدہ منافع 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ یہ ایک سال قبل اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہے۔ خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق کمپنی کے رپورٹ شدہ خالص منافع میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ دونوں اعداد و شمار مختلف پیمانوں کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہیں، تاہم دونوں ہی آرامکو کے منافع میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران منافع میں اضافہ کیا اس بات کی علامت ہے کہ سعودی حکومت نے اس جنگ سے فائدہ اٹھایا ہے؟ اور کیا آرامکو کے مالیاتی گوشوارے سعودی عرب کی معاشی صورتحال کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں؟
پیداوار میں کمی کے باوجود آرامکو کا منافع اتنا زیادہ کیوں بڑھا؟

2026 کی دوسری سہ ماہی میں آرامکو کی تیل اور گیس کی پیداوار ایک سال پہلے کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد کم تھی، لیکن کمپنی کے فروخت کردہ تیل کی قیمت میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور قیمتوں میں اس اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی نے پیداوار اور برآمدات میں کمی کے اثرات کا ازالہ کر دیا۔
ماہرِ اقتصادیات اور کرسٹول انرجی کنسلٹنگ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو کیرول نخلی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ سعودی تیل کمپنی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والی واحد کمپنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’آرامکو نے بھی ہر اس تیل کمپنی کی طرح قیمتوں میں اضافے سے فائدہ حاصل کیا ہے جس نے حالیہ کشیدگی کے دوران بین الاقوامی منڈیوں کو سپلائی جاری رکھی۔‘
نخلی کے مطابق آرامکو کو اس بات کا بھی فائدہ ہوا کہ تیل نکالنے پر اس کی لاگت کم آتی ہے۔ ’آرامکو کے لیے قیمتوں میں اضافہ نہ صرف پیداوار اور برآمدات میں کمی کے منفی اثرات کا مکمل ازالہ کرتا ہے بلکہ اس سے مزید آمدنی بھی پیدا ہوتی ہے۔‘
آرامکو نے بھی اپنی مالیاتی رپورٹ میں خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور کیمیائی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو منافع بڑھنے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
ڈیزل اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ریفائنریوں کے منافع میں بہتری سے آرامکو کا ریفائننگ اور مارکیٹنگ شعبہ بھی مستفید ہوا ہے۔ اس شعبے کا آپریٹنگ منافع تقریباً دگنا ہو گیا اور آرامکو کی سعودی عرب کے اندر اور باہر موجود ریفائنریوں، پیٹروکیمیکل یونٹس، گوداموں اور تجارتی سرگرمیوں کے نیٹ ورک نے اس بڑی توانائی کمپنی کو پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
آمدنی میں یہ اضافہ صرف آرامکو تک محدود نہیں تھا۔
آرامکو کے سہ ماہی نتائج کے ساتھ ہی بی پی (برٹش پیٹرولیم) نے بھی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 5.7 ارب ڈالر منافع کا اعلان کیا، جو ایک سال قبل کے اسی عرصے کے مقابلے میں دگنا سے زیادہ اور 2022 کے بعد کمپنی کا سب سے زیادہ سہ ماہی منافع ہے۔
ایگزون موبِل، شیورون اور شیل نے بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ منافع رپورٹ کیا۔ تاہم آرامکو کی برآمدات کا بڑا حصہ عام طور پر ایسے راستے سے گزرتا ہے جو براہ راست جنگ کے اثرات کا شکار ہوا۔
ماہرین کے مطابق ایک سہ ماہی میں منافع میں اضافے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ رجحان آئندہ مہینوں میں بھی جاری رہے گا۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی تیل کی قیمتوں میں کمی لا سکتی ہے، جبکہ تنازع کے شدت اختیار کرنے کی صورت میں اگرچہ تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ آرامکو کی برآمدات مزید محدود بھی ہو سکتی ہیں۔
مشرق۔مغرب پائپ لائن نے برآمدات پر دباؤ کیسے کم کیا؟
جن عوامل نے آرامکو کے لیے اپنی برآمدات جاری رکھنا ممکن بنایا، ان میں سے ایک مشرق۔مغرب پائپ لائن تھی۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع بقیق کی تنصیبات سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔
کیرول نخلی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اس پائپ لائن نے سعودی عرب کو کچھ ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں برتری دی ہے۔ ’سعودی عرب اپنی خام تیل کی برآمدات کا ایک قابلِ ذکر حصہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر منتقل کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے، اگرچہ وہ اس انحصار کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔‘
عراق اور کویت جیسے ممالک کے پاس متبادل راستے کم ہیں اور وہ بحری نقل و حمل میں خلل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مشرق۔مغرب پائپ لائن، جس کی معمول کی گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ ہے، ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے دوران آرامکو کے لیے بنیادی متبادل راستے میں تبدیل ہو گئی۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کے 70 فیصد سے زیادہ حصے کو اس راستے پر منتقل کر دیا۔
آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کمپنی کے مالیاتی نتائج کے اجرا کے بعد کہا کہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش، متعدد برآمدی ٹرمینلز اور مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے ینبع بندرگاہ تک تیل کی منتقلی نے آرامکو کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل بنایا۔
ان کے مطابق کمپنی نے ’آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی سپلائی میں غیر معمولی خلل کے باوجود‘ اپنے متنوع اثاثوں اور ’کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی‘ کی بدولت اپنی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھیں۔
اس کے باوجود مشرق۔مغرب پائپ لائن میں اتنی گنجائش نہیں کہ تیل کی وہ مقدار منتقل کر سکے جو جنگ سے پہلے خلیج فارس کے ذریعے برآمد کی جاتی تھی۔ اور اس پائپ لائن کی گنجائش کا ایک حصہ مغربی سعودی عرب کی ریفائنریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
دوسری سہ ماہی میں آرامکو کی پیداوار میں کمی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس متبادل راستے کی بھی اپنی حدود ہیں۔ اس پائپ لائن نے خلل کی شدت کم کی، لیکن سعودی عرب کا خطے کی آبی گزر گاہوں کی سلامتی پر انحصار ختم نہیں کیا۔
جولائی میں خطرات بحیرہ احمر تک بھی پھیل گئے۔ یمن کے حوثیوں نے سعودی جہازوں کے محاصرے کا اعلان کیا اور اس ساحل پر واقع دو بندرگاہوں میں سعودی تیل تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ آرامکو نے کہا کہ وہ ان حملوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو تیزی سے دور کر سکتی ہے، تاہم ان واقعات نے یہ ظاہر کیا کہ برآمدات کو آبنائے ہرمز سے منتقل کرنے کے باوجود سعودی تیل مکمل طور پر جنگ کے دائرے سے باہر نہیں نکلا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کے پاس تیل کی نقل و حمل کے لیے متنوع ڈھانچہ موجود ہے، جس کی وجہ سے ملکی معیشت رکاوٹوں کے سامنے زیادہ مزاحمت کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، مشرق۔مغرب پائپ لائن اور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے تیل کی تیز تر منتقلی اور آرامکو کے بیرونی ذخائر نے تیل کی برآمدات میں کمی کو محدود کرنے میں مدد دی۔ یہی امتزاج آرامکو کے مالی نتائج میں بھی نظر آتا ہے۔
کیا آرامکو کے منافع میں اضافہ سعودی عرب کی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے؟

آرامکو کے منافع میں اضافہ براہِ راست سعودی حکومت کی آمدنی پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ حکومت اور ملک کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کمپنی کے تقریباً تمام حصص کے مالک ہیں۔ آرامکو نے دوسری سہ ماہی کے لیے حصص دہندگان میں تقریباً 22 ارب ڈالر منافع تقسیم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم بڑی حد تک حکومت اور اس فنڈ کو ملتی ہے اور عوامی بجٹ اور سعودی عرب کے بڑے منصوبوں کے لیے مزید وسائل فراہم کرتی ہے۔
تاہم، جہاں ایک جانب آرامکو کے منافع میں اضافہ ہوا ہے، وہیں سعودی معیشت سکڑ گئی ہے۔ اس ملک کے ادارہ شماریات کے ابتدائی تخمینے کے مطابق دوسری سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار ایک سال قبل کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً پانچ فیصد کم ہوئی ہے۔ تیل سے متعلق سرگرمیوں میں تقریباً 25 فیصد کمی آئی جبکہ دیگر شعبوں میں بھی خاص اضافہ نہیں ہوا۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ آرامکو کے منافع میں اضافے کا یہ مطلب نہیں کہ سعودی معیشت بھی لازمی ترقی کر رہی ہو گی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے آرامکو کی آمدنی تو بڑھی، لیکن ملک کی مجموعی ملکی پیداوار زیادہ تر اشیا اور خدمات کی پیداوار کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔
آرامکو مہنگا تیل فروخت کر کے زیادہ منافع کما سکتی ہے، لیکن پیداوار اور برآمدات میں کمی سے سعودی معیشت کا تیل کا شعبہ سکڑ جاتا ہے۔ جنگ کے دوران انشورنس، نقل و حمل اور برآمدی راستوں کے تحفظ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، اور اضافی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔
جنگ کے اثرات صرف تیل کی صنعت تک محدود نہیں ہیں۔ سعودی عرب کا وژن 2030 تیل کی آمدن پر انحصار کرنے کے بجائے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول، سیاحت کے فروغ اور دیگر سرگرمیوں کی توسیع پر مبنی ہے۔ ان شعبوں کی کامیابی کے لیے علاقائی استحکام اور طویل المدتی منصوبہ بندی زیادہ اہم ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جنگ نے تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی تجارت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے اور اس کا تسلسل آنے والے برسوں میں ترقی اور سرمایہ کاری کو کمزور کر سکتا ہے۔
کیرول نخلی بھی کہتی ہیں: ’صرف آرامکو کے منافع میں اضافے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ سعودی عرب نے اس تنازع سے فائدہ اٹھایا ہے، گمراہ کن ہو گا۔‘
ان کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مختصر مدت میں ان پیدا کنندگان کی آمدنی بڑھائی ہے جو اپنی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہے، لیکن عدم استحکام کا تسلسل سلامتی کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے، سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے اور کاروباری ماحول کو مزید غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور برآمدات کے بڑے حصے کو مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے سے پیداوار اور برآمدات میں کمی کا ازالہ ہوا اور آرامکو کا منافع بڑھ گیا۔
لیکن اسی عرصے میں سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اور معیشت دونوں سکڑ گئیں، جبکہ اس ملک کے تجارتی راستوں اور تیل کے علاوہ دیگر منصوبوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا۔
نخلی کے مطابق ’آرامکو کو مختصر مدت میں تیل کی بلند قیمتوں سے فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن سعودی عرب کو ایک طویل جنگ کے مقابلے میں علاقائی استحکام سے کہیں زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔‘