انڈیا کا 14 ریاستوں میں مبینہ ’آئی ایس آئی حمایت یافتہ نیٹ ورک‘ کے 200 افراد گرفتار کرنے کا دعویٰ اور پاکستان کی تردید

انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی حکومت نے یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ مبینہ شدت پسند تنظیم ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو ختم کرتے ہوئے اس کے 200 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا ہے اور اس تنظیم کی تخریبی حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

پاکستان نے انڈین وزیرِ داخلہ امت شاہ کے انڈیا کی یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مبینہ حمایت یافتہ دہشت گروپ شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسی بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں بین الاقوامی توجہ کو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکتیں۔

امت شاہ نے کیا دعویٰ کیا تھا؟

سوموار کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی حکومت نے یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ مبینہ شدت پسند تنظیم ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو ختم کرتے ہوئے اس کے 200 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا ہے اور اس تنظیم کی تخریبی حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کو توڑ دیا۔ امت شاہ نے اسے دہشت گردی کے خلاف انڈیا کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کی مثال قرار دیا۔

امت شاہ نے کہ نیٹ ورک کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ بارود بشمول پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پکڑے گئے مبینہ عسکریت پسندوں سے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

Ministry of foreign affairs
Getty Images

’انڈیا کی بے بنیاد باتیں انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے بین الاقوامی توجہ نہیں ہٹا سکتیں‘

پاکستان نے انڈیا کے وزیرِ داخلہ کے یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مبینہ حمایت یافتہ دہشت گروپ شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

سوموار کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے وزیرِ داخلہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں پاکستان کو انڈیا میں ہونے والی کچھ گرفتاریوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس قسم کا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف انڈیا کی اس مذموم مہم کا ایک اور ثبوت ہے جس کا مقصد اپنی داخلی سکیورٹی کے چیلنجوں سے توجہ ہٹانا اور محض تنگ نظر ملکی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کی بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں بین الاقوامی توجہ کو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکتیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے بارہا دہشت گردی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں انڈیا کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔‘

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرے اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی پر انڈیا کا احتساب کرے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US