پاکستان کے پیس بولرز کی کم رفتار پر جہاں تنقید ہو رہی ہے تو وہیں ناقص فیلڈنگ پر بھی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ ایسے میں شائقینِ کرکٹ پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا، محمد رضوان اور اوپنر امام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں سے بھی ناخوش ہیں۔
پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا کہتے ہیں کہ ٹیم دوسرے ٹیسٹ میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی’یہ 50 سال کے دوران انگلینڈ آنے والی پاکستان کی سب سے کمزور ٹیم ہے۔۔ پاکستان کی ٹیم یہ سیریز تین، صفر سے ہار جائے گی۔‘
یہ وہ تبصرے ہیں جو برطانوی میڈیا میں پاکستان کی لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز کی شکست سے پہلے ہی جاری تھے۔ ایسے میں پاکستانی شائقین یہ توقع کر رہے تھے کہ شاید پاکستان کرکٹ ٹیم کوئی معجزہ دکھا دے اور ناقدین کے منھ بند کر دے۔
لیکن ایسا نہ ہو سکا اور لیڈز ٹیسٹ کے تیسرے روز ہی پاکستان کی ٹیم کو انگلینڈ کے ہاتھوں ایک اننگز اور 103 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی ٹیم اپنی دونوں اننگز میں 171 اور 135 رنز پر ڈھیر ہو گئی جبکہ انگلینڈ کی ٹیم نے 409 رنز بنا کر ایک مرتبہ بیٹنگ کی۔ پاکستان کی ٹیم مجموعی طور پر صرف 85 اوورز ہی بیٹنگ کر سکی۔
پاکستان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر، شائقین اور کرکٹ تجزیہ کار جہاں ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی پر سوال اُٹھا رہے ہیں تو وہیں آج سے ٹھیک 10 برس قبل انگلینڈ میں ہی پاکستان کی شاندار کارکردگی کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔
پاکستان نے اگست 2016 میں ہی انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ میچز کی سیریز دو، دو سے برابر کر کے ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی تھی۔
لیکن 10 سال بعد اگست 2026 میں پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہے جبکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ رینکنگ میں پاکستان کا آخری نمبر ہے۔
پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی میں مسلسل تنزلی کی وجہ کیا ہے؟ کیا برطانوی میڈیا کی پاکستان کرکٹ ٹیم پر تنقید جائز ہے؟ کیا اب پاکستان کرکٹ میں میچ ونرز بالکل ختم ہو گئے ہیں؟ اس پر بات کرنے کے لیے بی بی سی نے سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
لیکن پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ برطانوی میڈیا اور سابق کرکٹرز پاکستان کرکٹ کے حوالے سے کیا کہہ رہے ہیں۔

ہیڈنگلے میں پاکستان کی شکست دیکھ کر ’کافی افسوس‘ ہوا
پاکستان کے پیس بولرز کی کم رفتار پر جہاں تنقید ہو رہی ہے تو وہیں ناقص فیلڈنگ پر بھی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ ایسے میں شائقینِ کرکٹ پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا، محمد رضوان اور اوپنر امام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں سے بھی ناخوش ہیں۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کے لیے ’واقعی تشویش‘ ہے اور ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بھاری شکست دیکھ کر’کافی افسوس‘ ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ ٹیم جس نے کرکٹ کی تاریخ کے کچھ انتہائی خوفناک بولرز پیدا کیے، گیند بازی میں بھی بے جان نظر آئی اور فیلڈنگ میں بھی کمزور رہی۔
وان نے بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل (ٹی ایم ایس) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’انھیں (پاکستان) کو مکمل طور پر پچھاڑ دیا گیا ہے۔ انھیں بری طرح شکست ہوئی ہے۔ میں نے کبھی انھیں اتنا خوف زدہ نہیں دیکھا۔‘
’حکمت عملی کے لحاظ سے وہ ناکام رہے۔ مہارت اور معیار کے اعتبار سے دونوں ٹیموں میں واضح فرق تھا اور پاکستان بہت پیچھے دکھائی دیا۔‘
مائیکل وان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں کچھ بہتری لا سکیں گے۔‘
مائیکل وان کا کہنا تھا کہ ’میں نے پاکستان کی کئی ٹیموں کو کھیلتے دیکھا ہے، لیکن اس ٹیم میں اس جذبے اور لڑنے کے اُس عزم کا فقدان نظر آتا ہے جس کے ہم عادی رہے ہیں۔‘
’فینز مایوس ہو رہے ہیں‘
سابق کپتان رمیز راجہ نے ’ٹی ایم ایس‘ کو بتایا کہ انھیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالات مزید خرابی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایک ستون گر چکا ہے اور وہ ہے شائقین، کیونکہ وہ مایوس ہو چکے۔ جب ٹیم ایسی کارکردگی دکھائی گی تو پھر شائقین بھی اُنھیں سپورٹ نہیں کریں گے۔
’اگر آپ گذشتہ 20 ٹیسٹ میچز میں سے 17 ہار جائیں تو کوئی بھی اس ٹیم کی حمایت نہیں کرے گا۔‘
آخر پاکستان کرکٹ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
ہاتھ کی انجری کے باعث یہ ٹیسٹ نہ کھیلنے والے بابر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں ٹاپ 25 میں شامل واحد پاکستانی بلے باز ہیں۔
پاکستان کے بولنگ اٹیک میں شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسے کھلاڑی شامل نہیں ہیں، جنھوں نے بعض اوقات ٹیسٹ کرکٹ میں متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے، لیکن انھیں اکثر مختصر فارمیٹس میں استعمال کیا گیا یا وہ فارم اور فٹنس کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔
سنہ 2023 کے بعد ان کی پانچ فتوحات میں سے چار ہوم گراؤنڈ پر حاصل ہوئیں، جہاں جیت کے حصول کے لیے اکثر سپننگ پچوں کو ترجیح دی گئی۔
سنہ 2024 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز جیت کے دوران ایک پچ تیار کرنے کے لیے صنعتی پنکھے، ہیٹرز اور ونڈ بریکس استعمال کیے گئے تھے۔
رمیز راجہ کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسی ٹیم تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو صرف مخصوص کنڈیشنز میں ہی جیت سکتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ تیز رفتار بولرز کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور چونکہ بہت سے کھلاڑی ٹی 20 کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ کامیابی کی جانب ایک راستہ ہے، اس لیے انھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی زیادہ پروا نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت اشد ضرورت ہے کہ پاکستان اپنی پہچان فاسٹ بولرز کے ذریعے گیم میں واپس آئے۔
یہ ہمیشہ ہماری پہچان رہی ہے، اگر آپ اس مزاج کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو ہمیں مکمل بناتا ہے تو پھر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے؟‘

’ہم ری بلڈنگ سے گزر رہے ہیں کچھ صبر کریں‘
پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان آغا مستقبل کے بارے میں خدشات کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ٹیم ’ری بلڈنگ‘ کے دور سے گزر رہی ہے۔
پاکستان کی ٹاپ سیون بیٹنگ لائن میں شامل ہر کھلاڑی کم از کم 24 ٹیسٹ کھیل چکا ہے۔ امام الحق، شان مسعود، عبداللہ شفیق اور سعود شکیل سب یارکشائر کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، لیکن ان کے باؤلنگ اٹیک میں صرف محمد عباس ایسے تھے جنھوں نے اس سے قبل انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
سلمان آغا کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ایسی ٹیم ہیں جو ازسرنو تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ یہ مستقبل کے بارے میں فکر کرنے کی بات نہیں، بلکہ مستقبل بنانے کی بات ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ہیڈنگلے میں اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کر سکے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اگلے میچوں میں ایسا نہیں کر سکتے۔‘
’ہم بیٹھ کر اپنی کارکردگی پر غور کریں گے۔ اور ہم یقیناً کم بیک کریں گے۔‘
توقع ہے کہ بابر لارڈز میں واپسی کے لیے فٹ ہوں گے جبکہ نسیم شاہ کے چھوٹے بھائی عبید شاہ، جو عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کے مقابلے میں زیادہ رفتار سے باؤلنگ کر سکتے ہیں، ٹیم میں شامل کیے جانے کے امیدوار ہیں۔
لیکن رمیز راجہ کہتے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ٹیسٹ ٹیموں میں مسائل موجود ہیں۔
اُن کے بقول انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر بھی بلے بازی کا وہ معیار نہیں ہے جو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ضروری ہے۔
رمیز راجہ کہتے ہیں کہ بولنگ میں ہمارے پاس دو، تین اچھے فاسٹ بولرز ہیں، لیکن انھیں اس قسم کی کرکٹ کا تجربہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ فیلڈنگ میں بھی وہ اب بھی کمزور ہیں۔

’کارکردگی ایسی ہی رہی تو انگلینڈ ایک ٹیسٹ کی سیریز ہی کھیلے گا‘
کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ پاکستان ٹیم کا انتظام سنبھالنے والے ہمارے سابق کرکٹرز کا خیال ہے کہ دنیا ان کے گرد گھومتی ہے اور بظاہر وہ اپنی انا کے حصار میں رہنے لگے ہیں۔
سٹیورٹ براڈ اور برطانوی میڈیا کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ کیا اس پرفارمنس کے ساتھ ان سابق برطانوی کرکٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ ہم کتنی تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں کہ اب یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا اب کوئی ایسوسی ایٹ ٹیم پاکستان ٹیم سے بہتر ہو سکتی ہے؟
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ اب موجودہ کرکٹرز کو جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالا جا سکتا، لہذا اب انڈر 13، انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر نئے کھلاڑیوں کو سائنسی بنیادوں پر نکھارنا ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں تنزلی کی ایک بڑی وجہ ٹی 20 کرکٹ پر زیادہ توجہ ہے۔
’کھلاڑی چار اوورز کی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں جس میں لمبے سپیلز کے لیے مسل میموری ہی نہیں بنتی جس کی وجہ سے فاسٹ بولرز کا پیس نہیں ہے۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں پاکستان کے پاس شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، محمد حسنین اور احسان اللہ کی صورت میں تیز بولرز موجود تھے۔ لیکن ان کی انجریز کا خیال نہیں رکھا گیا اور وہ خود بھی ٹیسٹ میچ کھیلنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر نعمان کے مطابق شارٹ ٹرم کاسمیٹکس کا وقت اب ختم ہو گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ اس وقت تاریخ کی انتہائی نچلی سطح پر ہے۔
’اب ایک مکمل ری ویمپ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بین الاقوامی کرکٹ سے متعلقہ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کارکردگی کے بعد اب انگلینڈ آپ کو ایک ٹیسٹ میچ دیا کرے گا جس طرح بنگلہ دیش کو دیتا ہے۔‘