"میری بیٹی میری پوری دنیا تھی۔ جب وہ صرف 16 دن کی تھی تو اس کے والد ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ میں نے اسے اکیلے پالا اور آج وہ میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں صرف اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی ہوں جب میں جیل میں ملزم کو دیکھنے گئی تو وہ مجھے مسکراتا ہوا نظر آیا۔ میری بچی کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہوا اور مجھے آج بھی انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ اگر قانون میری بیٹی کو انصاف نہیں دے سکتا تو میں اپنی آواز ہر جگہ بلند کروں گی۔"
کراچی میں 18 ماہ کی کمسن ایزل کے مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعے نے ایک بار پھر شہریوں کو غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ ننھی بچی کی والدہ نے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی اور اپنی آواز بلند کی۔
ایزل اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی اور مبینہ طور پر واقعے کے روز اپنے 17 سالہ کزن کے ساتھ کچھ کھانے کی چیز لینے گئی تھی۔ خاندان کے مطابق اسی دوران بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ جانبر نہ ہوسکی۔
ایزل کی والدہ کے مطابق بچی کے والد اس وقت انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے جب بیٹی کی عمر صرف 16 دن تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیٹی کی پرورش اکیلے کی اور اسے اپنی زندگی کا مرکز قرار دیا۔
اب بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ملزم کو کم عمر ہونے کی وجہ سے قانونی تحفظ مل رہا ہے، جس پر وہ شدید تحفظات رکھتی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے وہ کراچی کے تھری تلوار پر ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئیں اور اپنی بیٹی کے لیے آواز اٹھائی۔
والدہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جیل میں ملزم کو دیکھنے کے دوران اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، جس نے ان کے دکھ اور غصے کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ایزال کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔