وفاقی کابینہ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی۔
مجوزہ قانون کے تحت مسلح افواج کے لیے ایک مشترکہ ڈیفنس ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا، جو چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت کام کرے گا۔ ڈیفنس ہیڈکوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق امور میں وزیراعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر کے طور پر کردار ادا کرے گا۔
بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول حاصل ہوگا اور اس ضمن میں وہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔ انہیں مسلح افواج کے درمیان انضمام، عملی ہم آہنگی، رابطہ کاری اور مشترکہ نگرانی کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہوں گے۔
قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز متعلقہ قوانین کے مطابق بعض اہلکاروں کو ریٹائر، سبکدوش یا ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ استعفیٰ منظور یا مسترد کرنے کا اختیار بھی رکھیں گے۔ وہ کسی فرد کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت میں کمی بھی کرسکیں گے۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ دیگر اختیارات استعمال کرنے اور فرائض انجام دینے کا اختیار ہوگا۔
وفاقی حکومت ایکٹ پر عمل درآمد کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرے گی، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ان قواعد پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہدایات اور احکامات جاری کرسکیں گے۔
ایکٹ پر عمل درآمد میں کسی مشکل یا موجودہ قانون سے عدم مطابقت کی صورت میں صدر مملکت کو اس مشکل کا ازالہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔