نئے صوبوں کے قیام پر اتفاقِ رائے ضروری ہے، طارق فضل چوہدری

image

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مفاد اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہو تو نئے صوبے ضرور بننے چاہئیں، تاہم اس اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر نجی ٹی وی کے پروگرام کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مثبت اور صحت مند بحث کا آغاز خوش آئند ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس بحث میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل ایک اہم قومی فیصلہ ہے جسے کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا یہ معاملہ پارلیمنٹ سے متعلق ہے اس لیے ایوان میں بھی اس پر تفصیلی بحث اور مشاورت ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اہم قومی اور انتظامی معاملات پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔

طارق فضل چوہدری نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 1950 میں صوبوں سے متعلق کمیشن تشکیل دیا گیا اور بعد ازاں انتظامی بنیادوں پر تبدیلیاں کی گئیں۔ بھارتی پنجاب سے ہماچل پردیش اور ہریانہ سمیت مزید صوبے وجود میں آئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام سے پاکستان کے بہترین مفاد میں انتظامی بہتری آتی ہے تو اس اقدام کی حمایت ہونی چاہیے تاہم اگر اس سے مزید تقسیم یا انتشار کا خدشہ ہو تو اس پہلو پر بھی مختلف آراء کو سامنے آنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ کھلے دل کے ساتھ صحت مند بحث، وسیع مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US