پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" کے بعد نئی دہلی میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جسے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی دفاعی حکام کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مسلح تنازع کی صورت میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی معاہدے کی شرائط کے تحت اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فوج کے نائب سربراہ نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کو بیک وقت تین مخالف قوتوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں چین نے سیٹلائٹ معلومات جبکہ ترکیہ نے جنگی و خودکش ڈرونز کی صورت میں پاکستان کو عسکری معاونت فراہم کی۔
معاہدے پر بھارتی ناخوشی کے باوجود سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط دفاعی و مالی تعلقات قائم ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعاملات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستان نے ترکیہ سے جدید 'بیرقدار اَکنجی' جنگی ڈرونز، میلجم کلاس بحری جہاز اور آبدوزوں کی جدید کاری جیسی اہم دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ فی الوقت ایک علاقائی دفاعی اور سیاسی بندوبست ہے، لیکن عملی طور پر مضبوط ہونے کی صورت میں یہ مستقبل میں بھارت کے لیے سفارتی اور عسکری حساب کتاب کو انتہائی پیچیدہ بنا دے گا۔