موبائل فون پر ہونے والا ایک خاندانی جھگڑا جس نے پہلے باپ، بیٹے اور پھر ماں کی جان لے لی

پولیس کے مطابق ’نوجوان کو بچانے کے لیے نیچے حفاظتی جال بھی بچھایا گیا تھا، تاہم وہ مسلسل اپنی جگہ بدلتا رہا۔ اسی دوران ان کے والد وہاں پہنچ گئے اور اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش میں دونوں کھائی میں گر گئے۔‘
پہاڑ سے گر کر ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے
UGC
پہاڑ سے گر کر ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ان اموات کے پیچھے موبائل فون پر ہونے والا ایک خاندانی جھگڑا اور خودکشی کے کچھ پیغامات تھے۔

21 اگست کو پیش آنے والے اس واقعے میں مرلی دھر چند گوڑے، ان کی اہلیہ سنگیتا اور ان کے بیٹے کنال ہلاک ہوئے۔

پولیس سے موصول ہونے والی ابتدائی معلومات کے مطابق موبائل فون پر ہونے والے ایک خاندانی نوعیت کے جھگڑے کے بعد کنال قریبی پہاڑی پر چلے گئے تھے اور وہاں سے چھلانگ لگانے کی دھمکی دے رہے تھے۔

پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک نوجوان شخص پہاڑی سے چھلانگ لگانے والا ہے۔ اس کے بعد پولیس، فائر بریگیڈ کی ایک ٹیم اور مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔

بی بی سی مراٹھی کے مطابق نوجوان کو منانے کی کافی کوششیں کی گئیں۔ پہاڑ کے دامن میں ایک حفاظتی جال بھی نصب کیا گیا تھا۔ تاہم کنال مسلسل اپنی پوزیشن تبدیل کرتے رہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔

اسی دوران کنال کے والد مرلیدھر چند گوڈے موقع پر پہنچ گئے اور اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے چٹان کے کنارے سے کھینچ لیا۔

تاہم اس کوشش کے دوران وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور اپنے بیٹے سمیت گہری کھائی میں جا گرے۔

اس واقعے کو دیکھ کر نوجوان کی ماں سنگیتا چند گوڈے کو شدید صدمہ پہنچا۔

بی بی سی مراٹھی کے مطابق ابتدائی معلومات کے تحت اپنے شوہر اور بیٹے کو کھائی میں گرتے دیکھنے کے بعد انھوں نے بھی خودکشی کر لی۔

’جان بچانے کے لیے جال بچھایا گیا‘

اس واقعے کے بارے میں سینئر پولیس افسر رامیشور گاڈے نے کہا کہ ’انھیں 21 اگست کو اطلاع ملی تھی کہ ایک شخص کھاودیا پہاڑی پر اپنی جان لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچیں اور نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی۔‘

پولیس کے مطابق ’نوجوان کو بچانے کے لیے نیچے حفاظتی جال بھی بچھایا گیا تھا، تاہم وہ مسلسل اپنی جگہ بدلتا رہا۔ اسی دوران ان کے والد وہاں پہنچ گئے اور اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش میں دونوں کھائی میں گر گئے۔‘

پولیس افسر کے مطابق ’اس کے بعد والدہ نے بھی چھلانگ لگا دی۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے انھیں بچانے کی بھرپور کوشش کی۔‘

پولیس نے بتایا کہ اس پہاڑی کی بلندی تقریباً 400 سے 500 فٹ ہے۔ ان کے مطابق ’موبائل فون پر ہونے والے جھگڑے نے پورے خاندان کو تباہ کر دیا۔‘

پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس واقعے کے بعد تیسگاؤں اور گرد و نواح کے علاقوں میں سنسنی اور افسردگی پھیل گئی ہے۔

پہاڑی کی بلندی تقریباً 400 سے 500 فٹ
UGC
اس پہاڑی کی بلندی تقریباً 400 سے 500 فٹ ہے جہاں سے نوجوان اور اس کے والد کی گر کر موت واقع ہوئی

اس واقعے کے ایک عینی شاہد سنجے جادھو نے بتایا کہ نوجوان تقریباً تین گھنٹے تک چٹان کے کنارے بیٹھا رہا اور مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے وہاں سے ہٹنے کی بار بار کی جانے والی اپیلوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک 18 سالہ نوجوان یہاں آیا اور چٹان کے کنارے جا بیٹھا۔ وہ صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک وہاں سے ہلنے کو تیار نہیں تھا۔ میں پولیس کے ساتھ موقع پر موجود تھا۔‘

سنجے جادھو نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ’تاہم نوجوان کسی کی بات سننے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس دوران وہ اپنی جگہ بدلتا رہا اور اپنی ماں سے بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں اسے ایسا نہ کرنے کی اپیل کر رہی تھی اور مسلسل سمجھا رہی تھی، لیکن وہ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ڈپریشن کا شکار تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تقریباً تین گھنٹے تک میں نے اسے سمجھانے اور نیچے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ آخرکار اس کے والد بھی وہاں پہنچ گئے۔ ہم نے سوچا کہ وہ اسے راضی کرکے بحفاظت نیچے لے آئیں گے۔‘

لیکن چند منٹ بعد اس کے والد نے اسے پکڑنے کی کوشش کی اور اسی دوران نوجوان اور اس کے والد دونوں نیچے گر گئے۔ اس کے بعد اس کی ماں نے بھی کھائی میں چھلانگ لگا دی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US