پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ایسی قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو بچوں کو سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی، استحصال، نقصان دہ مواد اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ فراہم کرے۔
Pakistan Social Media
Getty Images

پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مناسب قانون کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ درخواست وکلا یحییٰ فرید خواجہ اور جلال حیدر ملک کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس پر سماعت آئندہ ماہ ہو گی۔

درخواست میں ایسی قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو بچوں کو سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی، استحصال، نقصان دہ مواد اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ فراہم کرے۔

درخواست میں ایک ایسا فریم ورک بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں والدین کو بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر کنٹرول حاصل ہو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اپنی مخصوص ذمہ داریاں پوری کریں۔

پاکستان میں بچوں اور نو عمر افراد کے خلاف آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب اس معاملے پر باضابطہ طور پر عدالت سے رُجوع کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ’سوشل میڈیا (حدِ عمر برائے صارفین)، 2025‘ کے نام سے بل پیش کیا گیا تھا، لیکن تاحال یہ قانون نہیں بن سکا۔

یہ بِل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز سرمد علی اور مسرور احسن نے پیش کیا تھا۔

اس بِل میں بھی کہا گیا تھا کہ فیس بُک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ، بیگو لائیو، سنیپ چیٹ، یوٹیوب اور تھریڈز سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا جائے کہ وہ 16 برس سے کم عمر نوجوانوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ بصورت دیگر ان پلیٹ فارمز پر بھاری جرمانوں کی سفارش کی گئی تھی۔

یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا کم عمر افراد کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا ہی آن لائن خطرات کا حل ہے یا پھر پاکستان کو عمر کی موثر تصدیق، والدین کی نگرانی، پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور سائبر کرائم کے خلاف مؤثر کارروائی پر مشتمل ایک جامع نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے؟

Pakistan Children
Getty Images

درخواست میں آسٹریلیا اور برطانیہ کی مثالیں

درخواست میں بچوں کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن اور ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے حقوق پر جنرل کمنٹ (عمومی تبصرے) نمبر 25 کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے مارچ 2021 میں یہ کمنٹ منظور کیا تھا جسے بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کا بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے۔

یہ دستاویز واضح کرتی ہے کہ بچوں کے انسانی اور بنیادی حقوق جس طرح عام زندگی (آف لائن) میں مسلمہ ہیں، اسی طرح آن لائن یا ڈیجیٹل ماحول میں بھی یکساں نافذ العمل ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے بہترین مفادات، رازداری، تحفظ اور ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی سے متعلق آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور یورپی ممالک کے اقدامات کا ذکر بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں سنہ 2024 کو کم عمر افراد پر ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا گیا تھا۔

اس قانون میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کو اپنے اکاؤنٹس بنانے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ یہ قانون گذشتہ سال کے آخر میں نافذ العمل ہو گیا تھا۔

جبکہ برطانوی ادارے چائلڈ ایکسپلوئٹیشن اینڈ آن لائن پروٹیکشن کمانڈ کے مطابق زیادہ تر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کے لیے کم سے کم حدِ عمر 13 برس مقرر کی گئی ہے۔

’ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے‘

درخواست گزار یحییٰ فرید خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی ممالک میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے قانون سازی ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں بھی اس کی ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہو اور پلیٹ فارمز کو پابند کیا جائے کہ وہ اکاؤنٹ کھولتے وقت عمر کے تعین کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

’اگر اجازت ہو بھی تو وہ محدود پیمانے پر کڑی نگرانی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہو یعنی تعلیمی مقاصد، سماجی آگاہی یا مخصوص حالات میں بچوں کو یہ اجازت دینی چاہیے۔ لیکن جو نارمل سوشل میڈیا کا استعمال ہے اس پر پابندی ہونی چاہیے۔‘

فرید خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 16 سے 18 سال سے کم عمر بچوں کی آن لائن سیفٹی کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ چائلڈ میرج، جنسی استحصال اور بچوں کے خلاف دیگر جرائم پر تو قوانین موجود ہیں، لیکن آن لائن سیفٹی پر اب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

’سائبر بلیئنگ، بلیک میلنگ اور سائبر ہراسمنٹ پر پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔‘

’بل بہت جلد دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا‘

یحییٰ فرید خواجہ نے گذشتہ برس سینیٹ میں پیش کیے جانے والے بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل جولائی میں پیش کیا گیا لیکن ’سیاسی دباؤ‘ پر اگست میں واپس لے لیا گیا۔

لیکن اس بل کو پیش کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور احسن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اس بل کو جلد ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس پیش کیے جانے والے بل میں کچھ خامیاں تھیں، اس لیے اسے واپس لیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس بل کو زیادہ بہتر بنانے اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی وجہ سے ایک سال گزر گیا۔ لیکن اب یہ آخری مراحل میں ہے اور اُمید ہے کہ یہ پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور بھی ہو جائے گا۔

سینیٹر مسرور احسن کا کہنا تھا کہ کچھ چیزوں پر غور و خوض جاری ہے، خاص طور پر عمر کی حد پر کیونکہ بلوغت کی عمر 18 برس ہے۔ اس لیے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بچوں کی آن لائن سیفٹی آج کے دور میں والدین کی بڑی تشویش ہے اور قانون سازوں کو اس بات کا ادراک ہے۔

سینیٹر مسرور احسن نے بتایا کہ بل کے ذریعے سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ بچوں کی آن لائن سیفٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US