مریضہ حاملہ نہیں تھی، ناظم آباد کے نجی اسپتال میں حاملہ خاتون کا معاملہ مزید پیچیدگی کا شکار

image

کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال میں خاتون کی مبینہ ڈیلیوری اور آپریشن کا معاملہ معمہ بن گیا ہے۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ خاتون 38 ہفتوں کی حاملہ تھیں اور ان کے پاس حمل سے متعلق الٹراساؤنڈ سمیت تمام ریکارڈ موجود تھا، تاہم آپریشن کے بعد انہیں بتایا گیا کہ بچہ موجود نہیں تھا اور خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کو ڈیلیوری کی تاریخ کے پیش نظر اسپتال لے کر آئے تھے۔ ان کے مطابق خاتون کے حمل سے متعلق کئی ماہ کا طبی ریکارڈ موجود ہے، جس کی بنیاد پر انہیں یقین تھا کہ وہ بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال پہنچی ہیں۔ آپریشن کے بعد جب عملے نے حمل نہ ہونے کی بات بتائی تو خاندان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال میں احتجاج کیا۔

واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے شعبہ زچہ و بچہ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا ویڈیو بیان سامنے آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاتون پہلی مرتبہ فروری میں اسپتال آئیں اور اس وقت انہوں نے خود کو تقریباً تین ماہ کی حاملہ بتایا تھا، تاہم اسی ماہ ہونے والے الٹراساؤنڈ میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر انجم آرا کے مطابق خاتون بعد میں بھی مختلف مواقع پر اسپتال کی ایمرجنسی میں آتی رہیں، لیکن شعبہ گائنی کی سربراہ سے باقاعدہ معائنہ نہیں کرایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مریضہ کی فائل میں موجود بعض معائنے کے اندراج اور دستخط جعلی پائے گئے، جبکہ ایک دوسرے اسپتال کی الٹراساؤنڈ رپورٹ بھی مبینہ طور پر پیش کی گئی جس میں خاتون کو حاملہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر انجم آرا کا کہنا ہے کہ انہی رپورٹس اور ابتدائی معائنے کی بنیاد پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے آپریشن کا فیصلہ کیا، تاہم کارروائی کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔ ان کے مطابق اب ایم ایل او اور دیگر لیبارٹری رپورٹس بھی موصول ہوچکی ہیں، جن سے طبی طور پر حمل موجود نہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ایک اور اہم امکان کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق جس نام سے حمل کا کارڈ موجود تھا، ممکن ہے وہی خاتون آپریشن کے لیے اسپتال نہ آئی ہوں، جبکہ اسپتال پہنچنے والی خاتون حاملہ نہیں تھیں۔ اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے گزشتہ کئی ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ خاتون حمل کے دوران مسلسل اسپتال آتی رہی تھیں یا کسی مرحلے پر کوئی اور خاتون سامنے آئی۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں اور طبی شواہد حاصل کرنے کے لیے عباسی اسپتال کے ایم ایل او سے معاونت طلب کی گئی ہے۔ متاثرہ خاندان سے الٹراساؤنڈ رپورٹس، میڈیکل فائل اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی مانگی گئی ہیں۔

فی الحال معاملہ دونوں جانب سے سامنے آنے والے متضاد دعوؤں کے درمیان ہے۔ خاندان اپنے طبی ریکارڈ کی بنیاد پر حمل کا مؤقف پیش کر رہا ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر حمل نہ ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ پولیس کی تحقیقات اور سی سی ٹی وی سمیت طبی ریکارڈ کی جانچ سے ہی اس غیر معمولی واقعے کی اصل حقیقت سامنے آسکے گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US