جس وقت نرسری میں آگ لگی، وہاں عملہ موجود نہیں تھا۔ ہمیں صرف اتنا بتایا گیا کہ ہمارے بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا۔ ہمارے بچے کہاں گئے؟ ہم میں سے کسی نے اپنے بچے کے کپڑے تک نہیں دیکھے۔ ہمیں کیسے یقین ہو کہ ہمارے بچے واقعی جھلسنے سے ہی جاں بحق ہوئے؟
متاثرہ والدہ نے دل دہلا دینے والے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کے بعد ایک گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر یا اسپتال کا عملہ ان کے پاس نہیں آیا۔ ان کے بقول یہ بات بھی ناقابلِ فہم ہے کہ نرسری میں اتنا بڑا سانحہ پیش آیا، مگر دوسرے وارڈز میں موجود کسی شخص کو معمولی خراش تک نہیں آئی۔
والدین نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا اور انہیں اپنے بچوں کی موت کے بارے میں صرف اطلاع دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ والدین کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں شواہد اور اپنے بچوں کی شناخت کے حوالے سے مکمل تسلی نہیں دی جاتی، ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات ختم نہیں ہوسکتے۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 15 بچے جاں بحق ہوگئے۔ سانحے کے بعد غم زدہ والدین نے اسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔