انگلش کپتان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہتے ہوئے میں حد سے تجاوز کر رہا ہوں کہ وہ (کارس) بہت زیادہ پریشان اور شرمندہ ہیں اور اپنے عمل کی نوعیت کو سمجھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب انھیں موقع ملے گا تو وہ خود یہ بات کہیں گے۔‘

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ کا کہنا ہے کہ وہ ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں فاسٹ بولر برائیڈن کارس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ’سخت برہم‘ اور ’مایوس‘ ہیں۔
31 سالہ کارس کو پاکستان کے خلاف اس ہفتے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں کارس کو سنیچر کی شب ڈربی میں ایک نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔ اُنھیں کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا اور بعدازاں رہا کر دیا گیا۔
روٹ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے آغاز میں کہا ’اگر میں بالکل صاف بات کروں تو میں واقعی بہت برہم اور مایوس ہوں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے کی کارکردگی کے بعد ہم یہاں بیٹھے ہیں اور ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے انگلینڈ نے لیڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز کی شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی تھی۔
انگلش کپتان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہتے ہوئے میں حد سے تجاوز کر رہا ہوں کہ وہ (کارس) بہت زیادہ پریشان اور شرمندہ ہیں اور اپنے عمل کی نوعیت کو سمجھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب انھیں موقع ملے گا تو وہ خود یہ بات کہیں گے۔‘
’لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مسئلہ صرف یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم کھیل سے ہٹ کر مسلسل احمقانہ غلطیاں کر رہے ہیں اور اس سے میدان میں ہماری کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ اکتوبر میں انگلینڈ کے وائٹ بال کے کپتان ہیری بروک کو نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ایک نائٹ کلب کے باہر باؤنسر نے گھونسا مارا تھا اس دوران انگلش ٹیم کے کھلاڑی جیکب بیتھل اور جوش ٹونگو بھی موجود تھے۔
آسٹریلیا کے ایشیز دورے کے دوران، اوپنر بین ڈکٹ کو نوسا میں انگلینڈ کی چھٹیوں پر بظاہر نشے میں دیکھا گیا تھا۔

سنیچر کی شب ہوا کیا تھا؟
اتوار کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں 31 سالہ برائیڈن کارس کو سنیچر کی شب ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا۔
ڈربی شائر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق ’30 سال کی عمر کے ایک فرد کو سنیچر کی شب 22 اگست کو ڈربی سٹی سینٹر میں نشے میں ہنگامہ آرائی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’مذکورہ شخص نے علاقہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی جس کے کچھ ہی دیر بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔‘
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اس واقعے کو کرکٹ کے آزاد نگران ادارے ’کرکٹ ریگولیٹر‘ کے حوالے کر دیا ہے، جو معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ تحقیقات کے پیش نظر برائیڈن کارس کو سکواڈ سے باہر کر کے ان کی جگہ سونی بیکر کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ انگلینڈ کی ٹیم سے وابستہ حالیہ آف دی فیلڈ واقعات کی ایک اور کڑی ہے۔ کارس اس موسم گرما میں نظم و ضبط سے متعلق معاملے کے باعث ٹیسٹ میچ سے محروم ہونے والے انگلینڈ کے تیسرے کھلاڑی ہیں۔
ای سی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ای سی بی کی جانب سے معاملہ ریفر کیے جانے کے بعد ’کرکٹ ریگولیٹر‘ نے تصدیق کی ہے کہ وہ سنیچر کی شب ڈربی میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کرے گا۔‘
بیان کے مطابق ’تحقیقات جاری رہنے اور واقعے سے متعلق مکمل حقائق سامنے آنے تک برائیڈن کارس دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔‘

کارس انگلینڈ کی اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شرکت کی، تاہم ہیڈنگلے میں کھیلا گیا یہ میچ میزبان ٹیم نے تین دن کے اندر ایک اننگز سے جیت لیا تھا۔
پہلے ٹیسٹ کی پلیئنگ الیون میں جگہ نہ ملنے کے بعد کارس کو ڈرہم کی جانب سے ’ڈویژن ٹو‘ کی ٹاپ ٹیم ڈربی شائر کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے ریلیز کر دیا گیا۔ ڈرہم نے سنیچر کی شام یہ میچ جیت لیا۔
میچ میں کامیابی کے بعد ڈربی کے نائٹ کلب کے باہر کارس کی ہتھکڑیوں میں ایک ویڈیو سامنے آئی۔ یہ واقعہ لارڈز میں پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ سکواڈ کے ساتھ دوبارہ شامل ہونے کے لیے لندن روانہ ہونے سے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے پیش آیا۔
ویڈیو میں کارس کے ساتھ ڈرہم ٹیم کے ہی کھلاڑی میتھیو پوٹس بھی موجود تھے، جبکہ سابق انگلش کپتان بین سٹوکس کو پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سٹوکس اگرچہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں تاہم وہ اب بھی پوٹس اور کارس کی ہی طرح انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ پر ہیں۔
جون میں سٹوکس اور گس اٹکنسن لندن کے ایک نائٹ کلب میں موجود تھے، جہاں انگلینڈ کی سکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کو سارسینز کے ایک رگبی کھلاڑی نے پیٹا تھا۔
واقعے کی تحقیقات کے دوران دونوں کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر رہے تھے اور بعد ازاں انھیں اپنے طرزِ عمل پر تحریری وارننگ دی گئی تھی۔
سٹوکس اور اٹکنسن نے انگلینڈ کی ٹیم کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی، جو موسم سرما میں رات گئے پیش آنے والے چند واقعات کے بعد نافذ کی گئیں تھیں۔
نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ہیری بروک کو ایک نائٹ کلب کے باہر سکیورٹی گارڈ نے مکا مارا تھا، جبکہ بین ڈکٹ کی ایشز سیریز کے دوران نوسا میں چھٹیوں کے موقع پر بظاہر نشے کی حالت میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی۔
سٹوکس کی جگہ انگلینڈ کی کپتانی سنبھالنے کے بعد جو روٹ نے اپنے دوسرے دورِ کپتانی کا آغاز کرفیو ختم کرکے کیا۔ میچوں کے دوران اور عوامی مقامات پر کھلاڑیوں کے شراب کے استعمال سے متعلق ہدایات میں بھی نرمی کی گئی۔
پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل روٹ نے اپنے کھلاڑیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ’ایک اچھے رول ماڈل اور اچھے انسان‘ کے طور سامنے آئیں۔

روٹ نے بی بی سی سپورٹ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’آپ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کی بہترین انداز میں نمائندگی کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حالیہ کچھ عرصے میں چند مواقع پر شاید ہم اس معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ اس کی اصلاح کے لیے ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ بہت اچھے رول ماڈل اور اچھے انسان بنیں اور میدان میں انتہائی مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔‘
سنہ 2024 کے موسم گرما میں کارس کو ماضی میں بیٹنگ سے متعلق خلاف ورزیوں پر تین ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے کیریئر میں بہتری کی کوشش کی اور اپنے آپ کو دوبارہ سنبھالا اور اب وہ انگلینڈ کی تینوں فارمیٹس میں مستقل کھلاڑی بن کر سامنے آئے ہیں۔
اکتوبر سنہ 2024 میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے کے بعد سے انگلینڈ کے کسی بھی بولر نے کارس سے زیادہ وکٹیں نہیں لیں۔ اس عرصے میں انھوں نے 58 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
یہ بھی امکان کم تھا کہ کارس لارڈز ٹیسٹ میں کھیلتے، بلکہ غالب امکان یہی تھا کہ وہ ہیڈنگلے ٹیسٹ میں کھیلنے والے انگلینڈ کے چار مرکزی فاسٹ بولرز کے بیک اپ کے طور پر سکواڈ میں شامل رہتے۔
کارس کو سکواڈ سے باہر کیے جانے کے بعد 23 سالہ ایم بی ایکر کے لیے ایک اور موقع پیدا ہو گیا ہے، جنھوں نے جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں اپنا واحد ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔