وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پمز اسپتال واقعے پر اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جس میں متعلقہ افسران اور اداروں کے سربراہان کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان ہوں گے، جبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان سمیت دیگر حکام کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی، ایس پی سٹی، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز اسپتال کے افسران شامل ہیں۔
ضلعی انکوائری کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ پمز اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی لاپرواہی کے باعث یہ واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار کو نہیں چھوڑا جائے گا، جبکہ اگر واقعے میں ان کی اپنی غلطی ثابت ہوئی تو انہیں بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔