سپریم کورٹ نے بیوی کو آگ لگانے کے الزام میں سرکاری ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھریلو تشدد کو نجی معاملہ قرار دے کر محکمانہ کارروائی سے نہیں بچا جا سکتا، جبکہ فوجداری مقدمے میں بریت بھی محکمانہ انکوائری میں ثابت ہونے والی بدعملی کو ختم نہیں کرتی۔
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتر یا عوامی مقامات تک محدود نہیں بلکہ گھر کے اندر اس کا طرزِ عمل بھی اس کی ملازمت اور سرکاری عہدے کے لیے اہلیت جانچنے میں اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت کے مطابق خواتین کی عزت اور وقار کا احترام گھر کی چار دیواری میں بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا عوامی مقامات پر جبکہ خواتین کا احترام ریاست کی بنیادی اخلاقی توقع اور آئینی تقاضا ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ فوجداری اور محکمانہ کارروائیوں کے مقاصد اور معیارِ ثبوت مختلف ہوتے ہیں، اس لیے فوجداری مقدمے میں بریت کو محکمانہ کارروائی سے استثنیٰ نہیں سمجھا جا سکتا۔ شک کا فائدہ ملنے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ملزم کا مؤقف درست ثابت ہوگیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری کے دوران 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور متعلقہ ملازم کو جرح اور اپنے دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ بیوی کو آگ لگانے اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کے لیے جھوٹا مؤقف اختیار کرنے سمیت سنگین الزامات ثابت ہونے کے بعد محکمانہ کارروائی قانون کے مطابق تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سرکاری ملازمت ایک امانت ہے اور سرکاری ملازم کا ذاتی و پیشہ ورانہ کردار عوامی اعتماد سے جڑا ہوتا ہے۔ جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سرکاری ملازم کی درخواست خارج کر دی۔